Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

جو مکمل ملتے نہیں


جو مکمل ملتے نہیں
وہ مکمل بچھڑتے بھی نہیں 
یہی اصل کہانی ہے 



زندگی کو ضرورت میں رکھو خواہشات کی طرف نہ لے جاؤ



زندگی کو ضرورت میں رکھو خواہشات کی طرف نہ لے جاؤ
ضرورت فقیروں کی بھی پوری ہوتی ہے اور
خواہشیں بادشاہوں کی بھی باقی رہ جاتی ہیں ۔
___________
___________________________



اتنی بڑی اِن دنیاؤں میں


اتنی بڑی اِن دنیاؤں میں
اپنے نام کی تختی والی، ایک عمارت
کتنے دکھوں کی اینٹیں چن کر گھر بنتی ہے
پتھر پتھر جوڑ کے دیکھو
میں نے بھی اک گھر ہے بنایا
رنگوں، پھولوں، تصویروں سے
ہے اُس کو سجایا
دروازے کی لوح پہ اپنا نام بھی لکھایا
لیکن
اس کے ہر کمرے میں تم رہتے ہو



میرا تجربہ ھے کہ


میرا تجربہ ھے کہ 
جب کبھی ھماری دعا قبول ھو جائے تو ھمیں اِس بات پر خوشی نہیں ھوتی کہ دعا قبول ھو گئی.
اور خوشی نہ ھو تو احساسِ شکرگزاری پیدا ھونے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا. 
اُلٹا ھمیں یہ غم لگ جاتا ھے کہ
قبولیت کے اِس لمحے میں ھم نے کچھ اور کیوں نہ مانگ لیا.
___________________
__________________________


واقعی کبھی کبھی انسان ایک نا معلوم سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے


واقعی کبھی کبھی انسان ایک نا معلوم سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے 
سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کس چیز سے نا خوش ہے___؟ 
اپنی زندگی سے؟ حالات سے؟ لوگوں سے؟ 
یا پھر اپنے آپ سے___؟؟؟ 
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عجیب سا خلا محسوس کرتا ہے
ایک بے نام سی کمی
گویا وہ کسی اور دنیا کا باسی ہے اور غلطی سے اس دنیا کی طرف آ نکلا ہے
وہ جو ہر پل دوسروں کو خوش کرنے میں لگا رہتا ہے
اس وقت خود سے ناراض سا ہونے لگتا ہے 
اس پل وہ ہر چیز سے کٹ جانا چاہتا ہے
خاموشی کے جنگل میں گم ہو جانا چاہتا ہے' 
جہاں اسے خود اپنے وجود کا بھی پتہ نہ مل سکے_ 
تب وہ بے بس ہو کر سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہیں کر سکتا
آنسو بھی وہ جو نظر نہیں آتے___پونچھے نہیں جا سکتے
پھر وہ ہوتا ہے اسکی ذات کی الجھنیں ہوتی ہیں اور اسکا اللہ ہوتا ہے
وہ جو دنیا کے سامنے ٹوٹنے سے ڈرتا ہے 
خود پہ مضبوطی کا خول چڑھائے رکھتا ہے 
'اس رب تعالی کے آگے ٹوٹ جاتا ہے' بکھر جاتا ہے'کھل جاتا ہے_
اور وہ_
وہ ذات اسے سمیٹ لیتی ہے
خود سپردگی کا یہ عالم اسے زندگی کی حقیقت سمجھا دیتا ہے



وہ جانتا تھا میں اس سے محبت نہیں عشق کرتی ہوں


وہ جانتا تھا میں اس سے محبت نہیں عشق کرتی ہوں۔۔۔بے پناہ عشق۔۔۔وہ جانتا تھا وہ میری کمزوری بن چکا ہے۔۔۔کبھی کوئی بات نہیں بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہوجاتا تھا جب۔۔۔تو پاگل سی ہو جاتی تھی میں۔۔۔بات بات پر آنسو ٹوٹ کر گرنے لگتے تھے۔۔۔اس کی ناراضگی میرا اس دنیا سے دل اچاٹ کر دیتی تھی۔۔۔ہر چیز سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس نے میری زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے درد سے بھر دیا۔۔۔نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں۔۔۔بس خالی ذہن کے ساتھ زندگی گزارے چلی جا رہی ہوں۔۔۔اس کی محبت کو میں اپنی مضبوط پناہ گاہ سمجھتی رہی۔۔۔لیکن اس نے سب کچھ چھین لیا مجھ سے۔۔۔خوشی کا ہر احساس ہر وجہ۔۔۔اور میری زندگی کو ہمیشہ کے لیئے اندھیروں کے حوالے کر دیا۔۔۔



کیسا امید کا سفر تھا مرا.....؟



کیسا امید کا سفر تھا مرا.....؟
اسکے در پر ہزار دستک دی
نہ کھلا در.... نہ دل 
نہ بخت کا بھید
صرف اتنا کھلا......کہ
گداؤں پر
بادشاھوں کے در نہیں کھلتے


کتنی شدت،کتنی تڑپ،کتنی چاہت،


کتنی شدت،کتنی تڑپ،کتنی چاہت،اور کتنی پاکیزہ محبت ہوتی ہو گی اس دل میں۔۔۔جو اس شخص کے سینے میں دھڑکتا ہے جو تمہیں خدا سے مانگتا ہے۔۔۔
اور کبھی سوچا ہے۔۔۔؟
کتنی تکلیف،کتنی اذیت،کتنے درد ہوں گے اس دل میں۔۔۔جو اس شخص کے سینے میں دھڑکتا ہے۔۔۔جو کبھی تمہیں خدا سے رو رو کر مانگتا تھا۔۔۔آج تمہاری وجہ سے وہی شخص خدا سے رو رو کر تمہیں بھولنے کی دعائیں کرتا ہو۔۔۔
چلو کبھی وقت ملا تو سوچنا ضرور۔۔۔


لوگ کہتے ہیں احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مضبوط اور گہر ے ہوتے ہیں



لوگ کہتے ہیں احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مضبوط اور گہر ے ہوتے ہیں .....نہیں میں یہ نہیں مانتی جن رشتوں کا کوئی نام نہ ہو کوئی تعارف نہ ہو وہ خواہ کتنے ہی مضبوط ہوں مجبوریوں کے نام پر یا بلا جواز توڑ دیے جاتے ہیں اس رشتے سے وابستہ لوگ چھوڑ دیے جاتے ہیں چاہے کتنے ہی مخلص اور بے ضرر کیوں نہ ہوں اسکے بر عکس خون کے رشتے ..... لاکھ مجبوریاں آجایں خواہ کتنا ہی نقصان دے جائیں نہ توڑے جاتے ہیں نہ چھوڑے جاتے ہیں



محبت کے نام پر کسی کو بهی استعمال کر لینا بہت آسان ہے



محبت کے نام پر کسی کو بهی استعمال کر لینا بہت آسان ہے 
لیکن استعمال کرنے والوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے کیونکہ میرے خالق نے انسان کو بهیجنے سے پہلے مکافات عمل کا نظام طے کر لیا تها