Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

جاتے سمے تمہارے مڑ کر نہ دیکھنے نے

جاتے سمے
تمہارے مڑ کر نہ دیکھنے نے 
ثابت کیا تھا کہ
روشنی سیدھی لکیر میں سفر کرتی ہے ۔

لوگ کہتے ہیں محبوب کو دیکھنے سے سانسیں دُگنی ہوجاتی ہیں_

لوگ کہتے ہیں محبوب کو دیکھنے سے سانسیں دُگنی ہوجاتی ہیں_
پر میں اُسے دیکھتی ہوں جس لمحے مجھے لگتا ہے ہوائیں رُک گئیں ہیں حبس بڑھ گیا ہے_
سانسیں چلتی تو ہیں لیکن میں سانس پورا نہیں لے پاتی_
آدھی سانس بمشکل کھینچتی ہوں تو آدھی سانس سینے کے اندر ہی کہیں گُھٹ جاتی ہے_
اور سانسوں کی یہ بےترتیبی میرے چہرے کی رنگت میں نیلاہٹ لانے لگی ہے_
سانسوں کے آدھے اور پورے اِس کھیل کے چکر نے مجھے پاگل بنا دیا ہے_

یا تو مجھے مکمل سانس آئے یا پھر
یا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔


اگر آپ کسی سے تعلق ختم کرنے کے لیے

اگر آپ کسی سے تعلق ختم کرنے کے لیے سامنے والے کو بے جا ذلیل کرتے ہیں کہ چلو ایسے یہ بندہ خود ہی چھوڑ جائے گا لیکن سامنے والا روز آپکی بدتمیزیوں کو چپ چاپ سہہ لیتا ہے کیونکہ اس کو آپ سے محبت ہے تو یقین جانیں آپ سے زیادہ کم ظرف اس دنیا میں کوئی بھی نہیں۔

زمین پیروں سے کتنی بار اک دن میں نکلتی

زمین پیروں سے کتنی بار اک دن میں نکلتی ہے🥀
میں ایسے حادثوں پہ دل مگر چھوٹا نہیں کرتی✨

اپنے رب سے ہر حال میں خوش گمان رہیں


اپنے رب سے ہر حال میں خوش گمان رہیں اور جان لیں جو نعمت آپ کو ملنی ہے وہ ہر حال میں مل کر رہے گی بھلے اس کا رتی بھر بھی امکان نظر نہ آئے...

کبھی بھی میں یہ نہیں کہوں گی

کبھی بھی میں یہ نہیں کہوں گی کے مجھے زندگی میں کسی بھی چیز کے کھونے کا غم نہیں ہے میں یہ بھی نہیں کہوں گی کے مجھے ہر شے مل جانے کی خوشی بہت ہے میں سوگ اور بہار کے درمیان سلگتی بھی نہیں رہوں گی میں بس اتنا کہوں گی زندگی نے مجھے قدم قدم یادگار بنا دیا...

ﻭﮦ ﺑﺎﻝ ﭘﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ نہیں تھی۔۔۔۔!

ﻭﮦ ﺑﺎﻝ ﭘﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ نہیں تھی۔۔۔۔!
بلکہ لیڈ پینسل ﮐﯽ ﻃﺮﺡ تھی۔۔۔۔۔💕
ﺟﺐ جہاں ﻟﻮﮒ ﺍﺱ سے بیزار ہوتے تھے۔۔۔۔ : 
ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﻭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪگیوﮞ سے ﺧﻮﺩ ﮨﯽ اِﺭیز کرﺩیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕
 ﻭﮦ ﺍتنی ﺧﻮﺩﺍﺭ تھی۔۔۔
ﮐﮧ
ﺧﻮﺩ تو ﺍﺫﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔
مگر
ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ خوشیوں کا ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺭتے ہوئے
 ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ سے
ﺍپنا ﺁﭖ ہمیشہ ہمیشہ ﮐﮯ لیے مٹا دیتی تھی 


