Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

میں نے تمہیں طلاق دی.

 

 

آج کل طلاق کے اعدادوشمار اس قدر بڑھ گے ہیں جو پچھلے کئی سالوں میں اس طرح نہیں تھے.

"میرا گھر کہاں ہے؟ "

سمیرا کا دن پھر سسرال والوں سے لعنت ملامت سنتے گزرا تھا. اس کی ساس نندیں اٹھتے بیٹھتے اس کو جتاتیں. بہو یہ تمھارا اور تمہارے ابا کا گھر نہیں ہے. جہاں تم جو چاہو گئی کرو گی.

آج تو معمولی سی بات پر سب نے ایسا بتنگڑ بنایا کہ اس کے ہزار بار معذرت کے باوجود اس کی ساس نندوں کے مزاج درست نہ ہوئے. جیسے جیسے عقیل کے گھر آنے کا وقت ہورہا تھا سمیرا کا دل بیٹھا جارہا تھا ابھی عقیل نے گھر میں قدم ہی رکھا تھا. سمیرا کی ساس نندوں نے ایسا طوفان برپا کیا کہ عقیل اس پر چیل کی طرح جھپٹ پڑا. اس نے سمیرا کی بات سننے کی بھی زحمت نہیں کی. اس کے بال پکڑ کر اس پر تاڑ تاڑ تھپڑوں کی بارش کردی. آج اس کا غضب ہی علیحدہ تھا .جب وہ مار مار کر تھک گیا تو اس نے کہا :

میں نے تمہیں طلاق دی.

میں نے تمہیں طلاق دی.

میں نے تمہیں طلاق دی.

سمیرا لپک کر اس کے پیروں میں گری مگر اس کی دنیا لٹ چکی تھی.

اس کی نند نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو دروازے سے باہر نکال دیا. یوں جس گھر میں وہ چھ ماه پہلے شادیانوں کے ساتھ عروسی لباس میں ملبوس، زیورات سے لدی ہوئی آئی تھی.آج اس گھر سے اس کو خالی ہاتھ، طلاق کا داغ دے کر؛ دھکے مار کر نکال دیا گیا تھا. اس کے کان میں اپنی ماں کی آواز گونجی :

"بیٹا ! اپنے گھر جا کر سارے اپنے چاه پورے کرنا. کنواری لڑکیاں اپنے ماں باپ کے گھر ایسے چاو پورے نہیں

کرسکتیں ."

وه اپنے زخمی بدن اور روح کو گھسیٹتی کیسے اپنے ماں باپ کے گھر پہنچی وه اس سے بالکل ناواقف تھی. جب اس کو ہوش آیا تو اس کے ماں باپ، بہن بھائی ایسے رو رہے تھے جیسے کوئی مر گیا ہو.اس نے بہت کوشش کی کہ وہ ان کو بتائے کہ وہ ابھی زندہ ہے.

اگلے دن سے اس کے گھر افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا. وه بظاہر افسوس کرنے آتے مگر اس کے زخم زدہ جسم اور چہرے کو دیکھ کر عورتیں معنی خیز انداز میں مسکراتیں. اس کو اپنی بدکردار ہونے کا طعنہ بھی سننا پڑا .کوئی اس کی بات ماننے پر آمادہ نہ تھا کہ ایک سالن میں نمک تیز ہونے پر اس کی زندگی میں یہ زہر گھول دیا گیا ہے. کوئی اس بات کو سننے یا سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ عقیل کی ماں بہنوں نے اسے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طلاق دلوا کر گھر سے نکالا ہے.اس کی ماں کو اس سے ہمدردی تھی مگر اس کے ابا کو تو ایسے لگتا تھا کہ جیسے وہ اس کو جانتا ہی نہ ہو.بھائیوں اور بھابیوں کے تیور خراب تھے. بہنیں اس سے ہمدردی کرتیں تو ان کو بھی جھاڑ پڑتی. ایسا لگتا تھا جیسے اس کو کوڑھ ہوگیا ہو.اس کا بابل کا گھر پرایا ہوگیا تھا. ہر نظر میں اس کے لیے شک تھا. آج ناعمہ کے سسرال والے آئے اور بغیر کسی وجہ کے انگوٹھی واپس کرکے رشتہ توڑ دیا.

