ایسا بھی ہوتا ہے جس سے کوئی واسطہ نہیں رہا
ایسا بھی ہوتا ہے جس سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ ۔ ۔حال تک پوچھنے بتانے سے قاصر ہیں۔ ۔ ۔ آپ کے حواس پہ وہی چھایا رہتا ہے۔ ۔ ۔ بظاہر تو ہم اسے بھول چکے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ دکھاوا اچھا کر رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں دل و دماغ پہ وہی سوار رہتا ہے۔۔۔ کہنے کو ہم اسے جانتے ہی نہیں اب مگر پھر بھی اسی کی کمی اندر ہی اندر سے کھائے جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ کچھ زخم ایسے لگ جاتے ہیں جو وقت اوپر سے تو بھر دیتا ہے لیکن اندر سے وہ ہرے کے ہرے ہی رہتے ہیں۔ ۔ ۔ دعاؤں میں اس کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے اس کے لیے اگر دعا نہ کی تو دعا ادھوری رہے گی۔ ۔ ۔ اگر اس کا کوئی ذکر چھیڑ دے تو جتنا مرضی خوشگوار موڈ ہوگا اس کی گفتگو کر کے جذباتی ہو جائیں گے
ہر انسان کے ساتھ محبت الگ تاثیر رکھتی ہے۔
ہر انسان کے ساتھ محبت الگ تاثیر رکھتی ہے۔ جس طرح ہر انسان کا چہرہ الگ، مزاج الگ، دل الگ، پسند نا پسند الگ، قسمت، نصیب الگ، اسی طرح ہر انسان کا محبت میں رویہ الگ۔ کہیں محبت کے دم سے تخت حاصل کیے جا رہے ہیں، کہیں تخت چھوڑے جا رہے ہیں۔ کہیں دولت کمائی جا رہی ہے، کہیں دولت لٹائی جا رہی ہے۔ محبت کرنے والے کبھی شہروں میں ویرانے پیدا کرتے ہیں، کبھی ویرانوں میں شہر آباد کرتے ہیں۔ دو انسانوں کی محبت یکساں نہیں ہو سکتی۔ اس لیے محبت کا بیان مشکل ہے۔ دراصل محبت ہی وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصلی شکل، باطنی شکل، حقیقی شکل دیکھتا ہے۔ محبت ہی قدرت کا سب سے بڑا کرشمہ ہے۔ "جس تن لاگے سو تن جانے"۔ محبت ہی کے زریعے انسان پر زندگی کے معنی منکشف ہوتے ہیں۔ کاہنات کا حسن اسی آئینے میں نظر آتا ہے
ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ
ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ، ﺟﺎﻥ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺟﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺑﺲ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺫﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ،ﺍﺳﮯ ﺍﻟﺠﮭﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮔﺰﺍﺭﺋﯿﮯ
وقت نہیں رکتا لیکن کہیں نہ کہیں ہم رک جاتے ہیں
