Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

کمال یہ ہے



خزاں کی رت میں گلاب لہجہ، بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا
کمال یہ ہے

ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا
کمال یہ ہے

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دُکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا
کمال یہ ہے

خیال اپنا ، مزاج اپنا ، پسند اپنی ، کمال کیا ہے
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا
کمال یہ ہے

کسی کی رہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا
کمال یہ ہے

ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا
کمال یہ ہے



غضِ بصر ۔


غضِ بصر ۔
’’ اپنی نگاہ کو پست رکھو، نگاہ کی حفاظت کرو۔ اس کو نہ دیکھو جس کی وجہ سے دل کھویا ہے۔‘‘ 
نگاہ پست کرنے سے کیا ہو گا؟
’’دس فائدے ہیں۔ سنو گی؟‘‘
-
پہلا۔ یہ الله کا حکم ہے ‘ اور جو بھی انسان فلاح پاتا ہے ‘ وہ حکمِ الہٰی مان کر ہی فلاح پاتا ہے‘ اور جو ناکام ہوتا ہے ‘ وہ حکم نہ ماننے کی وجہ سے ناکام ہو تا ہے۔
-
دوسرا فائدہ۔اس کی نظر جو زہر آلود تیر تمہارے دل تک پہنچا کر تمہارا دل ہلاک کرتی ہے ‘ آنکھ کی حفاظت سے وہ تیر تمہارے دل تک نہیں پہنچے گا۔
-
سوئم،نظر کی حفاظت سے دل میں پوری توجہ سے الله کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے ‘ ورنہ جن لوگوں کی نگاہ آزاد اور آوارہ رہتی ہے ‘ ان کا دل منتشر رہتا ہے۔ آزاد نگاہی بندے اور الله کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔
-
چہارم ۔ آنکھ کی حفاظت سے دل مضبوط اور پر سکون رہتا ہے اور آزاد نگاہی یعنی ہر غلط چیز یا شخص کو دیکھ لینے سے دل مغموم رہتا ہے۔
-
’’پنجم۔ نگاہ پست رکھنے سے دل میں’’نور‘‘ پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ سورۃنور میں الله نے غضِ بصر کی آیت کے بعد ہی آیتِ نور پیش کی ؟ کیونکہ دل میں نور نظروں کی حفاظت سے داخل ہوتا ہے ‘ اور جب دل نورانی ہو جائے تو ہر طرف سے خیر اور برکت اس انسان کی طرف دوڑتی ہے۔ اور جن کے دل اندھیر ہوں‘ ان کو شر اور تکالیف کے بادل گھیرے رکھتے ہیں۔‘‘
-
ششم۔ تم الله کا اصول جانتی ہو۔ اس کے لئے جو چھوڑو گے ‘ وہ اس سے بہتر عطا کرے گا۔ تم’’ نگاہ‘‘ چھوڑو‘ وہ بدلے میں ’’نگاہ ‘‘عطا کرے گا۔ وہ تمہیں بصیرت دے گا‘ فہم و فراست کی نگاہ عطا کرے گا‘ اور تمہاری فراست کبھی خطا نہیں ہو گی۔ مومن اسی نگاہ کی وجہ سے ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا۔
-
ساتویں چیز۔ آزاد نگاہی سے انسان ذلیل ہوتا ہے ‘ اپنے نفس کے قدموں میں خود کو رول کر بے توقیر کر دیتا ہے ‘ مگر جونگاہ کی حفاظت کرتا ہے ‘ الله اس کو عزت دیتا ہے ،لوگوں میں بھی، فرشتوں میں بھی۔
-
’’آٹھویں بات۔ نگاہ کے ذریعے شیطان اتنی تیزی سے دل میں جا پہنچتا ہے جتنی تیزی سے کسی خالی جگہ میں خواہشات بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ وہ امیدیں دلاتا ہے‘ گناہوں کی توجیہات پیش کرتا ہے ‘ اور انسان گناہ کی آگ میں یوں جلتا ہے جیسے کسی بکری کو تنور میں ڈال کر بھونا جائے۔ اسی لئے شہوت پرستوں کو قیامت کے دن آگ کے تنوروں میں ڈالا جائے گا۔‘‘
-
نویں چیز. غضِ بصر سے دل کو قرآن پہ غور و فکرکرنے کا موقع ملتا ہے۔ ورنہ جن کی نگاہیں آوارہ ہوں‘ ان کے دل اتنے پھنسے اور الجھے ہوتے ہیں کہ یہ فراغت ان کا مقدر نہیں بن سکتی۔
-
آخری یعنی دسویں چیز! انسان کے دل اور آنکھ کے درمیان ایک سوراخ ہے ‘ ایک راستہ ہے۔ جس کا م میں آنکھ مشغول  اسی میں دل مشغول ہوتا ہے۔ ایک کی اصلاح سے دوسرے کی اصلاح ہوتی ہے‘ایک کے فساد سے دوسرے کا فساد ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی نگاہ کو صاف رکھو‘ اس شخص کو نہ دیکھو جس کی طرف دل ہمکتا ہے ‘ کیونکہ یہ تمہارے لئے حرام ہے۔اگر حلال ہوتا تو ٹھیک تھا‘ لیکن حلال نہیں ہے۔ سو جب اپنی نگاہ کی مالک بن جاؤ گی تو دل کو بھی واپس حاصل کر لو گی۔ یہ پہلا طریقہ کرو۔
_____________________

