Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

کافی دن ہوگئے تھے مجھے روئے ہوئے


کافی دن ہوگئے تھے مجھے روئے ہوئے، یوں لگتا تھا شاید میرے سارے آنسو ختم ہوگئے ہیں، اب تو آپ کے ذکر یا آپ کی لاپرواہی محسوس کر بھی میری آنکھیں نہیں روتی تھیں، آنکھیں عجیب پتھر ہوگئی تھیں، ہاں میں رونا چاہتی تھی، آنسوٶں نے بند باندھ کر پورے وجود میں وحشت، اضطراب، بےچینی بھردی تھی، آنسوٶں کے ذریعے وجود پر چھائی گرد کو دھونا چاہتی تھی ، مگر میرے تو آنسو بھی مجھ سے خفا ہو بیٹھے تھے
دنیا روتی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر کہتی ہے کتنی بدنصیب ہے ، ہر وقت روتی رہتی ہے، مگر میں اب کہتی ہوں اگر ایک روتی ہوئی لڑکی بدنصیب ہے تو ایک ایسی لڑکی جس کی آنکھوں کے آنسو خشک ہوچکے ہیں، جو رو لینے کی خواہش میں بےکل بےکل پھرتی ہے اُس سے زیادہ بھی بدنصیب کوئی نہیں ہوگا، رو کر دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، نا رونے سے وہی بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے

کل ساری رات کی عبادت ، نوافل کے بعد جب دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے تو ایک لفظ بس ایک لفظ 
"اللہ" 
کے زبان سے ادا ہونے کی دیر تھی، صرف ایک سسکی "اللہ" نے آنسوٶں پر بندھے بند کو توڑ ڈالا، یوں لگا جیسے بھیڑ میں کوئی بچہ کھو جائے اور پھر اچانک اُسے کوئی اپنا دکھائی دے وہ اُسے سامنے پاکر پھوٹ پھوٹ کر رو دے
اور پھر اپنے اللہ کے سامنے ایک بار پھر میں روئی اور روتی چلی گئی، لیکن اب کی بار دل، زبان نے آپ کا کوئی جھوٹ، کسی بےوفائی، کسی فریب کا گلہ، شکوہ نہیں کیا، میں روئی ، مگر میرے آنسوٶں نے آپ کے لئے کوئی بددعا نہیں کہی، ہوتا ہے نا جب ہم روتے ہیں تو گلے شکوے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ زبان سے کچھ نا کچھ غلط نکل جاتا ہے
مگر اب کی بار دل نے کہا آپ کو کوئی بددعا دے کر مجھے کیا ملنا، جو میرے ساتھ ہونا تھا، وہ تو ہوچکا، آپ کا برا چاہ کر کیا میرے سارے درد ، ساری اذیت، سارا تڑپنا، سارے دکھ دردوں کا مداوا ہو سکتا ہے؟ نہیں نا؟ پھر کس لئے میں آپ کی بربادی مانگوں؟ ایک ایسے شخص کی بربادی ، جو کب کا برباد ہوچکا ہے۔ ہاں نا جو شخص دوسروں کی زندگیاں برباد کرتا ہے اُس کی اپنی زندگی تو اُسی وقت برباد ہوچکی ہوتی ہے
کسی ایک کی آنکھ میں آپکی وجہ سے آنسو آئے تو سمجھو آپ کی بربادی شروع، اور یہاں تو جانے کون کون رو رہا ہے
آپ کو دعاٶں کی ضرورت تھی، میں نے اِس بار آپ کے لئے دعا کی ہے، دل سے نکلی دعا، آنسوٶں سے لدی ایک دعا
اور ایک دعا اپنے لئے بھی کی ہے کہ
اللہ پاک "مجھے صبر دیں ، کہ میں جی سکوں