وقت نہیں رکتا لیکن کہیں نہ کہیں ہم رک جاتے ہیں۔ سرخ اینٹوں سے بنے کسی آنگن میں، کہیں باورچی خانے میں چولہےکے پاس دھری پیڑھی پر، یا کسی چھت پر لیٹے تارے گنتے، ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کب لمحے ہمیں قید کر لیتے ہیں۔ کوئی چاۓ کی پیالی ایسی ہوتی ہے جس کا ذائقہ زبان کبھی بھول نہیں پاتی۔ کوئی سرگوشی ، کوئی مسکراہٹ ، کوئی مہک ، کوئی قہقہہ ، کوئی آنسو ، کوئی سناٹا ، تمام عمر کے لئے زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے۔پرانی یادوں پر نئی یادیں سجانا در حقیقت ایک مشکل امر ہے۔ تبھی تو ہم تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی مسکراتی ہوئی پاس سے گزر جاتی ہے۔
میں کبھی کسی کو برا نہیں سمجھتی
میں کبھی کسی کو برا نہیں سمجھتی ۔ وقتی طور پہ غصہ ہوجاتی ہوں ۔ لیکن پھر یہ سوچ کے چپ کرجاتی ہوں کہ اس انسان کا اتنا ہی ظرف تھا
میں اکثر ہی سچے جھوٹے وعدوں پہ یقین کرلیتی ہوں ۔ کیونکہ میں انسان کے اندر جھانک نہیں سکتی اس کا من نہیں پڑ سکتی۔ لیکن اس کے درد کو سمجھ سکتی ہوں ۔
میں کسی ایک شخص کی بے وفائ کا بدلہ کسی دوسرے شخص سے نہیں لیتی
میرا بھی دل چاہتا ہے کہ اس سے بدلہ لیا جائے اس کو بتا دیا جائے کہ کسی انسان کے جذبات اس کے مخلص ہونے کا فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے سارا کا سارا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ جاتا ہے ۔ پھر یہی سوچ کر چپ کر جاتی ہوں کہ بس زندگی بھر دوبارہ سامنا نا ہو ، نا ہی اس کا نام کوئ لے ، نا ہی اس کی یاد آئے ۔
کیونکہ ہم جیسے لوگ بس اپنی ذات کو ختم تو کرسکتے ہیں لیکن کسی اور کی ذات کو نہیں ۔
یہ نہیں کہ ہم اچھے ہوتے ہیں بلکہ ہماری برائ اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے کسی اور کو تکلیف دینا عادت نہیں ہوتی ۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر ہی ہم جیسے لوگ اچانک لاپتہ ہوجاتے ہیں۔
پتا ہے میں کیوں لپٹ لپٹ کے دوسروں سے نہیں ملتی کیونکہ جب دل صاف نا ہوں تو گلے لگنے کا کوئ فائدہ نہیں ہوتا.
"وقت"
"وقت"
کتنا ظالم ہوتا ہےاتنی جلدی بدل جاتا ہےاور بدلتے ہوئے ہزاروں زخم دے جاتا ہے۔ وقت ظالم نہ ہوتا اگر وہ یادوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا مگر افسوس وقت چلا جاتا ہے اور یادیں چھوڑ جاتا ہے۔
کچھ خوبصورت یادیں اور کچھ تلخ یادیں۔
لیکن دونوں کو یاد کرنے سے تکلیف ایک جیسی ہی ہوتی ہے اور آنکھیں دونوں سے ہی نم ہو جاتی ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ خوبصورت یاد خوشی کا آنسو دیتی ہے اور تلخ یاد تلخی کا۔
دل میں درد ایک جیسا ہی ہوتا ہے کہ وہ وقت بھی کیا وقت تھا ۔
لوگوں کے بدلے ہوئے رویّے
رویّوں کے بدلے ہوئے لہجے
لہجوں کی تلخیاں!
