Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

Omar Cricket Club edge out Qasmi Gymkhana to regain KG title

Omar Cricket Club regained the title by edging out Qasmi Gymkhana by three runs in a thrilling final of the 33rd Karachi Gymkhana Ramazan Festival Twenty20 Cricket Tournament 2018 for the Omar Associates Trophy at the Karachi Gymkhana Cricket Ground on June 13.

It was in the fitness of things that the title clash turned out to be the most exciting of all 31 matches of the tournament. With four runs needed on the last ball it was anybody’s game until the very end.

Omar CC, fielding with 10 men only, controlled its nerves better to be the deserved winners of the trophy.

The champions, Omar CC, felt hard done, however, at the controversial decision of the umpires, Riazuddin and Muhammad Shakil, for not having allowed them a substitute fielder in place of Umar Akmal and they had to field with 10 men for the better part of their opponents’ innings.

Put into bat, Omar CC had to be content with a total of 179 for nine in the allotted 20 overs. Fine knocks from opener Ahsan Ali (44 off 25 balls), Rameez Raja (44 off 21 balls) and Danish Aziz (45 off 35 balls) allowed them to reach 110 at the halfway stage but they were unable to make the most of it.

Qasmi Gymkhana fought back through the spin duo of Hasan Sardar (3-18) and Wasim Ali (2-41) with medium-pacer Kamran Hussain (2-26) also bowling well to limit the damage.


Set to score 180 in 20 overs, Qasmi Gymkhana got off to a sluggish start, scoring 70 in the first 10 overs and losing four wickets. But breezy knocks from Kamran Hussain (41 off 21 balls) and Faizan Ahmed (25 off 13 balls) opened up the game ensuring a tight finish.

Left-arm spinners Muhammad Asghar (3-18), named Man of the Match, and Irfan Gohar (3-37) played the lead role in restricting Qasmi Gymkhana to 176 for eight off 20 overs.

Nadeem Omar, President, Karachi City Cricket Association (KCCA), who was the chief guest in the prize distribution ceremony, presented the winners’ trophy to the Omar CC skipper, Saad Nasim, alongwith a purse of Rupees eight lacs while a cheque of Rupees four lacs was collected with the runners-up trophy by the Qasmi Gymkhana captain, Abid Qasmi.


Arif Ali Khan Abbasi, former Chief Executive of the Pakistan Cricket Board (PCB), Fawad Ijaz Khan, Chairman, Pakistan Veterans Cricket Association (PVCA), and Mazhar Iqbal Puri, President, Karachi Gymkhana, were also present in the ceremony.

Usman Khan of Omar CC was declared Man of the Tournament while Bilal Irshad (Qasmi Gymkhana), Faraz Ahmed Khan (Omar CC), Rameez Raja (Omar CC) and Hasan Mustafa (Qasmi Gykhahana) were adjudged as best batsman, bowler, fielder and wicketkeeper respectively.

The total prize money of the tournament, sponsored by Omar Associates (Pvt) Ltd for the sixth year running with Agha Steel Industries, Acme Technologies and Zaraiz Atelier being the co-sponsors, was well over Rs 16 lacs which included individual awards of Rs 313,000.


میں کیسے یقین کروں میری دعائیں قبول ہوتی بھی ہیں کہ نہیں


میں کیسے یقین کروں میری دعائیں قبول ہوتی بھی ہیں کہ نہیں ...لہجہ تھکن سے بھر پور تھا 

تمہیں پتہ ہے 
"ان کے دربار میں الفاظ سے زیادہ لہجے.....لہجوں میں چھپا درد.....اور درد میں چھپی تڑپ....تول کر اس کا مول لگتا ہے."
دل نے اسے یقین بھری تھپکی دیتے ہوئے کہا

بس یہ ذہن میں رکھو .... لفظوں کی کثرت پر مشتمل .... انداز کی بناوٹ میں گھلی ہوئ.... اعمال کی ....کھوکھلی سی گھٹڑی وہ تو یہیں کہیں ....کونے میں دھری رہ جاتی ہے

جس کے من میں تڑپ ہوتی ہے نا 
وہ حرف حرف سے ٹپکتی ہے ... لہجے سے جھلکتی ہے ... ان کے لبوں سے ادا ہونے والے لفظ سراپا بھکاری ہوتے ہیں 

ہاں ....ہمیں تجھ ہی سے لینا ہے ...تیرے سے ہی ملے گا ...یہاں سے لے کے ہی جائیں گے ...دنیا کی ساری عافیتیں ,ساری بھلائیاں ,ساری دعائیں ...تجھ سے منوا کے ہی دم لیں گے 
وہ ایسے لہجے اور انداز کا بڑا قدردان ہے.

