Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

اگر آپ کسی کے بغیر رہ نہیں سکتے


اگر آپ کسی کے بغیر رہ نہیں سکتے تو اسے “محبت” نہیں 
" بے بسی” کہتے ہیں
جتنی جلدی ہو سکے,اس بےبسی سے باہر نکلیں





جو باتیں پی گیا تھا میں



جو باتیں پی گیا تھا میں
وہ باتیں کھا گئیں مجھ کو



دل پر پانی پینے آتی هیں امیدیں


دل پر پانی پینے آتی هیں امیدیں
اس چشمے میں زهر ملایا جا سکتا هے




کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟


کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟
تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟
(عمر ابن الخطاب)
اس نے زیر لب ان الفاظ کو پڑھا۔ اسے وہ واقعہ یاد تھا۔ ایک شخض اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔ اس کے جواب میں یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمائے تھے‘ کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پہ ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدردانی کا کیا؟




‏بارش کے موسم میں اس نے صاف لکھ بھیجا



‏بارش کے موسم میں اس نے صاف لکھ بھیجا 
ہم نے اب نہیں آنا_________انتظار مت کرنا



جگ کی بارش دیکھی سب نے


جگ کی بارش دیکھی سب نے
من کی بارش دیکھے کون؟




بن کھائی کبھی سب سن او یارا



بن کھائی کبھی سب سن او یارا 






بیوی غیر مرد کی طرف کب اور کیوں جاتی ہے
معاشرے کی ایک تلخ حقیقت
اگر کسی کو پوسٹ بڑی لگے تو میری طرف سے معذرت
کروٹ بدل کے آنکھیں بند کیے ہی اس نے تکیے کے نیچے سے فون نکالاجو مسلسل وائیبریٹ کر رہا تھا۔ آنکھ کھولی اور فون کی سکرین پہ بلنک کرتا ہوا جانا پہچانا نمبر دیکھ کے اسے کوفت ہوئی۔ ” اس وقت اسے کیا مصیبت پڑی ہے” کچھ بڑبڑاتے اس نے کال کاٹ دی اور میسج ٹائپ کیا” اس وقت بات نہیں کر سکتا، وہ ساتھ سو رہی ہے”میسج سینڈ کرکے کے وہ جواب کا انتظار کرنے لگا۔ فون کی سکرین لائیٹ جو آف ہوگئی تھی میسج ریپلائی آنے پہ آن ہوئی۔ اس نے جلدی سے میسج دیکھا اور ساتھ ہی اپنے بستر سے اٹھ بیٹھا۔ بنا کوئی آواز کیے بالکل آہستہ سے وہ بستر سے اٹھا اور اندھیرے میں ہی چپل ڈھونڈنے لگا۔ چپل ملی تو اس نے آگے بڑھ کے دھیرے سے دروازہ کھولا ۔
باہر کی لائیٹ آن تھی ، دروازہ کھلنے سے کمرے میں ہلکی سی روشنی ہوئی اس نے مڑ کے پیچھے دیکھا کہ کہیں وہ جاگ نہ گئی ہوئی، پر جب بستر پہ نظر پڑی تو بستر خالی تھا۔ “یہ کہاں چلی گئی؟” اسکے دماغ نے کئی سوالوں کو جنم دیا۔ واش روم کا دروازہ بھی کھلا تھا۔ شش وپنج میں مبتلا وہ کیچن کی طرف گیا، وہاں کی لائٹ بھی آف تھی۔ اگلے دس منٹ میں اس نے پورا گھر چھان لیا لیکن اسکا کچھ پتا نہ چلا۔ آواز دے کے پکارنے سے اجتناب کیا کہ کہیں ساتھ والے کمرے میں سوئی ماں جی کی آنکھ نہ کھل جائے۔ حیرانی ایک دم سے پریشانی اور غصے میں بدلی۔ اسکا فون دوبارہ وائیبریٹ کرنے لگا، بڑی بے دلی سے کال کاٹ کے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ سوچوں میں گم ماں کی بات اسکے خیالوں میں گونجی”بیٹا ! آجکل تیری بیوی کے لچھن مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے، گھنٹوں کمرے کا دروازہ بند کرکے پتا نہیں کس سے فون پہ لگی رہیتی ہے” ابھی کچھ دن پہلے ہی ماں جی نے اپنے شک کا اظہار کیا تھا، لیکن اس نے اس بات پہ دھیان نہ دیا۔ کہیں چھت پہ نہ ہو، دماغ میں سوالوں کا انبار لیے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ابھی اسکا پاؤں آخری سیڑھی پہ نہیں پڑا تھا ، ایک سرگوشی سن کے وہ وہیں رک گیا۔ ۔
میں اسکی بیوی تو بن گئی لیکن اسے مجھ میں دلچسپی نام کی نہیں ہے، ہمارے بیچ زور زبردستی کا رشتہ چل رہا ہے ۔ جب پہلی بار میں نے انکے فون میں کسی لڑکی کے غیر اخلاقی میسج پڑھے تو بہت روئی ۔ دل کیا ان سے کہوں پر ڈر گئی کہ کہیں غصے میں آکے طلاق ہی نہ دے دیں ۔ جب میں سو جاتی تو وہ گھنٹوں کسی سے فون پہ باتیں کرتے رہیتے ۔ میں اپنے آپکو اندر سے کھاتی رہی۔ لیکن کتنی دیر برداشت کرتی۔ کوئی تو ہو جو میرے دل کی بات سنے۔ پر جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو تو لگتا ہے کوئی اپنا ہے ، جو پرواہ کرتا ہے۔ میں جب بھی پریشان ہوتی ہوں تو تمہیں یاد کرتی ہوں ۔ تم سے بات کرکے دل کا بوجھ ہلکا ہوجو جاتا ہے، وہ اگر اپنے دل کی باتیں کسی اور سے کرتے ہیں تو میرے دل کی باتیں سننے کے لیے میرے پاس تم ہو۔
سرگوشیاں ابھی جاری تھیں لیکن اس کی برداشت کم پڑ گئی۔ غیرت کے سمندر میں طوفان اٹھا اور اس نے قدم آگے بڑھایا کہ آج تو اسے اس دھوکے کی سزا مل کے رہے گی۔ اتنے میں اسکے فون نے پھر سے وائبریٹ کرنا شروع کیا۔ سارے جذبات ایک دم ڈھنڈے پڑ گئے۔ ایک پل کے لیے جیسے سب کچھ رک گیا ہو۔ جیسے کسی نے اسکی زبان جکڑ لی۔ پاؤں آگے نہ بڑھ پائے۔ وہ کسی شکست خوردہ انسان کی طرح واپس سیڑھیاں اترنے لگا ۔ سرگوشیاں اب بھی کانوں میں پڑتی رہیں جو کلیجہ چھلنی کررہی تھیں۔ اپنا فون پاور آف کرکے وہ بستر پہ لیٹ گیا۔ آج تو آرام دہ بستر پہ بھی کانٹے چبھ رہے تھے۔ جس گناہ کا مرتکب وہ خود تھا کیسے کسی اور کو اسی گناہ کی سزا دیتا۔ اگر کوئی سزاوار تھا تو وہ خود تھا۔ “کبھی کبھی ہم اس بات سے انجان ہوتے ہیں کہ ہماری کی ہوئی چھوٹی سی ایک غلطی کیسے بھیانک طوفان کا پیش خیمہ بنتی ہے