آج زندگی میں پہلی بار اماں نے اس کو مارا اور بار بار کہا؛

تو مر ہی کیوں نہ گئی اپنے گھر میں"

سمیرا ایک دم سے چلائی :

اماں! میرا گھر اس دنیا میں کہاں ہے؟

یہ گھر میرے ابا اور بھائیوں کا ہے وہ گھر عقیل اور اس کی ماں بہنوں کا تھا. میرا گھر کونسا ہے اماں؟

اماں کے ہاتھ رک گئے. باہر سے آتے ابا اور بھائی بھی شرمندگی سے بغلیں جھانک رہے تھے۔

 

خاندانی سوٹ

 

 

اس دفعہ میں نے عید پر بڑا ہی "خاندانی" سوٹ لیا ہے..میری بہن کہتی ہے زہر لگتی ہو مجهے جب ہر دوکان میں جا کر کہتی ہو بهائی ذرا خاندانی سا سوٹ دکهانا ..

بهلا یہ خاندانی سوٹ کیسا ہوتا ہے؟

میں کہتی ہوں خاندانی سوٹ وہ ہوتا ہے جس میں بندہ خاندانی لگے.. جو عمر کی مناسبت سے ہو...جس پر آجکل کے فیشن کے مطابق گهوڑے گاڑیاں یا رکشے نا بنے ہوں.. جس کا کچا تیز رنگ نا ہو... جس کا پرنٹ بیڈ شیٹ کی طرح نا ہو...نا ہی اتنے چهوٹے پهول ہوں کہ جوئیں لگیں..جس میں بندہ ڈیسنٹ اور امیر لگے.. اور پهر اگر اس کو خاندانی سا سلواؤ تو مزہ ہی اور ہے... اب بهلا خاندانی سلائی کیسی ہوتی ہے؟ کہ جس میں آپ کا جسم ڈهک جائے اور فیشن بهی پورا ہو.. کہ آپ دور سے ہی باوقار نظر آئیں.. یقین مانیں بڑی بری لگتی ہیں لڑکیاں یہ چهوٹی آستینوں اور تنگ پاجاموں میں.. ٹهیک ہے پاجامہ اچها لگتا ہے لیکن ساته میں چهوٹی قمیض....خاندانی نہیں لگتی...

اور حیرت ہوتی ہے ان لڑکیوں پر جو دوپٹہ نہیں لیتیں..میں کردار پر بات نہیں کر رہی بہت بہت اچهی لڑکیاں بهی دوپٹہ نہیں لیتیں مگر دل کا اور دوپٹے کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے... اکثر لڑکیاں جواب میں کہتی ہیں میری ڈریسنگ پر نا جائیں ہو سکتا ہے میرا تعلق اللہ سے تمہارے مقابلے زیادہ پختہ ہو.. اب دل کی اچهائی کا دوپٹے سے کیا تعلق...یعنی آپ بہت اچهے ہو آپ کا دل صاف ہے تو آپ کپڑے اتار دو... اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو واللہ اللہ خود کہتا کہ جو اچهی لڑکیاں ہیں جن کا میرے ساته تعلق زیادہ اچها ہے جو میرے زیادہ قریب ہے وہ بے شک کپڑے ہی نا پہنے... جب آپ اللہ کا عورت کیلیئے سب سے اہم حکم نہیں مانیں گے تو کہاں کا اچها تعلق ؟کہاں کا قرب؟...ہاں کوئی فرشتہ نہیں ہے سب سے گناہ ہوتے ہیں لیکن کم از کم اپنا جسم ڈهکنا تو ہمارے اختیار میں ہے نا...

ماؤں کو چاہیئے بہت بچپن سے ہی بچیوں کو وہ کپڑے نا پہنائیں جو ان کے بالغ ہونے پر ان کیلیئے مکروہ ہو..

بڑے ہونے پر بهی ان کو وہی عادت ہوتی ہے نا دوپٹہ لیتیں ہیں نا باحیا کپڑے پہنتی ہیں.. تو ایسے میں دنیا والوں کی زبانوں کو اور آپ کی طرف اٹهتی نظروں کو کون روک سکتا ہے؟

خاندانی کپڑا لیں اور پهر خاندانی سلوائیں...تاکہ آپ خاندانی لگیں!!