مکافاتِ عمل



مکافاتِ عمل
اُن دنوں تخلیق کے مراحل سے گزرنا میرے لیے کسی عذاب کا سا مرحلہ تھا عام دنوں میں تو وہ مجھے جوتے کی نوک پہ رکھتا ہی تھا مگر ان دنوں تو اسنے جوتے کی نوک ہی مجھ پر رکھ دی تھی 
وہ ہاتھ اُٹھتا تو میں سوچتی تھی آج اس سے مار ہر گز نہیں کھاؤنگی مگر صرف سوچ کے رہ جاتی تھی چہرے پہ پڑنے والے نیلوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا اور چہرے سمیت روح بھی نیلی پڑتی گئی - 
کمر پہ بڑے بیلٹ کے نشان اُسکے ظلم پر نہیں میری اپنی بذدلی پر دُھائی دینے لگے 
ایکدن سوچا اُسے کہونگی صرف گالیوں کی مار ماردیا کرے یوں ہاتھ کی مار برداشت کرنے ک اب سکت نہیں رہی مگر اُسکی لال آنکھوں کا خوف مجھ پہ اتنا طاری تھا کہ میں چپ بہ مہر رہی - اور نتیجتاََ اپنی اولاد کو دنیا میں لانے سے پہلے ہی کھو بیٹھی - اولا کھونا پھر چھوٹا دکھ تھا مگر پھر دوبارہ کبھی ماں نہ بننے کا غم مجھے لے ڈوبا - اب میں کچھ نہیں سوچتی تھی خودبہ خود اسکے ہاتھوں میں بیلٹ تھما دیا کرتی تھی کہ مارو مجھے جتنا مار سکتے ہو مارو کم از کم اتنا ہی مارو کہ میں اپنی کبھی نہ پیدا ہونے والی اولاد کے پاس جا پہنچوں - مگر نہ جانے کیوں اُسے کیا ہوگیا تھا کہ وہ اب مجھے مارتا نہیں تھا میرا خیال رکھتا تھا اکٹر صبح آفس جانے سے پہلے مجھے ناشتہ دے جاتا تھا مگر میں پہلے ک طرح اسکی طرف پھر کبھی مائل نہیں ہو پائی 
وہ مجھے جب مارتا تھا مجھے تب اس سے محبت تھی اور اب جب وہ مجھے سے محبت کرنے لگا تھا تو میں اُسے مارنے لگی تھی 
چپ کی مار 
پھر کچھ عرصہ بعد اسنے دوسری شادی کرلی میری اجازت سے وہ دو پھول سی بیٹیوں کا باپ بن گیا تو دھیرے دھیرے وہ مجھ سے پھر محبت کرنا بھول گیا 
مگر آج کئی سالوں بعد وہ میرے کمرے کی دہلیز پر مجھ سے معافی مانگنے آیا تھا 
آج اسکی اپنی لختِ جگر چہرے پر نیل اور ماتھے پر طلاخ کا داغ لے کر آئی تھی تو اسے میرا نیلا چہرا بھی یاد آہی گیا مگر میں اسکی معافی سن ہی نہ پائی خاموشی سے اُسکے آگے وہ بیلٹ لے آئی جسکے نشان آج بھی میرے جسم و روح پر باقی تھے مگر نہ جانے کیوں وہ مجھے گلے لگائے بس پھوٹ پھوٹ کے روتا رہا ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں جس مرد کو رُلانے کی عادت ہو وہ بھلا خود کیسے رو سکتا ہے 



کچھ لوگ ہمیں اتنی شِدّت سے اپنی چاہت کا احساس دلاتے ہیں



کچھ لوگ ہمیں اتنی شِدّت سے اپنی چاہت کا احساس دلاتے ہیں کہ ہم دنیا کی تمام چاہتوں سے کِنارہ کش ہوکر ایک بےاِنتہا چاہت کے احساس میں جینے لگتے ہیں
لیکن دراصل وہ لوگ اپنی تَنہائی اور ضرورتوں کی تَسکین کے لئے انتہائی توّجہ کے مَتلاشی ہوتے ہیں
جب وہ سنبھل جاتے ہیں تواُسی شِدّت سےہم سے بے پرواہ اور بیزار ہو جاتے ہیں اور ہم اکیلے اور لاچار ہو جاتے ہیں،
کیونکہ اُنکی چاہت کے سَراب میں ہم سب چاہتیں گَنوا چُکے ہوتے ہیں



