کیا آپ جانتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں
کہ بچھڑنے والے دو طرح کے ہوتے ہیں
ایک وہ
جو مر جاتے ہیں
اور دوسرے وہ
!جو مرتے تو نہیں لیکن کسی وجہ سے ہمیشہ کے لئے دور چلے جاتے ہیں
مرنے والوں کا غم منانے کے بہت سے آسان طریقے ہیں
کوئی روتا ہے, بین کرتا ہے, تو کسی کو اپنے بال نوچ کر تسکین ملتی ہے.
یہاں تک کہ میں نے بہت سے لوگوں کو سینہ کوبی کرتے بھی دیکھا ہے.
مرنے والوں کے دکھ میں یہ کہہ دینا بھی تسکین کا ایک پہلو ہے کہ
"کُل نفس ذائقة الموت"
موت پر کسی کا بس نہیں
لیکن
زندہ بچھڑ جانے والوں کا غم منانا ہم دنیا دار لوگوں کے لئے اتنا سہل نہیں
ہم نہ تو مجنوں کی طرح صحرا نوردی کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بال نوچ سکتے ہیں
اگر دیوانہ وار بین کرینگے تو دنیا رونے کا سبب دریافت کرے گی
اس پر یہ تسلی بھی تو نہیں کہ بچھڑنے والا خدا کی پناہوں میں واپس لوٹ گیا ہے
اگر آپ کے پاس ایسا کوئی فارمولہ ہے جس سے آہ و فغاں کئے بغیر, زندہ بچھڑنے والوں کے غم میں کمی لائی جا سکے
تو خدارا مجھے بھی لکھ بھیجو..
میں شدت سے آپ کے جواب کی منتظر ھوں
!!!
زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں
جن سے ہمارا کوئی مفاد نہیں جڑا ہوتا
.......
پھر بھی وہ ہمارے لئے ضروری ہوتے ہیں...... ۔
اندھیری شب میں کسی ستارے کی مانند....جن کے وجود کی روشنی ہماری زندگی کے اندھیرے راستوں کو منور کرتی چلی جاتی ہے
......
بظاہر وہ ایک بے نام سا تعلق..کبھی دوستی کے پردے میں چھپا...یا کبھی ایسا رشتہ جس کا کوئی نام ہی نہ ہو....
لیکن سب سے جدا سب سے اہم محسوس ہوتا ہے
یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی وقت اس خوبصورت رشتے کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جائے گی۔ پھر بھی وہ ہمیں عزیز ہوتے ہیں۔
ایک ایسا رشتہ جسے ہم کھونا بھی نہیں چاہتے اور کوئی نام بھی نہیں دے پا تے۔
ہوتے ہیں نہ ایسے خوبصورت لوگ جو دل کے کونے میں خاموشی کے ساتھ جگہ بنالیتے ہیں۔۔اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہماری دعاؤں میں زندہ رہتے ہیں
...!!
کوئی کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو
کوئی کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو... وہ کبھی نہ کبھی انجانے میں ہی سہی لیکن کسی کو دکھی کرنے کا سبب بن ہی جاتا ہے... اور جب اسے رب کی طرف سے یہ سزا آزمائش کے طور پہ ملتی ہے تو وہ اپنی نہ کردہ غلطیوں کی کھوج میں لگ جاتا ہے... جب کہ اس نے کوئی جرم یا غلطی نہیں کی ہوتی بس اپنی اچھائی وجہ سے دل توڑ دیا ہوتا ہے... اسے محسوس تک نہیں ہوتا اور کسی کے دل سے نکلی بے آواز آہ اسکی تمام نیکیوں پہ بھاری پڑ جاتی ہے
...
یقین توڑے
یقین توڑے
گمان چھینے
ملے جو فرصت تو سوچنا تم،
تمہارے لفظوں نے میری آنکھوں سے
کیسے کیسے جہان چھینے
سکون لے کر
قرار لے کر
بس ایک پل میں جھٹک کے دامن
بدل کے رستہ چلے گئے ہو
شکستگی کے عذاب دے کر
وہی ہیں آنسو،
وہی ہیں نالے،
جسے محبت میں عمر طے کر کے یہ خبر ہو
کہ راستے ہی غلط تھے سارے
بتاؤ ہمدم ذرا یہ مجھکو،
وہ اشک روکے یا دل سنبھالے؟
وہ کیسے دل سے تمہیں نکالے؟؟؟
Subscribe to:
Comments (Atom)