کون کہتا ہے لمبی لمبی مناجات ہی ضروری ہیں ... یہ مانگنا چند لمحوں کا بھی ہوسکتا یے 
جو مقبول ہوجاتا ہے...ایکسیپٹ کرلیا جاتا ہے 
اس مان کی لاج رکھتے ہوئے جس مان سے کہا.... مانگا 
اور چاہا تھا 

بس...اک شرط ہے 
صرف اک شرط 

ان لمحوں میں زبان کے ساتھ 
دل حاضر ہو ....غافل نہ ہو 
ورنہ محض لفظوں بھری گھٹڑی 
خدا نہ کرے 
ریجیکٹ ہوگئ 
تو کہاں جائیں گے 
کس سے مانگیں گے


وہ الگ ہونا چاہتی ہی نہیں تھی


وہ الگ ہونا چاہتی ہی نہیں تھی ۔۔۔وہ تو اس کا نام بھی اپنے نام کے ساتھ جوڑ کے لکھتی تھی ۔کتنی پاگل تھی نا ۔۔۔بنا سمجھے بنا سوچے خوابوں کی راہگزر پہ چلتی گئی۔۔۔۔عشق کرتی تھی اس سے ۔اتنی پاگل تھی ہر وقت اسی کی سوچ ۔۔۔۔ کیا کرتا ہوگا ۔؟ موبائل ہر وقت تھامے اسے میسج کرتی رہتی ۔ٹھیک ہو ۔کدھر تھے؟۔بات کیوں نہیں کی ؟ سو سوال سو جواب۔کب جانتی تھی وقت کا پلڑا ایسا پلٹے گا کہ ایک پل نا رہنے والی تنہا زندگی کی ڈگر پر چلے گی




اللّه کا رنگ ہرا یا سفید نہیں ہے۔



اللّه کا رنگ ہرا یا سفید نہیں ہے۔
اللّہ کا رنگ اس کی صفات کا رنگ ہے۔۔۔
کوئی ایک وصف جو اس کو پسند ہو اپنے اندر بیدار کر لو پھر چاہے پیلے ہو جاؤ یا نیلے۔ 
اللّه کا رنگ ساتھ نہیں چھوڑتا۔ 
سایہ بن کر ساتھ ساتھ دوڑتا ہے۔۔!

الہٰی💕۔۔۔۔۔۔۔
عطا کر ایسا خوف جو نفس کو پاک کر دے 
💕ایسی معرفت جو مجھ کو خاک کر دے


اللّٰه صرف عبادت والوں کا رب نہیں


سنو
اللّٰه صرف عبادت والوں کا رب نہیں
اللّٰه ندامت والوں کا رب بھی ہے
اللّٰه صرف نیکوکاروں کا نہیں
اللّٰه گنہگاروں کا رب بھی ہے
اللّٰه صرف ایمان والوں کا رب نہیں
اللّٰه مشرکین کا رب بھی ہے
مگر جو خالصتاً اللّٰه کا ہونا چاہتا ہے تو یاد رہے کہ
خالص ہونے کے لئے خاص ہونا پڑتا ہے؛
خاص ہونے کے لئے رجوع کرنا پڑتا ہے؛
رجوع کرنے کے لئے خطا کا اعتراف کرنا ضروری ہوتا ہے؛
اعتراف خطا و گناہ و طلب مغفرت کے لئے عجز و دل گداز ہونا ضروری ہے؛
رب کو رب سمجھنا ضروری ہے..اللّٰه خطا کے پار ندامت قبول کرتا ہے؛
اور تم اللّٰہ سے بڑھ کر کسی کو غفور الرحیم نہیں پاؤ گے