جانتے ھو محبت کیا ھے...؟



جانتے ھو محبت کیا ھے...؟
اپنے قیمتی وقت اپنی مصروف زندگی کے کچھ لمحے کسی کو دے دینا
کسی کی سن لینا
کسی کی آنکھ سے آنسوؤں کو چن لینا
کسی کے زخموں پر نرم لھجے میں مرھم رکھ دینا
بنا کسی رشتے بنا کسی تعلق کے احساس کرنا. 
بس یھی محبت ھے.
___________________________
________________________________




محبت اور عزت دو ایسی بیش قیمتی چیزیں ہیں
جو زبردستی حاصل نہیں کی جاسکتی، اپنے اخلاق اور رویہ سے کمانی پڑتی ہیں، انسان دولت کے بناء زندگی گزارسکتا ہے
لیکن عزت اور محبت کے بناء اس کا جینا دو بھر ہوجاتا ہے،
!اسی لئے جب تک زندہ ہیں محبت اور خلوص کی خوشبو بکھیرتے رہیں
__________________




جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں سے مطمئن رہتا ھے


جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں سے مطمئن رہتا ھے"
وه
سب سے زیاده دولتمند ھے.
"کیونکہ اطمینان -فطرت کی سب سے بڑی دولت ھے




ﭘﺘﮧ ھﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺐ ﻣﻠﺘﺎ ھﮯ؟ کیسے؟


ﭘﺘﮧ ھﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺐ ﻣﻠﺘﺎ ھﮯ؟ کیسے؟ 
ﺟﺐ ﺗﻢ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎﺅ 
ﺟﺐ ﺗﻢ ﺩﮐﮭﯽ ھﻮ ؛ ﺟﺐ ﺗﻢ ﭨﮭﮑﺮﺍﺋﮯ ﺟﺎﺅ 
ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﭼﯿﺰ، ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺭﺷﺘﮧ ﮔﻨﻮﺍﺅ ۔۔۔۔
ﺩﮐﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺅ۔۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﻭﮨﯽ ﺗﻮ ھﮯ ﺟﻮ ﭨﮭﮑﺮﺍﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ 
ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﮯ ﭘﺰﯾﺮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ تمہیں ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ ھے
____! ﺍﯾﮏ ﻭﮨﯽ ﺗﻮ ہے ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ
تھک ہار کر اللّه کو یاد کر کے ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ھﮯ
کہ ﻣﯿﮟ آپ کو ﭘﺎﻧﮯ لگا ہوں ﺍﻟﻠﻪ 
___ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮧ ﮐﺮنا
ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ، سیدھی راہ دیکھاتے رہنا
!!!اور سب کو نیک ہدایت دینا
-
آمِيْن يَارَبَّ الْعَالَمِينْ



جو خوشیاں لوگوں کو ملیں ___وہ آپکو نہیں ملیں


جو خوشیاں لوگوں کو ملیں ___وہ آپکو نہیں ملیں
لیکن 
جو غم لوگوں کو ملے وہ بھی تو آپکو نہیں ملے،
موازنہ بے سکونی کا سبب بنتا ہے 
اور
شکر میں ہی برکت اور سکون ہے



ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮍﯼ ﺍﮨﻢ ﮨﯿﮟ:


ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮍﯼ ﺍﮨﻢ ﮨﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮈﺭ
ﺍﻭﺭ
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺩﺭ
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﻭ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ
ﺳﻤﺠﮭﻮ ! ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﻌﺎﺩﺗﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ
ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔۔
ﮈﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮔﺎ،
ﺩﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﮔﯽ


ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔۔۔۔ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ۔۔۔۔


ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔۔۔۔ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ۔۔۔۔
ﺑﺲ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ۔۔۔۔
ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔
ﺟﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺑﺤﮑﻢِ ﺧﺪﺍ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﻌﮑﺲ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﻠﮑﮭﻼﺗﯽ ﻗﻮﺱِ ﻗﺰﺡ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ڈالے




اگر آپکو یہ جاننا ہو کے فلاں شخص پر آپ اعتماد کر سکتے ہیں یا نہیں؟


اگر آپکو یہ جاننا ہو کے فلاں شخص پر آپ اعتماد کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یا کرنا چاہئیے یا نہیں؟ تو اسکا طریقہ بلکل آسان ہے.
آپ اپنی آنکھیں بند کریں, کیونکہ بعض اوقات دیکھنے کے لئے آنکھیں بند کرنا پڑتی ہیں
اور اس شخص کے بارے میں سوچیں کے کل کو وہ شخص آپکے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کرے گا؟ وہ کل کو ایسا تو نہیں کرے گا؟ ویسا تو نہیں کرے گا؟
وہ آپکو دھوکا تو نہیں دے گا؟ اگر آپکے دل میں سوچتے وقت ایسا خیال بھی آ جائے نا، تو سمجھ لیجئے گا کے آپ اس پر اعتبار نہیں کر سکتے. پھر دل کو چاہے لاکھ تسلی دیں کے نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا. یہ ہمارا وہم ہے. یہ آپکا وہم نہیں حقیقت ہے. 
جس شخص کے بارے میں آپ کے زہن میں ایسا خیال یا وہم آ سکتا ہے تو اس شخص پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا. اور جس شخص پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اس کی شخصیت کے بارے میں کبھی کوئی غلط خیال یا وہم آپکے زہن یا دل میں جگہ پا ہی نہیں سکتا