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ ـــ؟؟

 

 

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ ـــ؟؟

ﻃﻨﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﮯ ﻃﻨﺰ ﮐﮯ ﻧﺸﺘﺮ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ـــ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ "ﺑﺘﺎﺅ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ـــ؟

ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﮯﺭﺣﻤﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎ ﺩﻝ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺴﻞ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﮟ! ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﺭﮒ ﺭﮒ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﺘﺎ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎـــ؟

ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﺭﺥ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺴﮑﺎﺋﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮍﭘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﮦ ﮨﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔۔۔ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﻮﭨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺮ ﻋﺎﻡ ﭘﺘﮭﺮ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺳﻨﮕﺴﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺟﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﻃﻌﻨﮧ ﺩﯾﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﺎﮨﻞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ـــ، ﺟﺘﻨﯽ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ـــ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔!!!

ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﭼﭗ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﻠﺌﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﮯ ﻗﻮﻝ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ ـــ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ـــ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ـــ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﺳﺴﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ـــ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ـــ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺿﻤﯿﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ـــ ﺩﻡ ﺳﺎﺩﮬﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ــ ﮐﮧ ﮐﺐ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ـــ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﮔﯿﮟ ـــ ﺧﺪﺍﺭﺍ ــــ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﯾﺴﺎ ـــ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ـــ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺮﺳﭩﺮﯾﺸﻨﺰ ﮐﻮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﯿﮟ ـــ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ـــ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ـــ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮟ ـــ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ ـــ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﯿﮟ ـــ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﯾﮟ۔۔!!!

 

 

تھکن تو ہوگی ہی

 

👈"تھکن تو ہوگی ہی۔۔

جب تم اْسے قبول نہیں کرو گے جس کا رخ تمھاری طرف ہے

اور بھاگ اس کی طرف رہے ہو جس کی پشت تمھاری طرف ہے۔۔۔

تھکن تو ہوگی ہی۔۔

یاد رکھو جو تمھاری طرف آتا ہے وہ بھیجا گیا ہے

اور جو تم سے دور جائے وہ تم سے ہٹایا گیا ہے

بس تم اس کو قبول نہیں کر پاتے۔۔۔

 

 

 

ہاں یہ تو سچ ہے


ہاں یہ تو سچ ہے میں محبت کو جس خوب صورتی سے کاغذ پہ رقم کرنے میں ماہر ہوں اتنی ہی بدصورتی سے میں اسے کرنے میں ان پڑھ ہوں 
مجھے محبت کرنا نہیں آتی 
میں محبت کے آداب سے واقف ہی نہیں ہوں 
مجھے نہیں پتہ جب کسی کے سر میں درد ہو تو اس کے ماتھے پر لبوں کو دھر کے اس کا دھیان درد سے کیسے ہٹایا جاتا ہے
میں نہیں جانتی جب غصے میں کوئی آپ پر چیخ چِلا رہا ہو تو دھیرے دھیرے چل کے اس کے قریب جاتے ہی اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ دھر کہ یہ کیسے کہا جاتا ہے کہ 
اچھا نہ ہوگئی غلطی اب ایسے ڈانٹیں گے تو میں رو بھی جاتی ہوں پھر-
مجھے نہیں خبر کے جب کوئی تھکا ہارا گھر کو لوٹتا ہے تو کیسے اس کے گلے لگ کر اس کے سینے پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ کر سکون بخشا جاتا ہے
مجھے اندازہ ہی نہیں کہ خاموشی سے کسی کو اپنی جھوٹی چائے پلا دینے
سے کیسا لطف آتا ہے 
مجھے ادراک ہی نہیں صبح کو گیلے بالوں سے ٹپکتا پانی کسی پر پھینک کر کیسے نیند سے جگایا جاتا ہے 
مجھے پتہ ہی نہیں ...محبت کیا ہے محبت کا ہونا کیا ہے ...مگر مجھے تم سے صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر تمھیں مجھ سے محبت ہوگئی تو 
تو میں تمھیں تمھارا اپنا آپ بھلوا دوں گی 
تمھاری آنکھوں کی چمک سے لے کر تمھارے ہونٹوں کی مسکراہٹ تک سےمیں چھلکنے لگوں گی 
تمھارے سگریٹ کے دھوئیں میں صرف اور صرف میرا عکس ہوگا 
میں تمھاری سنسان راتوں میں روشنی بکھیر دوں گی
تمھارے اداس دنوں کو قوسِ قزاح کے ست رنگوں سے سجادوں گی 
خزاں کے موسم میں تمھارے لیے بہار کو کھینچ لاؤں گی 
تمھارے سارے وجود پر صرف اپنے نام کا ورد جاری کردوں گی تمھیں پور پور محبت میں ڈُوبو کر خود بھی مجسم محبت بنی رقص کرنے لگوں گی مگر تمھیں مجھ سے محبت ہوگئی تو اور اگر مجھے تم سے محبت ہوگئی تو ؟



