عجیب ہے زندگی بھی
عجیب ہے زندگی بھی
پل میں نیل پار کروا کر امید دیتی ہے
اور پل میں ہی نمرود کی آگ کا ایندھن بناتی ہے
پل میں ہزاروں سپنے سجاۓ یہ آنکھیں کھولتی ہے
اور پل میں منوں مٹی تلے دفنا دی جاتی ہے
پل میں اشکوں کے دریا بہا کر
وہ لڑکی خوش ہوتی ہے
اور پل میں ہی اداسیوں کے بھنور
میں ڈوب کر وہ خاموش ہوجاتی ہے
کیوں کہ زندگی عجیب ہے بہت
جب سے تنہا سفر شروع کیا ہے
جب سے تنہا سفر شروع کیا ہے تو شدت سے احساس ہونے لگا ہے کہ لوگوں کا ہجوم کبھی بھی روح کا ساتھی نہیں ہوتا... ہر شخص اپنی اپنی منزل کی طرف رواں ہے کوئی بھی ہماری خاطر اپنے راستے نہیں بدلتا.... بس ہم اپنے راستے چھوڑ کر ان کے راستوں پہ چل پڑتے ہیں اور انجانے راستوں پہ منزلیں کہاں ملتی ہیں؟؟؟ بس گر د راہ ہونا ہی نصیب میں آتا ہے...
راستے اپنے ہی اچھے..... نہ کوئی قافلہ نہ کسی راہزن کا ڈر.... نہ کسی کے ہاتھ چھوڑ جانے کا خوف ہے... نہ کسی کی راہ بدل جانے کا اندیشہ
....🔥
Subscribe to:
Comments (Atom)