رات کا وہ پہر تھا

رات کا وہ پہر تھا جب ہر طرف خاموشی اور سکون طاری تھا۔سب لوگ سکون کی نیند سو رہے تھے لیکن اللہ والوں کے بستر تو اس وقت خالی ہوا کرتے ہیں اور وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس کی آنکھ کھلتی ہے وہ کلمہ پڑھنے کے بعد موبائل کی سکرین روشن کر کے وقت دیکھتی ہے تو اس کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھتا ہے کہ اللہ نے آج بھی اسے چن لیا ہے کہ وہ اپنی نیند کو اللہ کی محبت کی خاطر قربان کرکے اس سے ہم کلام ہو وہ خاموشی سے اٹھتی ہے اور وضو کرتی ہے ۔وضو کے پانی کا ہر موتی جیسے جیسے اس کے جسم کو تر کر رہا تھا ویسے ویسے اس کا جسم اطمینان سے بھرتا جا رہا تھا۔ آخر وہ لاڈلی نماز کے لیے آ کھڑی ہوتی ہے۔ معمول کی طرح وہ آج بھی یہ بات دھراتی ہے کہ "دلوں کی توجہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
وہ اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) اسی رحیم، رحمان و کریم پروردگار کی خاطر وہ اپنی نیند قربان کرکے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہے ۔وہ اس بات کا اقرار کرتے ہوئے دنیا کی تمام تر سوچوں اور خواہشات سے بےخبر اس عظیم ذات سے اپنا تعلق جوڑتی ہے۔ سجدے میں جاتے ہی جیسے اس کے بےترتیبی سے دھڑکتے دل کو قرار آجاتا ہے ۔ اس کی ٹوٹی ہوئی سانسیں ٹھیک ہونے لگتی ہیں اور اس کے جسم کی  کپکپاہٹ تھم سی جاتی ہے۔ بہت دیر سجدے میں رہنے کے بعد جب وہ سر اٹھاتی ہے تو جیسے اس تنہا، سیاہ، خاموش رات میں اسے اطمینان مل گیا ہو سلام پھیر کر وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور آنسوؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اسے کہاں خبر تھی کہ اس کی آنکھوں سے گرنے والے یہ پانی کے قطرے اس عظیم ذات کے ہاں قیمتی موتیوں کی سی اہمیت رکھتے ہیں۔دعا کے لیے دوبارہ ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن بےسود۔ آخر وہ بےبس ہوکر اپنی عاجزی کو ظاہر کرتے ہوئے، اپنے ساری انا کو قربان کرکے، خود کو خاک تسلیم کرکے سجدے میں گر جاتی ہے۔ بڑی مشکل سے زبان سے چند الفاظ ادا ہوتے ہیں، تیرا دیدار، تیرا دیدار۔اس متکبر، سمیع البصیر ذات کا دیدار۔اس کے جسم کی تھرتھراہٹ اس بات کی وضاحت کر رہی تھی کہ وہ آج بھی بہت تڑپ اور شدت سے اللہ سے کچھ مانگ رہی ہے ۔ اس کا سارا وجود ربِ کائنات سے ایک ہی فریاد کر رہا تھا۔ اس کے دل پر بار بار یہ خواہش دستک دے رہی تھی کہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ اپنے رب کے حضور التجا کرتی رہے۔
اور تہجد تو کامل ایمان ہے ۔ ہاں تہجد عشق ہے۔


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

🌾✨ ‏بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ✨🌾

🌾🌺 اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ(ﷻ) کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 🌺🌾

🌾📖 سورة البقرہ ☜ آیت ٢٨١ 🌠🌾

مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں

مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں 
جب گھر کے ایک کونے میں سب سے چھپ کر اوٹ پٹانگ شاعری لکھا کرتی تھی اپنی ہر بات لکھ کر ان پہ تاریخیں ڈالا کرتی تھی تنہا رہنا برا نہیں لگتا تھا خود سے ہمکلام ہوا کرتی تھی بے فکری سے زندگی جیا کرتی تھی 
جانے کہاں کھو گئی وہ بے فکری وہ زندگی کی رنگین شامیں مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں بہت یاد آتی ہیں ۔