اور جو ایمان لائے اور نیک کام کیے


اور جو ایمان لائے اور نیک کام کیے البتہ ہم انہیں جنت کے 
بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی
وہاں ہمیشہ رہیں گے ، عمل کرنے والوں کا کیا اچھا بدلہ ہے۔
جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں
تمام حمد و ثناء اس رب کے لیے____❤
جسکی رحمت سے ناامیدی نہیں ۔۔
جسکی نعمتوں سے دامن خالی نہیں ۔۔
اسکی مغفرت سے مایوسی نہیں ۔۔
اور اسکی رحمتوں کا فیضان کبھی رکتا نہیں ۔۔



#_جو_اللہ_پر_توکل_کرتے_ہیں


#_جو_اللہ_پر_توکل_کرتے_ہیں
-
ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھیں ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ 
-
سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاؤ اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟
-
سات میں سے چھ بیٹیوں نےکہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان و شوکت ہے 
-
یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے_
-
بادشاہ یہ سنتے ہی آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا اے کمبخت تو نے میری ناشکری کی ہے تجھے اس کی سزا ضرور ملی گئی شہزادی نے کہا جو حکم ابا حضور بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جاؤ اسے جنگل میں چھوڑ آو میں بھی دیکھوں کہ یہ میرے بغیر کیسے اللہ کا دیا کھاتی ہے اور اپنے نصیب کا پہنتی ہے شہزادی سے تمام زیورات واپس لے لیے گیے اور خستہ حال کپڑوں میں بغیر کسی ساز و سامان کے بادشاہ کے حکم۔کے مطابق جنگل میں تنہا چھوڑ دیا گیا ۔لیکن شہزادی بہت پرسکون مطمئن تھی اور توکل اللہ تھی کہ جو اس نے رزق اور عیش و عشرت میرے نصیب لکھی ہے وہ مجھے ضرور ملے گئی۔ سب سپاہی شہزادی کو چھوڑ کر واپس چلے گے_
-
شہزادی جنگل کو دیکھنے لگی چاروں طرف درخت ہی درخت تھے اور دوپہر سے شام ہونی والی تھی کہ شہزادی نے سوچا کیوں نہ کچھ لکڑیاں جمع کر لو تاکہ رات کو آگ جلاو پھر کوئی جنگلی جانور پاس نہیں آئے گا ۔اور رات بھی گزر جائے گی۔ شہزادی جنگل میں لکڑیاں ڈھونڈے چل پڑی ۔اس کی نظر ایک جھونپڑی پر پڑی جہاں باہر ایک بکری بندی ہوئی تھی اور اندر سے کھانسے کی آواز آ رہی تھی پہلے تو شہزادی بہت حیران ہوئی کہ اتنی ویران جگہ پر جھونپڑی ؟ جب وہ جھونپڑی کے اندر داخل ہوتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک بوڑھا ضیعف ایک چارپائی پر لیٹا ہے اور کھانستے ، کھانستے پانی ، پانی پکار کر رہا ہے شہزادی ادھر ُادھر دیکھتی ہے تو کونے میں ایک پانی کا گھڑا پڑا ہوتا ہے وہ گلاس میں پانی بھر کر بوڑھے ضعیف کو پلاتی ہے_
-
اور جھونپڑی کی صاف صفائی کرتی ہے اتنے میں بوڑھا ضعیف شہزادی سے پوچھتا ہے کہ بیٹی تم کون ہو؟ اور اتنے بڑے جنگل میں تم اکیلی کیا کر رہی ہو ؟ تب شہزادی اسے بتاتی ہے کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچی ۔ بوڑھا ضعیف اسے جھونپڑی میں ہی رکنے کا بولتا ہے اور کہتا ہے کہ میں شہر میں کام کرتا ہوں صبح شہر چلا جاؤں گا اور آٹھ دن کے بعد آؤ گا تم یہی رہو اور جھونپڑی میں کھانے کا سامان ہے اور ندی پاس ہی ہے تم وہاں سے گھڑا بھر لیا کرنا ۔ صبح کو بوڑھا ضعیف شہر چلا جاتا یے اور شہزادی یہاں اکیلی جھونپڑی میں سب صفائی کر کے بکری کا دودھ نکلاتی ہے آدھا اپنے لیے رکھ لیتی ہے اور آدھا باہر ایک کونے میں برتن میں ڈال کر رکھ دیتی ہے کہ رات کو کوئی جانور بھوکا یا پیاسا ہو گا توپی لے گا_
-
اور خود اندر آ کر سو جاتی ہے صبح سویرائے جب شہزادی اٹھتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ دودھ کا برتن خالی اور پاس ایک لال پڑا ہے جو دیکھنے میں بہت ہی نایاب اور قیمتی معلوم ہوتا ہے اور پاس ہی سانپ کے نشان بھی نظر آتے ہیں تب شہزادی کو یاد آتا ہے کہ بچپن میں اس نے سنا تھا کہ جب کوئی نایاب سانپ بہت خوش ہوتا ہے تو ایک ایسا لال اگلتا ہے کہ جس کی قیمت ہیرے جواہرات سے بھی مہنگی ہوتی ہے شہزادی بہت حیران ہوتی ہے اور دل میں سوچتی ہے کہ شاید سانپ بھوکا تھا۔ اس لیے وہ دودھ پی کر خوشی میں لال چھوڑ گیا پھر وہ لال اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے_
