Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

انسان فطرتاً بہت ڈھیٹ ثابت ہوا ہے



انسان فطرتاً بہت ڈھیٹ ثابت ہوا ہے۔۔۔جس شئے سے رکنے کا کہا جاۓ اس کی طرف اسکی کشش بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔۔۔وہ جان بوجھ کر اس شئے کی طرف مائل ہو جاتا ہے یا شائد یہ خود اس کے اپنے اختیار میں بھی نہیں ہوتا۔۔۔اسی طرح محبت کے بھوکے لوگ بھی ڈھیٹ ہوتے ہیں کوئی جتنا بھی انہیں دھتکار لے وہ عادت سے مجبور محبت کرنانہیں چھوڑتے۔۔۔انہیں چاہے جتنی بھی ذلالت اٹھانی پڑے وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے۔۔۔ان کی عزتِ نفس شاید مر جاتی ہے۔۔۔وہ تذلیل پا کر بھی اسی احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ یہ محبوب کی ادأ محبت ہے۔۔۔کبھی تو وہ ان سے اظہارِ التفات کرے گا۔۔۔
آہ مگر افسوس صد افسوس کہ وہ اس غلط فہمی اور خوش گمانی میں سب کچھ ہار دیتے ہیں۔۔۔اپنی انا، اپنی عزت نفس ، اپنا غرور حتیٰ کہ اپنی ذات بھی


تمھیں پتہ ہے میں تمھارے ساتھ کیا کروں گی ؟


تمھیں پتہ ہے میں تمھارے ساتھ کیا کروں گی ؟ میں اس بار تمھیں نامکمل چھوڑوں گی اور نہ مکمل اپناؤں گی -میں تمھیں بغیر کوئی وجہ دیے یا تم سے کوئی وجہ طلب کیے جاؤں گی تا کہ اس درد سے تمھیں کبھی آزادی نہ ملے. 
میں تمھیں کلوڏر نہیں دوں گی اس سب سے تا کہ یہ زخم کبھی نہ بھرےتم پل پل تڑپو جیسے میں پل پل تڑپوں گی کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی ٹیسیں روح کو سکون دیتی ہیں -تم وہی درد بن چکے ہو - یاد یے تم کہتے تھےتمھیں میرا درد بانٹنا اچھا لگتا ہے کہ تم سے میرے اندر کا درد بچوں کی طرح مانوس ہو کر بات کرتا ہے آج میں یہ آخری درد تم سے بانٹ رہی ہوں جس کی اذیت سے تم کبھی نکل نہیں پاؤ گے میں تم سے آزادی بھی نہیں چاہتی اور نہ ہی طلب کروں گی مگر میں تمھاری نظروں کے حصار سے ہمیشہ کے لیے نکل جاؤں گی تمھیں اس احساس کے ساتھ چھوڑ کے دور کہیں دنیا کے کسی کونے میں کسی کو تم نے قید کر کہ تکلیف میں رکھا ہوا ہے -تم ڈھونڈو گے مجھے آزاد کرنے کے لیے مگر میں تمھارے سامنے کبھی نہیں آؤں گی کبھی نہیں - دیکھو تم نے مجھے آج وہ بنا دیا جو میں کبھی نہیں تھی جس سے میں نے محبت کی آج اس کے لیے اذیت کا سامان اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے اپنے انہی ہاتھوں سے جن کی پناہ میں تم شب و روز گزارتے رہے ہو انہی ہاتھوں سے تم نے مجھ سے میری محبت کا قتل کروایا ہے یہی تمھارے جرمِ فرار کی اور میرے جرمِ وفا کی سزا ہوگی



میں نے اس سے محبت کی اور بے حد کی



میں نے اس سے محبت کی اور بے حد کی مگر نا جانے کیوں میری اتنی محبت بھی اس کا دل نہ پھیر سکی رابطے بڑھتے گئے اور ساتھ ساتھ اس کی بیزاریت بھی کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ کاش میں مکافات عمل لکھ سکوں اسے اپنے سامنے کھڑا کر کے ہر گزرتے وقت کی گواہی دوں بتاوں کہ ضروری نہیں جسے تم چھوڑ جاو وہ بھی تمہیں چھوڑ پائے اپنی سب تکلیفیں بے چینیاں اور اذیتیں اسے بتاوں جنہیں میں نے اکیلے سہا اور جب اس کی آنکھوں میں میری شدتوں کا یقین امنڈنے لگے تو اس پل میری آنکھیں ہمیشہ کے لیئے بند ہو جائیں پھر وہ اس اذیت کو اسی طرح سہے جیسے میں نے سہا تنہا اور دم سادے سے بھی تو علم ہو نا کہ تکلیفیں کیسے جیتے جی مارتی ہیں