محبت تو بےاصول ہوتی ہے


اچھا ٹھہرو!“، کوئی صدا میرے کانوں سے ٹکرائی- میں زیرِ لب مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی
آپ رکتی کیوں نہیں ہیں؟“- وہ تیز تیز چلتا میرے سامنے آ کھڑا ہوا-
”آپ روکتے کیوں نہیں ہیں؟“ میں نے ابرو اچکائے
میں؟ میں نہیں روکتا آپ کو؟“ وہ حیران ہوا
نہیں، بالکل نہیں“، اور میں بضد
میں آپ کو پکار رہا تھا، کیا یہ روکنا نہ ہوا؟
اس کی آنکھوں میں حیرت دیکھ کر میرے لبوں پہ مسکراہٹ رینگی
اس طرح روکا جاتا ہے؟ بھلا یوں خالی خولی آواز دینے سے کوئی رک تھوڑی جاتا ہے“، میں نے کندھےاچکائے
ٹھیک ہے پھر آپ ہی بتا دیں کیسے روکا جاتا ہے؟“ اس نے ہار مانی
”صدائیں تو پہاڑوں سے بھی دی جائیں تو پلٹ کے واپس آ جاتی ہیں- محبوب جا رہا ہو تو اسے روکنے کے لئے عاشق سراپا صدا بن جاتا ہے- اس کی آنکھوں سے التجا عیاں ہوتی ہے تو لفظوں سے ٹھہر جانے کی درخواست- محبوب کے قدموں میں گر کر اسے آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے، اس کی راہ میں اپنے لہو کا دریا بہا دیا جاتا ہے- تب کہیں جا کے محبت کا حق ادا ہوتا ہے-“ میں نے اس کی حیران آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور آگے بڑھ گئی
وہ وہیں پیچھے کھڑا رہ گیا- وہ ڈر گیا تھا محبت کے اصولوں سے- خوفزدہ ہو کے وہیں منجمد ہو گیا تھا- اسے لگا کہ وہ محبت کے قاعدے پورے نہ کر پائے گا تو پلٹ گیا
لیکن کسی اور کو اپنے تمام حقوق سونپتے ہوئے نہ جانے کیوں نکاح نامے پر دستخط کرتے وقت میرا ہاتھ کپکپایا تھا- دل نے خواہش کی تھی کہ وہ کہیں سے آ جائے اور آ کر کہہ دے
آپ رکتی کیوں نہیں ہیں؟
لیکن اس بار بخدا میں اسے محبت کے قاعدے نہ سمجھاتی، کسی اصول کو اس پہ مسلط نہ کرتی، بس آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام کے کہہ دیتی
”آپ روکیں گے تو خدا کی قسم رک جاؤں گی
کیوں کہ مجھے سمجھنے میں دیر لگی کہ محبت تو تمام اصولوں سے مبرا ہے
محبت تو بےاصول ہوتی ہے


وہ شخص جس کی وجہ سے دل ڈسٹرب ہے



وہ شخص جس کی وجہ سے دل ڈسٹرب ہے ‘ اس سے اگر کوئی حلال تعلق نہیں ہے تو اسے اپنی زندگی سے نکال باہر پھینکنا ۔ سارے تعلق ‘ سارے روابط کاٹ دینے چاہئیں۔ پھر اس کی یادوں‘ اس کی تصویروں ‘ اس کے میسیجز ‘ ای میلز کسی کو بھی دوبارہ نہ پڑھیں۔ یوں نظر محفوظ ہو گی تو دل بھی محفوظ ہو گا۔‘‘
اور دوسرا طریقہ؟‘‘
 صرف نظر کی حفاظت کرنا کافی نہیں۔ دل کا دھیان بھی بٹانا ہو گا۔ عشق عشق کو کاٹتا ہے ‘ محبت محبت کو کاٹتی ہے۔ آپ کی کتاب کا آخری باب کہتا ہے کہ اپنے دل میں سب سے بڑی محبت ....الله کی محبت بسائی جائے ‘ وہ ہمارے دل کو اتنا مضبوط کر دے گی کہ ہم اس شخص کی طرف نہیں لپکیں گے ۔



عجیب ہوں میں بہت ہمت والی مگر



عجیب ہوں میں بہت ہمت والی مگر اکثر ذرا سی بات پہ گھبرا جاتی ہوں حالات سے ڈرتی نہیں کبھی ہاں مگر کبھی کبار سہم جاتی ہوں سب سمجھتے ہیں کہ میں کبھی حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتی مگر وہ لوگ ابھی روح کی اذیت سے ناواقف ہیں نہیں جانتے کہ جن کی روح زخمی ہو انہیں جسموں کہ زخم کچھ نہیں کہتے ! حالات جیسے بھی ہوں ہم لوگ تکلیفوں سے نہیں بھاگتے بس تھک کر سکون چاہتے ہیں ابدی سکون ہمیشہ کا سکون ہم لوگ اب انا للہ وانا الیہ رجعون چاہتے ہیں



جب بھی میں کبھی سورہ یسں کی تلاوت سنتی ہوں



جب بھی میں کبھی سورہ یسں کی تلاوت سنتی ہوں تو یہ آیت

وامتازوا اليوم ايها المجرمون۔

مجھے بہت زور سے کلک کرتی تھی۔ جب میں نے اسکا ترجمہ چیک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ اسکا مطلب ہے کہ
 گنہگارو! تم آج الگ ہو جاو۔
میرے زندگی میں زیادہ تجربات نہیں ہیں، لیکن اس بات کو میں یوں ریلیٹ کرنا چاہوں گی کہ جب میں سکول جاتی تھی تو کلاس میں ٹیچر آکے کہتی تھی، جن لوگوں کو سبق یاد نہیں ہے وہ الگ ہو جائیں۔ کیونکہ میں ایک اچھی سٹوڈنٹ تھی تو سبق نہ آنے پہ یوں الگ کھڑا ہونا مجھے اپنی سخت توہین محسوس ہوتا اور میرا رو رو کے برا حال ہو جاتا۔
یہی بات سوچ کے میں دوبارہ رو پڑی کہ اگر اللہ نے قیامت کے دن ایسا فرما دیا کہ گنہگارو! تم آج الگ ہو جاو، تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔
پھر تو Next Day کا آپشن بھی نہہں ہو گا