اور پھر اگلی رات شہزادی برتن میں دودھ رکھ دیتی ہے اور اگلی صبح جب دیکھتی ہے تو پھر ایک لال ہوتا ہے ایسے ہی کرتے سات دن گزر جاتے ہیں اور شہزادی کے پاس سات لال جمع ہو جاتے ہیں اور اس دن بوڑھا ضعیف بھی آ جاتا ہے تب شہزادی اسے لال دیکھاتی ہے اور سارا واقع بتاتی ہے اور بوڑھے ضعیف کو تین لال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ شہر جا کر یہ لال بیچ دو اور آتے وقت اپنے ساتھ محل بنانے والے مزدور لے کر آنا ۔ باقی چار لال شہزادی اپنے گلے میں مالا کے طور پر پہن لیتی ہے اور کچھ ہی مہینوں میں جنگل میں ایک عالی شان محل تیار ہو جاتا ہے جس میں بوڑھا ضعیف اور شہزادی رہنے لگتے ہیں ایسا خوبصورت محل جس میں ہر آرائش نوکر چاکر ، دنیا کی تمام نعمتیں ماجود ہوتی ہے شہزادی جنگل میں لکاڑئ کی فیکٹری لگا دیتی ہے جس میں غریب کام کرتے ہیں اور ان کے روٹی بھی چلتی رہتی ہے دیکھتے ہی دیکھتے جنگل شہر نما بن جاتا ہے اور دور دور تک دھوم مچ جاتی ہے کہ شہزادی بہت رحم دل ہے
یہ خبر ایسے ہی بادشاہ تک پہنچتی ہے تو بادشاہ کے دل میں اشتیاق ہوتا ہے کہ دیکھو تو سہی کون سے ملک کی شہزادی ہے جس کی اتنی تعریف ہے بادشاہ سپاہیوں کے ہاتھ پیغام بھجتا ہے شہزادی سے ملنے یہاں شہزادی کے سپاہی جب شہزادی کو بتاتے ہیں تو شہزادی یہ حکم دیتی ہے کہ بادشاہ سلامت ایک کی شرط پر ہم۔سے مل سکتے ہیں کہ وہ اپنی تمام بیٹوں کے ساتھ آئے۔ 
سپاہی جا کر بادشاہ کو پیغام دے دیتے ہیں ۔ ایک دن بادشاہ اپنی تمام بیٹوں کے ساتھ شہزادی کے محل جاتا ہے شہزادی ان سب سے ملتی ہے چہرے پر نقاب کر کے اور ان کے لیے سات رنگ کے کھانے پیش کرتی ہے اور ہر کھانے کے ساتھ اسی رنگ کا جوڑا زیورات پہن کر آتی ہے ۔ محل کی شان و شوکت خوبصورتی اور شہزادی کا انداز بادشاہ اور باقی تمام شہزادیوں کو بہت حیران اور متاثر کرتا ہے آخر میں بادشاہ شہزادی سے کہہ ہی دیتا ہے کہ تم میری بیٹی کی جگہ پر ہو اور میں بھی تمہارے کہنے پر اپنی تمام بیٹوں کے ساتھ آیا ہوں پھر ہم سے یہ پردہ کس لیے بہت اصرار پر شہزادی کہتی ہے ٹھیک ہے میں تیار ہو کر آتی ہوں_
-
سب شہزادیاں آپس میں سرگوشی کرنے لگتی ہے کہ اتنی تو تیار ہے اتنے مہنگے زیورات پہنے ہے اب اور کتنا تیار ہو کر آئی گئی اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ دور سے ایک خستہ حال کپڑوں میں کوئی آ رہا ہے اور غور کرنے پر بادشاہ کو یاد آتا ہے کہ یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ابھی تک زندہ ہے میں تو سوچتا تھا کہ اسے جنگل کے جانور کھا گئے اور جب میں نے اپنے سپاہیوں کو اس کی خبر لینے بھجا تھا تب انہوں نے ہی بتایا تھا کہ وہاں شہزادی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے تو یہ کیسے ممکن ہے_
-
بادشاہ خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور کہتا ہے شہزادی کو بلاو میں تمہیں شہزادی سے آزاد کروا کے لے جاو گا چاہے وہ تمہاری قیمت میں میری ساری بادشاہت مانگ لے ۔۔۔۔۔ یہ سنتے ہی شہزادی بولتی ہے نہیں ابا حضور میں ہی وہی شہزادی ہوں اور میں نا کہتی تھی کہ میں اللہ کا دیا کھاتی اور اپنے نصیب کا پہنتی ہوں بس اسی اللہ نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے کہ آج میں آپ سے بھی زیادہ امیر ہوں پھر شہزادی اپنا تمام حال بیان کرتی ہے کہ وہ اس مقام تک کیسے آئی اور دیکھاتی ہے اپنے گلے کی مالا جس میں ابھی بھی چار لال موجود ہوتے ہے۔ یہ بات سنتے ہی باقی تمام شہزادیاں دل میں رشک کرنے لگتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ اے کاش ہم۔نے بھی تب یہی کہا ہوتا کہ اللہ کا دیا کھاتی ہے اور اپنے نصیب کا پہنتی ہے



