Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

وہ اب میری زندگی میں نہیں ہے


وہ اب میری زندگی میں نہیں ہے، اور میں نے اُسے اپنی زندگی پر اثرانداز ہونے سے بھی قابو پا لیا ہے مگر وہ ابھی بھی میرے لاشعور میں باقی ہے، شاید میری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے،
102 جیسے تیز بُخار میں جہاں اپنی ہوش نہیں ہوتی انسان کو، میں نے غُنودگی میں اُسے اپنےپاس بیٹھے ہوئے پایا، جیسے وہ دیکھ رہا ہو مجھے۔ اُس تیز بخار کی تکلیف میں ہونے والے اُس سکوں کو شاید میں کبھی الفاظ میں بیاں نہیں کرسکتی



ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ



ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ 
ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﺳﮩﻨﺎ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮ ﮐﮧ 
ﻏﻢ ﺳﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﮨﻮ
ﮐﮧ ﺳﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﻧﮧ ﺟﻨﺒﺶ ﺍﺑﺮﻭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺑﻞ ﺁﺋﮯ
ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﭘﮧ ﻃﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﻟﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ' ﺁﮦ ' ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ
ﻧﮧ ﺩﻝ ﮈﻭﺑﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﻧﻤﯽ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﭘﺮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ
ﻟﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻧﻤﯽ ﮐﻮ ﭘﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﭼﺒﮭﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮑﻦ ﻣﯿﮟ
ﺧﺎﻣﺸﯽ ﺳﮯ ﺟﯽ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﻮ


مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں



مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں
پوچھتی ہیں آپ، آپ اچھے تو ہیں؟
جی میں اچھا ہوں، دعائیں چاہییں


ہر کسی کی اپنی قیامت ہوتی ہے


ہر کسی کی اپنی قیامت ہوتی ہے
جب گھاس کے تنکے پر بارش کی بوند گرتی ہے
تو تنکے پر بیٹھی ہوئی چیونٹی یہ سمجھتی ہوگی کہ کائنات فناء ہونے لگی ہے



ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم


ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے



یہ آنے والے زمانوں کے کام آئیں گے



یہ آنے والے زمانوں کے کام آئیں گے 
کہیں چھپا کے میرے تجربات رکھ دینا


تدفین میرے جسم کی ہو جاۓ گی، لیکن


تدفین میرے جسم کی ہو جاۓ گی، لیکن
تم! کیسے میرے خواب، اُتارو گے لحد میں ؟

تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے


تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو
یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے.





عشق کی ٹیسیں ، جو مضرابِ رگِ جاں ھو گئیں



عشق کی ٹیسیں ، جو مضرابِ رگِ جاں ھو گئیں
رُوح کی مدھوش بیداری کا ساماں ھو گئیں

پیار کی میٹھی نظر سے ، تُو نے جب دیکھا مجھے
تلخیاں سب زندگی کی ، لطفِ ساماں ھو گئیں

اب لبِ رنگیں پہ نوریں مسکراھٹ ؟ کیا کہوں
بجلیاں گویا ، شفق زاروں میں رقصاں ھو گئیں

ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار
ھائے وہ آنکھیں ، جو ضبطِ غم میں گریاں ھو گئیں

چھا گئیں دشواریوں پر , میری سہل انگاریاں
مشکلوں کا اِک خیال آیا , کہ آساں ھو گئیں



ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﮞ،


ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﮞ، ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ، ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ؟؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﮈﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﻼﻧﯽ ﮨﯿﮟ، ﻧﻔﺮﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﮭﯿﻞ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