مجھے نفرت ہے اپنے حساس ہونے سے۔


مجھے نفرت ہے اپنے حساس ہونے سے۔۔۔مجھے نفرت ہے لوگ مجھ سے باتیں کریں اور میرا خیال رکھیں یہاں تک کے مجھے ان کی عادت ہو جائے۔۔۔مجھے نفرت ہے کے میں کسی کے بارے میں زیادہ سوچوں یہاں تک کے میں پوری رات کسی کے خیال میں گزار دوں۔۔۔مجھے نفرت ہے اس احساس سے کہ میں محسوس کروں کے کوئی مجھے اپنی عادت ڈال کر مجھے نظر انداز کر رہا ہے۔۔۔
مجھے نفرت ہے۔


ایسا نہیں کہ میں نے آپ نے اور بہت سے لوگ



ایسا نہیں کہ میں نے آپ نے اور بہت سے لوگ جو یہاں ہیں انہوں نے زندگی میں کچھ پایا نہیں جو انہیں ایسی اداس کر دینے والی شاعری پسند ہے ہم,اپنی زندگی میں بظاہر عام سے لوگ ہیں سب کی طرح ہنستے مسکراتے , زندگی_جیتے , رشتے_نبھاتے پر یہاں جو کچھ لکھتے ہیں وہ سب ہمارے اندر موجود احساسات اور ادھوری رہ جانے والی خواہشات کا ملال ہوتا ہے کیونکہ ظاہری طور پر انسان سمجھوتہ کرلیتا ہےلیکن اسکے اندر کا انسان ایک بچے کی طرح عمر بھر روٹھا ہی رہتا ہے



انسان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے؟


انسان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے؟
کسی نے بہت ہی خوبصورت جواب دیا "چاہے جانا
لیکن کتنی عجیب بات ہے نا کہ جب کوئی شخص ہمیں ٹوٹ کر چاہتا ہے تو ہم اسکی چاہت کو ہر موڑ پر آزماتے ہیں۔ جتنی بلند وہ چاہت ہوتی جاتی ہے، اتنا ہی بلند ہم اپنا معیار کر لیتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ہمارے معیار تک پہنچتے ہیں، ہم اپنا معیار ہی بدل لیتے ہیں۔
کیا سچ میں انسان کی سب سے بڑی خواہش
"چاہے جانا" ہی ہے؟
دراصل اس چاہے جانے کے خیال سے زیادہ مزہ ہمیں اس شخص کی خامیاں نکالنے میں اور کئی بار اسکو آزمانے میں آتا ہے۔
مرمتیں کر کے روز تھکتا ہوں،
روز میرے اندر نیا نقص نکل آتا ہے