سانس کا لمس مل جائے مجھ کو

 

 

میں نہیں جانتی صبر کسے کہتے ہیں، مجھے تو بس اِتنا پتا ہے'__

کہ جس شخص کی باتوں کی گھمبیرتا سے مجھے عشق ہے، جس شخص کی باتوں کو سُنے بِنا، نا میری صبح ہوتی تھی، نا میری شام ہوتی تھی'_

جس شخص کی باتیں مجھے تپتی دوپہر میں ٹھنڈی پھوار کی طرح محسوس ہوتی تھیں'

جس شخص کی باتوں کو گر میں صبح سُن لوں، تو شام تک میرا دل پھر سے اُس کی باتوں کو سننے کیلئے بےقرار رہتا،

اور جب اُن کی باتیں مجھے رات کے کسی پہر سُنائی دیتی تو مجھے نیند کی میٹھی، لوریاں سُنا جاتیں،

جس شخص کی باتیں، میرے اندر کی بےقراریوں کو بڑھا جاتیں،

جس شخص کی باتیں، میرے عارضوں کو سُرخ کرجاتیں،

جس شخص کی باتوں لہریں اگر بولتے بولتے رُک جاتیں، تو مجھے یوں لگتا جیسے میرا دل کسی چلتی ٹرین کے نیچے آگیا ہو__

شخص کی باتیں کچی نیند سے بیدار ہونے پر، ایک حشر برپا کردیتی،

جس شخص کی باتوں سے مجھے کچھ اِس قدر عقیدت تھی کہ اُس کی سرگوشیاں کبھی خاموشیوں میں سُنائی دیتیں تو بےاختیار میری آنکھیں نم ہوجاتیں،

میں نے اکثر اس شخص کی باتوں کو سنتے سنتے اپنے ہونٹوں سے مَس کیا ہے،

جس شخص کی باتوں کا طلسم مجھے شانت کرجاتا،

جس شخص کی پکار پر میری دھڑکنوں کا شور بڑھ جاتا،

جس شخص کی باتوں کے سحر میں پانچ سے چھ سال قید رہی میں،

پھر اُسی شخص کی باتوں کو سُنے بِنا، اِتنے ماہ گزار لینا'

یہ ہی میرا صبر ہے' یہی میری بےبسی ہے_

-

سانس کا لمس مل جائے مجھ کو

تجھ سے باتیں اگر کر لوں میں