پرانی جگہوں کے بدلے ہوئے راستے
اور راستوں کی بدلی ہوئی ہر چیز
اس بات کا احساس دلا ہی دیتی ہے کہ وقت بدل گیا ہے۔
اب لوگ بھی وہ نہیں اور وقت بھی وہ نہیں ۔اگر کوئی وہیں ہے تو شاید
بس تم ہی بے وقوف ہو جو وہیں کھڑے ہو کسی نہ پوری ہونے والی "اُمید" میں۔
تو بس اُمید رکھو مگر اس کے پورے ہونے کا انتظار مت کرو۔
بس آگے بڑھو
تمھارے نزدیک بری عورت کون ہے
تمھارے نزدیک بری عورت کون ہے
بری عورت
ہاں-
مجھے لگتا ہےعزت کا پردہ کرنے والی ہر عورت بری عورت ہے- چادر کی لاج رکھنے والی ہر عورت بری عورت ہے- یا یہ کہہ لو اپنے ننھے ننھے خوابوں کو پیروں تلے روند کر پگڑیوں کی فکر کرنے والی ہر عورت بری عورت ہے-
اُس کے سوال کا میں نے جواب دیا تو وہ مجھے یوں تکنے لگی جیسے میں نے کچھ بہت غلط کہہ دیا ہو-
میں تم سے بری عورت کا پوچھ رہی ہوں بی بی اچھی عورت کا نہیں - اُس نے اچھی عورت کہنے پر خاصہ زور دیا
میں بری عورت کی ہی بات کر رہی ہوں - مگر اسے اچھی عورت کہتے ہیں- تم اپنے سوال پر غور کرلو تم نے میرے نزدیک بری عورت کا پوچھا ہے - میں نے رسانیت سے کہا تو وہ چُپ ہوگئی-
لمحہ بھر بعد کہنے لگی
اچھا تو کیا ڈیفینیشن ہے بری عورت کی تمھارے نزدیک? ہر وہ عورت جو اپنی نازک کلائیوں میں پڑی کانچ کی رنگ برنگی چوڑیوں کو توڑ کے ایسے پیالے بناتی ہے جس میں سکون سے دو وقت کی روٹی کھائی جا سکے وہ بری عورت ہے- ہر وہ عورت جو اپنے پاؤں میں چھن چھن کرتی پازیب اتار کے کسی سیاہ حالات کے صندوق میں بند کر دے اور عزت کی روٹی کمانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتی جائے وہ بری عورت ہے -
حالات سے مجبور ہو کہ گلے میں پڑی چُنری اُتار کہ کسی چادر کی بُکَل مارے سڑکوں کی دھول چھانتی پھرے تو وہ بری عورت ہے - ایسی عورتوں کو برا ہی سمجھا جاتا ہے - ہمارے معاشرے میں آزاد عورت صرف طوائف کو سمجھا جاتا ہے اسی لیے ہر وہ عورت جو مجبوریوں سے مجبور ہو کر گھر کی دہلیز پار کرتی ہے اِس معاشرے کو وہ بھی طوائف جیسی ہی لگتی ہے - نظروں کے تِیر اور لفظوں کے خنجر سے یہ دنیا اُسے بار بار زخمی کرتی ہے اور زخمی بری عورتوں کو ہی کیا جاتا ہے
- وہ مجھے یک ٹک دیکھتی رہی
- اور تم ...تمھارا شمار کن عورتوں میں کیا جاسکتا ہے
میں خود ایک بہت بری عورت ہوں - عزت کی روٹی کمانے جب گھر سے نکلتی ہوں تو ہر دوسری نظر مجھے یوں دیکھتی ہے جیسے میں برہنہ ہوں - ہر دوسرا شخص میری ذات سے فائدہ اُٹھانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے جیسے میں نے خود ہی اپنی بولی لگائی ہو - اور پھر تھک ہار کر جب میں اپنے قلم کو تھامے اپنے کرب کو اپنے قلم کی نوک سے ادا کرنے کی کوشش کرتی ہوں جب میں کاغذ پر ہوس رقم کرتی ہوں -جب میں سیاہی سے زیادتی کا ہونا دھبے ک صورت سجاتی ہوں - جب میں جسم کی