جب کوئی آپ سے بالکل سچی محبت کرتا ہے



جب کوئی آپ سے بالکل سچی محبت کرتا ہے
تو اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے اسے کتنی دفعہ نظر انداز کیا ہے
آپ جب کبھی اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ پورے خلوص اور سچے دل سے آپ کو تسلیم کرتا ہیں
یہی وجہ ہے کہ، جب کبھی ہم اللہ رب العزت کی طرف لوٹتے ہے.
وہ ہمیں ہمیشہ ایسے تسلیم کرتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے سے ہی ہمارے انتظار میں ہو کہ،
کب ہم اس کی طرف رجوع کریں گے اور وہ ہمیں ہمیشہ کی طرح، محض ایک آنسو کے عوض میں معاف کر دے گا



بےکار خواہشات کا بوجھ۔۔۔



بےکار خواہشات کا بوجھ۔۔۔

زندگی میں ہم۔۔۔بے شمار۔۔۔بے کار چیزوں۔۔۔”بے کار۔۔۔بے منزل رشتوں”۔۔۔کے پیچھے بھاگتے ہیں۔۔۔جن کی ہمیں صرف خواہش ہی ہوتی ہے۔۔۔نہ کہ ضرورت۔۔۔

کسی دن۔۔۔ایسا کریں کہ۔۔۔بےکار خواہشات کی لسٹ بنائیں اور۔۔۔ان خواہشات کو۔۔۔اپنے اندر سےاٹھاکر۔۔۔باہر پھینک دیں۔۔۔بے کار خواہشات سے۔۔۔اپنا اندر صاف کرتے رہیں۔۔۔اپنی خواہشات کے غلام ہرگز ہرگز نہ بنیں۔۔۔ساری خواہشات پوری کرنے کے لئے نہیں ہوتیں۔۔۔

چیزیں ہمیشہ ضرورت کے تحت خریدیں۔۔۔خواہشات کے تحت نہیں۔۔۔جب کبھی بازار جائیں اور۔۔۔کوئی چیز پسند آنے پر۔۔۔اسے خریدنے کی خواہش پیدا ہو تو۔۔۔اسے اپنی خواہش کے پیچھے لگ کر۔۔۔خریدنے سے پہلے۔۔۔شعوری طور پر خود کو۔۔۔روک کر پوچھیں کہ۔۔۔کیا مجھے اس کی ضرورت ہے یا بس میں بےکار خواہش کے تحت اسے خرید رہا/ رہی ہوں۔۔۔اشتہارات دیکھ دیکھ کر۔۔۔چیزیں خریدنا بند کریں۔۔۔کمپنیاں صرف اپنی چیزیں بیچنے کے لئے۔۔۔اشہارات بناتی ہیں۔۔۔اسی طرح جس تعلق کی کوئی منزل نہ ہو۔۔۔اس تعلق کی خواہش پال کر۔۔۔خود کو خراب نہ کریں۔۔۔

اگر آپ پر۔۔۔کبھی کسی بے کارخواہش کو۔۔۔حاصل کرنے کا جنون سوار ہو تو۔۔۔اپنی زندگی کے سارے پرانے تعلقات کا تجزیہ کریں۔۔۔ساری پرانی چیزوں کو دیکھیں کہ اب ان کا کیا حال ہے۔۔۔یاد رکھیں کسی وقت میں۔۔۔وہ بھی آپ کی خواہشات ہی تھیں۔۔۔غیر ضروری یا ضرورت پوری ہونے پر ۔۔۔حاصل کا بڑا برا حال ہوتا ہے۔۔۔




یاد کا کینسر سب سے برا کینسر ہوتا


یاد کا کینسر سب سے برا کینسر ہوتا ۔۔۔یہ انسان کی کھال سے هو کر روح تک جاتا اور پھر اسکی روح کھینچ لیتا۔۔ایسے کہ ۔۔۔۔انسان خون نہیں زہر تھوکنے لگتا ہے۔۔ایسا زہر کہ سب سے پہلے اس کے اپنے اسکی لپیٹ میں آ کر اس کے لئے مر جاتے ۔۔پھر دوست ۔۔پھر عزیز رشتہ دار ۔۔اور پھر ایک ایک کر کے ہر رشتہ ۔۔ہر دوستانہ تعلق سب مر جاتا اس کے لئے ۔۔۔یہاں تک کہ ایک ایسا دن آ جاتا کہ پوری دنیا اس کے لئے مر جاتی۔۔اور وہ اکیلا رہ جاتا ۔۔بھری دنیا میں اپنے آپ سے ۔۔۔اپنی حالت سے بے خبر موت آنے تک اس یاد کے کینسر کے ساتھ زندہ رہتا