پتا نہیں لوگوں کے لئے اذیت اور سکون کیا ہے۔


پتا نہیں لوگوں کے لئے اذیت اور سکون کیا ہے۔۔لیکن میرے لئے اذیت صرف " وہ " ہے۔۔اور میرے لئے سکون بھی صرف "وہ" ہے ۔۔۔ جب وہ سامنے آتا ہے تو میرا دل کرتا ہے اس کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسکا چہرہ بگاڑ دوں۔۔لیکن اگر میں ایک دن بھی اسے نہ دیکھوں تو میں اندھی ہو جاتی ہوں ۔۔ جب وہ مجھے دیکھتا ہے تو میرا بس نہیں چلتا کہ میں کہیں سات زمینوں کی گہرائیوں میں خود کو دفن کر لوں۔۔لیکن جب وہ میرے سامنے سے مجھے دیکھے بنا گزر جاتا تو میرا دل کرتا میں خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لوں خود کو ۔۔ جب وہ ہنستا ہے تو میرا دل چاہتا ہے اسکی ہنستی آنکھوں کو بنجر کر دوں۔۔لیکن جب وہ اداس سا بیٹھا ہوتا ہے تو میرا من کرتا پوری دنیا کی خوشیاں اس کے قدموں میں ڈھیر کر دوں۔۔ وہ مجھے تڑپتی، بلکتی کو چھوڑ کر چلا گیا ۔۔اور میرا دل کیا کہ اس کے قدموں کے نشان مٹا دوں ۔۔۔لیکن میں نے وہ مٹی سنبھال کر رکھ لی۔۔میں جانتی ہوں میں مر رہی ہوں ۔۔لیکن ہر بار اس کے سامنے آنے پر میں نئی زندگی جی جاتی ۔کیا کوئی سچ میں میری اذیت کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ ۔۔میں اس انسان سے نفرت کرتی ہوں۔۔جس کا عشق میری جان لے رہا ہے۔۔



ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺎﮎ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﺠﺮ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺧﻂ


ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺎﮎ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﺠﺮ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺧﻂ

ﺧﯿﺎﺑﺎﻥِ ﺑﺤﺮﯾﮧ ﻻﮨﻮﺭ، ﭘﻨﺠﺎﺏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ

ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ﻣﺎﺋﺮﮦ؟ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﯽ، ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﺎﺋﺮﮦ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺧﻂ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺯﯾﺪ ﺑﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ۔ ﮐﻞ ﺯﯾﺪ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﭘﺎﯾﺎ، ﮐﯿﺴﮯ ﺁﺗﺎ؟ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ 20 ﮐﺮﻭﮌ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺯﯾﺪ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﺳﭩﮉﯼ ﮐﮯ ﮐﯿﺒﻨﭧ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﺰ ﺭﻧﮓ ﮎ ﻟﻔﺎﻓﮧ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺯﯾﺪ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﮐﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻔﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺩﯾﻨﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺧﻂ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺁﻧﺴﻮ ﮔﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ، ﺁﺧﺮ ﺗﻢ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ؟ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺯﯾﺪ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﺎ، I Want My Son To Be A Brave Just Like Me ، ﺯﯾﺪ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ، ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﺗﮭﺎ ، ﺍﺳﮑﮯ ﺑﺎﻝ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ، ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺎ ، ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺩﻭﮞ۔ﻣﺎﺋﺮﮦ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮐﺜﺮ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﭘﮩﻠﯽ ﮔﻮﻟﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﻟﯽ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻧﮑﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ، ﺳﺐ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ ﮨﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ۔
ﭘﺮﺳﻮﮞ ﻗﻮﻣﯽ ﺗﺮﺍﻧﮯ ﮔﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﮞ ﺳﺎﺭﺍ ﻏﺼﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﻢ ﻧﺼﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﻧﻘﺼﺎﻧﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﻦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﯿﺎ، ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺴﻮﻝ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﺩﮬﻤﺎﮐﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﻢ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻦ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺋﺮﮦ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺑﭽﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺝ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﻮﺍﺋﻦ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﮎ ﻭﻃﻦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﻮﮞ۔ﻣﯿﮟ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﮞ ﻣﺎﺋﺮﮦ، ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺎﭖ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺧﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﻥ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺯﯾﺪ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﻣﺎﺋﺮﮦ، ﺍﺏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﺎﻟﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺁﺝ ﻣﺮﺗﮯ ﻣﺮﺗﮯ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﻣﺎﺋﺮﮦ، ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻧﺸﮧ ﮨﮯ ، ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻧﺸﮧ، ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺸﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﭘﮭﯿﮑﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﯼ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﺎﺋﺮﮦ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﮮ۔ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺳﺒﺰ 
ﮨﻼﻟﯽ ﭘﺮﭼﻢ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭧ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ، ﻣﯿﮟ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ
Ramp Ceremony  ﺍﭘﻨﯽ 
  ﭘﺮ، ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻭﻧﻖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﻓﺎﺋﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﻼﻣﯽ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﮧ ﺗﻢ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ … ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ! ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺪ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺯﯾﺪ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺪ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ، ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﻣﯿﺠﺮ ، ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺭﺟﻤﻨﭧ
 4th  B