بھوک میں بدن پر جھپٹنے والے اعلیٰ نسل کے کتوں کا بھونکنا لکھتی ہوں تو مجھ پر تُھو تُھو کی جاتی ہے - میرے لکھے پر لعنت بھیجی جاتی ہے - مجھے بری عورت کہا جاتا ہے کیونکہ حقیقت بھی یہی ہے میں ایک بری عورت ہوں اور میں ہر بری عورت کی تعظیم میں سر جھکانا پسند کرتی ہوں- کیونکہ مجھے بری عورت اچھی لگتی ہے -مگر میں چاہتی ہوں مجھ سمیت ہر بری عورت اس دنیا سے فنا ہو جائے تاکہ اِس عظیم معاشرے میں کوئی برائی ہی نہ رہے -
میں نے زخمی انداز میں لبوں پر مسکراہٹ سجا کے اپنی بات کا اختتام کیا - تو وہ بھی چپ کی قفل سجائے تھم کے بیٹھ گئی
محبت کو امر کرنا ہے نا ،
محبت کو امر کرنا ہے نا ، تو اُس شخص سے
بِچھر جاؤ جِسے چاہت کی آخری حَد تک چاہا ہے
اِس جُدائی کا ایک اپنا ہی حُسن ہے... اِس جُدائی کی میٹھی میٹھی کسک زندگی کے آخری لمحوں تک ساتھ رہتی ہے.. چاندنی راتوں میں وہ شخص یاد آتا ہے
موسم کی پہلی رِم جِھم میں اُس شخص کی حَسیں یاد ساتھ رہتی ہے... جب بھی مُحبت کے گیت بجتے ہیں نا تو آنکھیں بند کرنے پر اُسکا چہرہ سامنے آجاتا ہے... بہاروں کے موسم میں اُسکی خوشبو ہمارا تعقُب کرتی ہے... یہاں تک کہ وہ ایک لمحہ بھی ہمارے دِل و دماغ سے جُدا نہیں
ہوتا... ہر وقت سائے کی طرح ساتھ رہتا ہے... اُس سے مُحبت کرنے کے لئے ہمیں اُسکی ضرورت ہی نہیں رہتی... مُحبت کو امر کرنا ہے نا تو ہِجر اوڑھ لو
پتا ہے؟
پتا ہے؟
ہم جیسے لوگ اداس کیوں رہتے ہیں کیوں خوش نہیں رہ پاتے کیوں گھٹ گھٹ کے مرکےجیتے ہیں۔۔۔؟
کیوں کے ہم سب کی پرواہ کرتے ہیں رشتے کو بچنے کےلیے خود ٹوٹ جاتے ہیں ۔رشتوں کو یوز نہیں کرتے۔ان کی پرواہ کرتے ہیں انکو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ ان کےلیے جینے کی چاہ میں خود کےلیے جینا بھول جاتے ہیں اپنے حصے کی خوشیاں بھی ان پر لوٹا دیتے ہیں۔ہر لمحہ اس ڈر میں رہتے ہیں کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائیں روٹھ نہ جائے چھوڑ نہ جائیں۔ اس کشمکش میں زندگی گزر جاتی ہے ہم جو سب کا دل رکھتے ہیں ،کیا ہم دل نہیں رکھتے؟
انسان ہیں #فرشتے نہیں۔۔۔
مگر ہر لمحہ کوشیش کرتے ہیں سب کچھ قائم رہے
گلہ نہیں ہے کیوںکہ ہم بنائے ہی ایسے گئے ہیں
ہمارا دل ایسا بنایا گیا ہے کہ زرہ سی چوٹ پر درد شدت اختیار کرجاتا ہے۔
کسی ایک کو منانے کےلیے دوسرے کو ناراض کر بٹھتے ہیں۔
انکو مناتے ہیں تو کوئی اور ناراض ہوتا ہے۔۔
زندگی یوں ہی گزرتی رہتی ہے انسان پل پل مرتا رہتا ہے
شاید ہم جیسے لوگوں کو تب ہی سکون کی گھڑیاں نصیب ہوتی ہیں۔۔۔!
جب بول دیا جاتا ہے
#انا_للہ_وانا_الیہ_راجعون😢
ابدی زندگی
لمبی اور گہری زندگی
نہ اٹھانے والا،نہ تنگ کرنے والا ڈر، کیسے کے لہجے کی پرواہ
نہ کیسے کے روٹھنے کا ڈر
نہ کچھ ٹوٹنے کا ڈر۔
Subscribe to:
Comments (Atom)