میں نے اسے گناہ و ثواب کے پردے میں نہیں دیکھا


میں نے اسے گناہ و ثواب کے پردے میں نہیں دیکھا
میں نہیں جانتی کہ اسے محسوس کرنے کے لئے بہت نیک ہونا ہوتا ہے.. میں جیسی بھی ہوں..
وہ میرا ہے میں اسکی ہوں.. اس حقیقت سے بڑی کوئ حقیقت نہیں جو میرے دل کو سکون دیتی ہو.. ہاں بس دل چاہتا اپنی میں سے اپنے آپ سے بھی گزر کر اسکی ہو جاؤں
مجھے اس سے سزا و جزا کا حجاب محسوس نہیں ہوتا.. میرے غم میرا ضبط میری چپ میری ہر سانس کا محرم وہ ہے. وہ ہمیشہ محبت لگا .. اپنا .. سچا .. مخلص .. باوفا .. ایسا کھرا جسکا نعم البدل کوئ نہ ہو.. ایسا اپنا کہ جسکے در کو چھوڑ کر کسی در پر نہ جایا جائے.. ایسا بیش قیمت کہ اسکے لئے اپنا آپ دے دینے کو دل چایے .. ایسی محبت کہ اسکے لئے کچھ نہ ہونے کو جی چایے 
مجھے اپنے آنسو اچھے لگتے ہیں.. کہ میرے دل کی رقت مجھے اسکا پتہ دیتی ہے.. ایک پل میں اسکے در کا تالا کھل جاتا ہے اس دل پر..وہ سچا معصوم بےعیب پاک ایک واحد مجھ سے مجھ سے بھی زیادہ محبت کرنے والا. . سب کا اتنا خیال رکھنے والا. . سب سے اتنی محبت رکھنے والا.. میرا دل چاہتا یے میں اہنی ہر خواہش سے پرے اسے اس کے لئے چاہوں.. اسکو سجدے اسکی محبت میں کروں.. اسکی یاد کے آنسو کو آب زمزم سا سینچوں. . اسکے کیف کو اپنی دھڑکن بناؤں.. اسکے اسم کو اپنی زیست کا نور کردوں.. میرا دل چایتا ہے میں اسکے حوالے سے پہچانی جاؤں.. وہ میرا نصیب ہو.. میں اسکے رنگ میں رنگی جاؤں.. میں اس سے سچی ہوں.. میں اسکی ہوں.. میں اسکی ہو جاؤں.. اسکی ہو جانے میں .. میں اپنا ہونا پاؤں.. میں اسکے نام سے پہچانی جاؤں میری زیست میری مرگ میرے خواب میری نیند.. میرے اشک میری مسکان سب ایک اسی کے لئے ہوں.. میری امید میرا انتظار میرا وجد میرا مان .. میرا کیف میرا انتظار.. میرا یقین میرا دھیان سب وہ ہو جائے.. میں ...میں نہ رہوں. سب وہ ہو جائے



میرا غم بھی میرے جیسا تھا



میرا غم بھی میرے جیسا تھا
اس کو جس سے محبت تھی
وہ میں نہیں تھا