"تمہیں پتا ہے تمہار مسلئہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟



"تمہیں پتا ہے تمہار مسلئہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟
تم نے اپنے فیصلے اللہ پہ چھوڑ تو دیئے ہیں مگر۔۔۔ دل سے نہیں چھوڑے۔۔۔ تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہوئے جو تمہاری خواہش ہے۔۔۔یہ کیسا اعتبار ہے بھلا؟؟ سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے گی یا پار، اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے۔۔۔ میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لیئے آر یا پار جانے سے بہتر ہوگا۔۔۔ یہی تو اعتبار کا امتحان ہے۔۔۔ اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے۔۔۔ وہ آپکے گمان سے بھی آگے ہے۔۔۔ہم صرف وہ دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورت ہے۔۔۔جبکہ اللہ یہ بھی جانتا ہے۔۔۔ آپ کے لیئے کیا خوبصورت ہے۔۔۔یقین کرو۔۔۔ جس دن اس اعتبار پہ فیصلہ اللہ پہ چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لیئے وہی بہترین ہوگا۔۔۔ اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آئیں گے۔۔۔بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے ذیادہ بہترین ہوگا۔۔۔کیونکہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت انکی سوچ کے رخ تک بدلنے پہ قادر ہے۔۔۔



بہت رونا آیا تھا یہ سوچ کر کہ اللہ تعالی نے مجھے وہ نہیں دیا



بہت رونا آیا تھا یہ سوچ کر کہ اللہ تعالی نے مجھے وہ نہیں دیا جو مجھے بے حد محبوب تھا ۔۔۔۔۔
پھر یاد آیا کہ کیسے میری ماں میرے بیمار پڑنے پر مجھے کڑوی دوائیں کھلاتی تھیں۔۔۔
اور پسندیدہ چیزوں سے احتیاط کرواتی تھیں۔۔۔۔
بے شک اللہ تعالی ستر ماوں سے بھی زیادہ ہم سے محبت کرتا ہے۔۔۔ہمیں صرف وہ عطا نہیں کرتا جو ہمیں اچھا لگتا ہے بلکہ ہمیں وہ عطا کرتا ہے جو ہمارے لئے اچھا ہوتا ہے۔



محرومی دو طرح کی ہوتی ہے



محرومی دو طرح کی ہوتی ہے، کسی چیز کا کبھی نہ ہونا ،اور کسی چیز کا مل کر کھو جانا
کسی چیز کا مل کر کھو جانا زیادہ تلخ تجربہ ہوتا ہے اور جو اس تجربے سے گزرتا ہے ، وہ ایسی ہی باتیں کرتا ہے جو آپ کی سمجھ میں شاید کبھی نہ آئیں۔



کبھی کبھی دل کرتا ھے



کبھی کبھی دل کرتا ھے یونہی کسی شام ساحل پر بیٹھ کر گھنٹوں پانیوں کے شور کو سنوں ، لہروں کی موجوں کو دیکھوں اور آنکھیں بند کر کے اس گیلی مٹی کی خوشبو اپنے وجود میں اتار لوں اور پھر جب سورج غروب ھونے لگے تو میں اس ڈھلتی روشنی میں شام کے عکس کو نگاہوں میں قید کر کے ساحل کے سکوت کو محسوس کروں ۔ ۔
بس کبھی کبھی دل کرتا ھے ساحل کے کنارے بیٹھ کر اپنی سمت آتی لہروں میں اپنے سارے دکھ درد بہا دوں ، اور وہ لہریں اپنے ساتھ میری تمام اداسیوں کو میرے پیروں سے ٹکرا کر اپنے ساتھ بہا کر لے جائیں 


ہ انسان پہاڑ جیسا' نہ سمندر جیسا' نہ زمین جیسا ہو سکتا ہے


نہ انسان پہاڑ جیسا' نہ سمندر جیسا' نہ زمین جیسا ہو سکتا ہے ہر وقت . ہم پہ مختلف فیز آتے ہیں ____ اور جو سخت کمزور ترین لمحے میں ' لاچاری اور اضطراب کہ عالم میں الله سے دعاکرتا ہے' اس کی مثال ان مضبوط چیزوں سے آگے دی جا رہی ہے کیوں کہ دعا کرنے والا ان سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے 



خلوص اور اچهائی اپنے الفاظ میں نہیں اپنی نیت اور فطرت میں پیدا کرو



خلوص اور اچهائی اپنے الفاظ میں نہیں اپنی نیت اور فطرت میں پیدا کرو ،تاکہ تم لوگوں کے عیب نہیں انکی خوبیاں دیکھ پاؤ,بیشک یہ عمل تہماری عزت اور بخشش کا وسیلہ ھے

تیری زباں کے فیصلے قبول تھے سو اختیار دے دیا تجھے


تیری زباں کے فیصلے قبول تھے سو اختیار دے دیا تجھے
کہا جو تو نے رو تو رو لیا کہا جو مسکرا تو مسکرا لیا