یومِ عرفہ کی فضیلت



*9 ذوالحج یعنی عرفہ کا دن ،دین اسلام کی تکمیل کا دن ہے*

📚عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین!
تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔
آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۃ المائدہ کی یہ آیت)

 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا''

”آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا۔ "


عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،
کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ  عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
(صحیح البخاری،ﻛﺘﺎﺏ اﻹﻳﻤﺎﻥ
ﺑﺎﺏ ﺯﻳﺎﺩﺓ اﻹﻳﻤﺎﻥ ﻭﻧﻘﺼﺎﻧﻪ، حدیث نمبر، 45)

*یوم عرفہ حاجیوں اور غیر حاجیوں کی معافی کا دن*

📚نبیﷺ نے فرمایا: 
جب تم دوپہر دوپہر کے بعد عرفات میں کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرشتوں سے تم پر فخر کرتا ہے ، 
فرماتا ہے کہ میرے بندے میرے پاس  کھلے اور گہرے راستے سے پراگندہ حالت میں آئے ہیں، جو میری رحمت و جنت کے امیدوار ہیں ، پس اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں یا بارش کے قطروں یا سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تو میں انہیں بخش دوں گا، 
میرے بندو!
لوٹ جاؤتم بخشے بخشائے ہو اور ان کی بھی مغفرت ہے جن کی تم نے سفارش کی ۔
(صحیح الترغیب والترهیب :1112)


مجھے مانگے ہوۓ ساۓ

مجھے مانگے ہوۓ ساۓ 
 ہمیشہ بھیک لگتے ہیں
 اس لئے دھوپ میں ہی چلتی ہوں🥀🖤

اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے


اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے تو ایسا ہی ھو گا کوشش کریں اپنے پاؤں پہ کھڑیں ہوں تاکہ کوئی آپ کی یہ حالت نہ کر سکے.

اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے


اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے گویا کہ اس کی ٹرین ہی چھوٹ رہی ہو, ایسے حالات شاعری یا محبت کے لیے بالکل بھی موافق نہیں ہوتے۔

Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota





Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota
Chahton ki durri bhi,
Torna hi parti hai
Manzilon ki kashti bhi,
Morna hi parti hai
Bhoolna hi parta hai,
Khud say piyare lougon ko
Aur dil ke aangan mein,
Naqsh un ki tasweerain
Kuch haseen lafzon ki,
Kuch haseen tehreerain
Paaon jin mein jukrain hoon,
Kholna hi parti hain..
Khoobsurat aankhon mein basnay walay khawabon ko
Nochna hi parta hai
Dil se milta her rishta torna hi parta hai...
Kyun ke....
Izzaton se barh ker to aur kuch nahi hota....!




سب لہجے اپنے اندر کہیں جذب کرلیا کیجئے

سب لہجے اپنے اندر کہیں جذب کرلیا کیجئے
سمجھ لیجئے! حاصل کچھ نہیں شکوے کرکے! 

سب خواہشیں تھیں سراب سی

سب خواہشیں تھیں سراب سی
بلبلہِ آب سی
میرے خواب نکلے ہیں رائیگاں
محض سمے کا زیاں
زیست ہے ایک کٹھن سوال
بنا ہے جو جاں کا وبال
 چاہِ اجل بھی گناہ ہوئی
اور زندگی بھی سزا ہوئی
امیدیں سب گھائل سی ہیں
میری ہمتیں زائل سی ہیں 
نارسائی کے سبھی عذاب سہتے تھک چکی میں
کھونے والوں کے غموں کو روتے روتے تھک چکی میں
اس پہ پھر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے
میرے مقدر پہ چھائی تیرگی بھی دیکھئے
اختیار میں میرے فرار کی کوئی راہ بھی نہیں رہی 
دلِ مضطرب کو اب قرار کی کوئی چاہ بھی نہیں رہی ۔


