میرا تجربہ ھے کہ
میرا تجربہ ھے کہ
جب کبھی ھماری دعا قبول ھو جائے تو ھمیں اِس بات پر خوشی نہیں ھوتی کہ دعا قبول ھو گئی.
اور خوشی نہ ھو تو احساسِ شکرگزاری پیدا ھونے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا.
اُلٹا ھمیں یہ غم لگ جاتا ھے کہ
قبولیت کے اِس لمحے میں ھم نے کچھ اور کیوں نہ مانگ لیا.
___________________
__________________________
واقعی کبھی کبھی انسان ایک نا معلوم سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے
واقعی کبھی کبھی انسان ایک نا معلوم سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے
سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کس چیز سے نا خوش ہے___؟
اپنی زندگی سے؟ حالات سے؟ لوگوں سے؟
یا پھر اپنے آپ سے___؟؟؟
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عجیب سا خلا محسوس کرتا ہے
ایک بے نام سی کمی
گویا وہ کسی اور دنیا کا باسی ہے اور غلطی سے اس دنیا کی طرف آ نکلا ہے
وہ جو ہر پل دوسروں کو خوش کرنے میں لگا رہتا ہے
اس وقت خود سے ناراض سا ہونے لگتا ہے
اس پل وہ ہر چیز سے کٹ جانا چاہتا ہے
خاموشی کے جنگل میں گم ہو جانا چاہتا ہے'
جہاں اسے خود اپنے وجود کا بھی پتہ نہ مل سکے_
تب وہ بے بس ہو کر سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہیں کر سکتا
آنسو بھی وہ جو نظر نہیں آتے___پونچھے نہیں جا سکتے
پھر وہ ہوتا ہے اسکی ذات کی الجھنیں ہوتی ہیں اور اسکا اللہ ہوتا ہے
وہ جو دنیا کے سامنے ٹوٹنے سے ڈرتا ہے
خود پہ مضبوطی کا خول چڑھائے رکھتا ہے
'اس رب تعالی کے آگے ٹوٹ جاتا ہے' بکھر جاتا ہے'کھل جاتا ہے_
اور وہ_
وہ ذات اسے سمیٹ لیتی ہے
خود سپردگی کا یہ عالم اسے زندگی کی حقیقت سمجھا دیتا ہے
وہ جانتا تھا میں اس سے محبت نہیں عشق کرتی ہوں
وہ جانتا تھا میں اس سے محبت نہیں عشق کرتی ہوں۔۔۔بے پناہ عشق۔۔۔وہ جانتا تھا وہ میری کمزوری بن چکا ہے۔۔۔کبھی کوئی بات نہیں بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہوجاتا تھا جب۔۔۔تو پاگل سی ہو جاتی تھی میں۔۔۔بات بات پر آنسو ٹوٹ کر گرنے لگتے تھے۔۔۔اس کی ناراضگی میرا اس دنیا سے دل اچاٹ کر دیتی تھی۔۔۔ہر چیز سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس نے میری زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے درد سے بھر دیا۔۔۔نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں۔۔۔بس خالی ذہن کے ساتھ زندگی گزارے چلی جا رہی ہوں۔۔۔اس کی محبت کو میں اپنی مضبوط پناہ گاہ سمجھتی رہی۔۔۔لیکن اس نے سب کچھ چھین لیا مجھ سے۔۔۔خوشی کا ہر احساس ہر وجہ۔۔۔اور میری زندگی کو ہمیشہ کے لیئے اندھیروں کے حوالے کر دیا۔۔۔
کتنی شدت،کتنی تڑپ،کتنی چاہت،
کتنی شدت،کتنی تڑپ،کتنی چاہت،اور کتنی پاکیزہ محبت ہوتی ہو گی اس دل میں۔۔۔جو اس شخص کے سینے میں دھڑکتا ہے جو تمہیں خدا سے مانگتا ہے۔۔۔
اور کبھی سوچا ہے۔۔۔؟
کتنی تکلیف،کتنی اذیت،کتنے درد ہوں گے اس دل میں۔۔۔جو اس شخص کے سینے میں دھڑکتا ہے۔۔۔جو کبھی تمہیں خدا سے رو رو کر مانگتا تھا۔۔۔آج تمہاری وجہ سے وہی شخص خدا سے رو رو کر تمہیں بھولنے کی دعائیں کرتا ہو۔۔۔
چلو کبھی وقت ملا تو سوچنا ضرور۔۔۔
لوگ کہتے ہیں احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مضبوط اور گہر ے ہوتے ہیں
لوگ کہتے ہیں احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مضبوط اور گہر ے ہوتے ہیں .....نہیں میں یہ نہیں مانتی جن رشتوں کا کوئی نام نہ ہو کوئی تعارف نہ ہو وہ خواہ کتنے ہی مضبوط ہوں مجبوریوں کے نام پر یا بلا جواز توڑ دیے جاتے ہیں اس رشتے سے وابستہ لوگ چھوڑ دیے جاتے ہیں چاہے کتنے ہی مخلص اور بے ضرر کیوں نہ ہوں اسکے بر عکس خون کے رشتے ..... لاکھ مجبوریاں آجایں خواہ کتنا ہی نقصان دے جائیں نہ توڑے جاتے ہیں نہ چھوڑے جاتے ہیں
Subscribe to:
Comments (Atom)