سفر کے لیے کسی مشہور ترین

سفر کے لیے کسی مشہور ترین شاہراہ سے بہتر کوئی سنسان
پتھریلا راستہ ہے جہاں نا لوگوں کا ہجوم ہو اور نا ہی سفری سہولت ہو___ اونچے نیچے راستوں پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دھیرے دھیرے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے
منزلوں سے حسین راستے ہی تو ہیں جہاں چلتے محبت کی شوخ سی ادا میں پیڑوں پر نام گڑھ دئیے جاتے ہیں جو صدیوں تک کھڑے پیڑوں کے سینوں پر نقش رہتے ہیں___!!

شب روز تو معمول کی طرح ہی گزریں گے

شب روز تو معمول کی طرح ہی گزریں گے.. 
تو یاد رہے گا اے مخلص..  بھروسہ رکھ.!

لوگ تو اور بھی عزیز ہیں لیکن..
تو جاں سے بڑھ کے ہے پیارا  بھروسہ رکھ!

دور کر کے تجھے خود سے مطمئن تو میں بھی نہیں.. 
یہی حالات کا تقاضہ تھا..  بھروسہ رکھ..!

 
یہ بھرم قائم رہنا نہیں آساں اتنا...
میں پھر بھی کہہ رہی پیارے بھروسہ رکھ..!


ﻋﺠﺐ ﮨﮯ ﺭﻧﮓِ ﭼﻤﻦ، ﺟﺎ ﺑﺠﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ

ﻋﺠﺐ ﮨﮯ ﺭﻧﮓِ ﭼﻤﻦ، ﺟﺎ ﺑﺠﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻣﮩﮏ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ، ﺑﺎﺩِ ﺻﺒﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ، ﯾﮧ ﺑﮭﻼ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﮨﻮﮞ، ﮨﺎﮞ ﺑﺲ ﺫﺭﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻣﺒﺘﻼ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺟﻮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﺎ، ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﮔﺪﺍﺯِ ﻗﻠﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ؟
ﻋﻈﯿﻢ ﻭﺻﻒ ﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﺷﺪﯾﺪ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺭﻭ ﮨﮯ ﺭﻭﺍﮞ ﺭﮒِ ﺟﺎﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﻼ ﮐﺎ ﺭﻧﺞ ﮨﮯ، ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺑﮍﮮ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﭘﺲِ ﻭﺻﺎﻝ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺳِﻮﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﺟﻮ ﺧﺰﺍﻧﮯ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮﮞ
ﻣﺮﯼ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮯ ﺑﮩﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﭼﮭﭗ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ
ﺟﮭﻠﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﯾﺮِ ﻗﺒﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞِ ﮐﻮﻥ ﻭ ﻣﮑﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ
ﻣﺮﺍ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻓﻠﮏ ﮨﮯ ﺳﺮ ﭘﮧ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻼ ﮨُﻮﺍ
ﺯﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﺮﮮ ﺯﯾﺮِ ﭘﺎ، ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻏﺰﻝ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺁﺝ ﻣﺤﺮﻡِ ﺩﺭﺩ
ﺳﺨﻦ ﮐﯽ ﺍﻭﮌﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺭﺩﺍ، ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺍﺣﻮﺍﻝ
ﻋﺠﯿﺐ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮐﯿﻒِ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻏﺎﻟﺒﺎً ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﻣﺰﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ


میرےزخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں

میرےزخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں 
میں تنہا پیڑ ہو جنگل کا میرے پتے جھڑتے جاتے ہیں
میں کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں اک تیری کب ہوں سب کی ہوں 
مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی میں کوئل ہوں صحراؤں کی
اک دلدل ہے تیری یادوں کی میرے پیر اکھڑتے جاتے ہیں
میرے زخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں 
میں کس پنجرے کی چڑیا تھی میں کس بچے کی گڑیا تھی 
مجھے کھیلنے والے کہاں گئے مجھے چومنے والے کہاں گئے 
میرے جھمکے گروی مت رکھنا میرے کنگن توڑ نہ دینا 
کبھی ملنا اس پر سوچیں گے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے
رستے میں ہی لڑتے جاتے ہیں
میرے زخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں



سنو لڑکی

سنو لڑکی 
یہ الجھنوں کی گتھی 
تم زمانے کے لیے رہنے دو
تم ابھی خواب دیکھو,
 بال سنوارو,
 نظمیں پڑھا کرو
یہ سنجیدگی کا پہناوا 
سجتا نہیں تم پر 
ربط رکھو تم بہار سے 
تم شوخ رنگ میں آیا کرو! 💙


ہیں یہ سب لفظ مایا جال

ہیں یہ سب لفظ مایا جال
بنے تیری جان کا وبال
پڑھ کے چہرے کے خدو خال
تو جان گیا میرے دل کا حال 
گر یہی ہے تیرا خیال 
تو پھر اے قیافہ شناس شخص!!
آفرین ہے تجھ پر :)🌼

کسی کا برا نہ چاہنا وہ نیک عمل ہے

کسی کا برا نہ چاہنا وہ نیک عمل ہے جس کے صدقے آپکو ان مصیبتوں سے بچا لیا جاتا ہے جو عمومی طور پہ انسان کو تباہ کر دیتی ہیں 🌼

دلدل صرف زمین پر ہی نہیں ہوتی

‏دلدل صرف زمین پر ہی نہیں ہوتی بلکہ دلدل جیسی خصوصیات ذہن میں پیدا ہونے والے کئی خیالات میں بھی پائی جاتی ہے جن میں پھنسنے کے بعد نکلنا مشکل ہوجاتا ہے. 

انتظار خوبصورت ہے

انتظار خوبصورت ہے 
بھلے وہ ٹائپنگ کا عندیہ دیتے ہوئے نقطوں کو دیکھتے ہوئے اسکے الفاظ کا ہو 
اسکی گہری پرسکون سانس سنتے ہوئے آواز کا 
یا پھر زندگی بھر کو تکنے کیلئے اسکی راہ کا 
کیونکہ محبت کی شدت وصال سے پہلے کے لمحوں میں شامل تڑپ پر محیط ہوتی ہے 
کیونکہ صبر جس قدر طویل ہو گا 
انعام اسی قدر حسین ہو گا ۔

زندگی کبھی بھی, کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی

زندگی کبھی بھی, کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی 
اللہ پر توکل کا مطلب یہ نہیں کہ آپکی زندگی میں 
مشکلات نہیں آئیں گی,
 بہتری کے راستے پر چلنے کا یہ مطلب نہیں کے اب دکھ نہیں آئیں گے, 
زندگی کا کوئی 
بھی موڑ آسان نہیں ہوتا مشکلات بھی آتی ہیں 
اور دکھ بھی ملتے ہیں.!
لیکن جب ہم اللہ کی رضا میں راضی رہنا سیکھ لیتے ہیں 
اور اللہ کے انتخاب کردہ راستوں پر چلتے ہیں تو دکھ 
میں بھی مزہ آنے لگتا ہے, 
ہر غم میں سکون ملنے لگتا ہے, 
کیونکہ دل اس بات پر مطمئن ہوتا ہے کہ یہ اللہ کا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اس میں اللہ کی رضا ہے, 
اور جس چیز میں اللہ کی رضا ہوتی ہے وہ کبھی ہمیں بے سکون نہیں کرتی, اللہ کے انتخاب بےحد پر سکون ہوتے ہیں, پھر چاہے 
آپ مطمئن ہوں یا نہیں...!


جب تمہیں خوشیاں ملنے لگیں

جب تمہیں خوشیاں ملنے لگیں تو تین چیزیں کبھی مت بھولو
●اللہ
●اسکی مخلوق 
●اپنی اوقات! ❣️


میں باتیں کرنے میں اچھی نہیں ہوں اسلئے جاناں!

میں باتیں کرنے میں اچھی نہیں ہوں اسلئے جاناں!
مجھے تم اپنے قصے اور کہانیوں میں الجھا سکتے ہو 
بن تھکے میں شب و روز سن سکتی ہوں تمہیں
ہے اجازت مجھے تم اپنی باتوں میں لگا سکتے ہو :)🌼

بﮩﺖ ﺳﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ

بﮩﺖ ﺳﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ جن ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ "ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ" کے ﻋﻼﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ، ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ کسی ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ.

رات کے دکھ رات ہی جانتی ہے

رات کے دکھ رات ہی جانتی ہے ، یہ دکھ اسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں ، صبح کے اجالوں کو ان اندھیروں کی کیا خبر۔۔!!

ھم وہ نســــل ہیں جسے اب کوئی چیز حیــــــران نہیں کر سکتی

ھم وہ نســــل ہیں جسے اب کوئی چیز حیــــــران نہیں کر سکتی، جو باتیں ہم نے کبھی اپنے بـــــڑوں سے سنی تھیں ہمارے دور میں یہ ہوتا تھا وہ ہوتا تھا۔۔۔ایسی گرمی آتی تھی، ایسی لو چلتی تھی،  ایسے جاڑے آتے تھے، چار رضائیوں کے بعد بھی کپکپاہٹ نا ختم ہو۔۔۔
»• ایسـے ســـورج گرہن ہوا تھا۔۔۔۔۔
»•یوں جنگـــــ ہوئی تھی۔۔۔
»•یوں قتــل و غارتـــــ ہوئی تھی۔۔۔
»•وبائیں پھیــــلا کرتی تھیں۔۔۔
»•کثرتــــ امواتـــــ ہوا کرتی تھی۔۔۔
ظالـم جابر اور عقـــل سے عاری حکمــــــرانوں کی سربراہی تھی۔۔۔
 پچھلی دو دہائیوں میں پیدا ہونے والی ہم وہ واحـــد نســــل ہیں جس نے اتنے قلیل وقت میں اتنا سب کچھ دیکھا ۔۔ہماری جوانیاں روگ ہیں۔۔۔ہماری خوشیاں فاسد۔۔۔ہم اندر سے ٹوٹی باہر سے ہنستی مخلوق ہیں۔۔۔
»•ہم تخلیق کار ہیں مگر کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔۔۔
»•ہم محبتوں میں ناکام ہیں۔۔۔
»•ہم رزق کو ترسے ہوئے۔۔۔
ہمارے دلوں پر بھلائی کی بات اثر نہیں کرتی۔۔
»•ہمارے نفس ہماری طاقت سے باہر ہیں۔۔
»•ہمارے ایمان سلامت ہیں مگر دہکتے انگارے کی مانند ہتھیلی پر اٹھائے پھرتے ہیں۔۔۔
»•ہم پر نااہل حکمران مسلط ہوتے ہیں۔۔۔
»•ہم پر ٹڈیوں کی یلغار ہوتی ہے۔۔۔
»•ہم اپنے اردگرد کے دکھوں سے نظریں چرا کر اس سوشل میڈیا نامی چمکتی چکا چوند دنیا میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔۔۔ 
»•ہم محنت کرتے ہیں مگر پھل نہیں ملتا۔۔۔
کچھ نصیبـــــ پہ جیتے ہیں اور زندگی بھر عیش کرتے ہیں۔۔۔
ہم وہ قیمتی ھیـــــرا ہیں جس کی قدر کسی جوہــــری کو نہیں معلوم اور کسی کونے میں پڑے منتظر ہیں کہ کوئی قدردان آئے اور ہمیں سیاہ مٹی کے بنے پتھــــر سے اکھاڑ کر کسی تاج میں سجا کر ہمیں عــــــروج بخشــے۔۔۔