Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

غصے کی کیمسٹری

 

 

جوشخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے" میں نے پوچھا "سر غصے کی کیمسٹری کیا ہے؟" وہ مسکرا کر بولے "ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں' یہ کیمیکلز ہمارے جذبات' ہمارے ایموشن بناتے ہیں' ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں" میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا' وہ بولے "ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے" میں نے پوچھا "مثلا"۔۔۔؟ وہ بولے "مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے' یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے'مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی' ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا' ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے' اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا' یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا' ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی' ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے" میں نے عرض کیا "کیا یہ نسخہ صرف غصے تک محدود ہے" وہ مسکرا کر بولے "جی نہیں' ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں' غصہ' خوف' نفرت' حیرت' لطف(انجوائے) اور اداسی' ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے' ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے' ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں' ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں' ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے' ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے' ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے" میں نے عرض کیا "لیکن میں اکثر لوگوں کو سارا سارا دن غصے' اداسی' نفرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا ہوں' یہ سارا دن نارمل نہیں ہوتے" وہ مسکرا کر بولے "آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں' آپ کے سامنے آگ پڑی ہے' آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے' آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی' یہ بھڑکتی رہے گی' ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو' تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے' ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت' ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان' اللہ دتہ اداس' ملک خوفزدہ' نفرت شاہ' میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں" وہ رکے اور پھر بولے "آپ نے کبھی غور کیا ہم میں سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر ہر وقت حیرت' ہنسی' نفرت' خوف' اداسی یا پھر غصہ کیوں نظر آتا ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے' جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو' قہقہہ ہو' نفرت ہو' خوف ہو' اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا' وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا' یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے' یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے' یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے" میں نے عرض کیا "اور کیا محبت جذبہ نہیں ہوتا" فوراً جواب دیا "محبت اور شہوت دراصل لطف کے والدین ہیں' یہ جذبہ بھی صرف بارہ منٹ کاہوتا ہے' آپ اگر اس کی بھٹی میں نئی لکڑیاں نہ ڈالیں تو یہ بھی بارہ منٹ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم بے وقوف لوگ اسے زلف یار میں باندھ کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں اور یوں مجنوں بن کر ذلیل ہوتے ہیں' ہم انسان اگر اسی طرح شہوت کے بارہ منٹ بھی گزار لیں تو ہم گناہ' جرم اور ذلت سے بچ جائیں لیکن ہم یہ نہیں کر پاتے اور یوں ہم سنگسار ہوتے ہیں' قتل ہوتے ہیں' جیلیں بھگتتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں' ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں' ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے"۔ میں نے ان سے عرض کیا "آپ یہ بارہ منٹ کیسے مینیج کرتے ہیں" وہ مسکرا کر بولے "میں نے ابھی آپ کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا' وہ صاحب غصے میں اندر داخل ہوئے' مجھ سے اپنی فائل مانگی' میں نے انہیں بتایا میں آپ کی فائل پر دستخط کر کے واپس بھجوا چکا ہوں لیکن یہ نہیں مانے' انہوں نے مجھ پر جھوٹ اور غلط بیانی کا الزام بھی لگایا اور مجھے ماں بہن کی گالیاں بھی دیں' میرے تن من میں آگ لگ گئی لیکن میں کیونکہ جانتا تھا میری یہ صورتحال صرف 12 منٹ رہے گی چنانچہ میں چپ چاپ اٹھا' وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی' میرے اس عمل پر 20 منٹ خرچ ہوئے' ان 20 منٹوں میں میرا غصہ بھی ختم ہو گیا اور وہ صاحب بھی حقیقت پر پہنچ گئے' میں اگر نماز نہ پڑھتا تو میں انہیں جواب دیتا' ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوتی' لوگ کام چھوڑ کر اکٹھے ہو جاتے'ہمارے درمیان ہاتھا پائی ہو جاتی' میں اس کا سر پھاڑ دیتا یا یہ مجھے نقصان پہنچا دیتا لیکن اس سارے فساد کا آخر میں کیا نتیجہ نکلتا؟ پتہ چلتا ہم دونوں بے وقوف تھے' ہم سارا دن اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کے پیچھے بھاگتے رہے چنانچہ میں نے جائے نماز پر بیٹھ کر وہ بارہ منٹ گزار لئے اور یوں میں' وہ اور یہ سارا دفتر ڈیزاسٹر سے بچ گیا' ہم سب کا دن اور عزت محفوظ ہو گئی" میں نے پوچھا "کیا آپ غصے میں ہر بار نماز پڑھتے ہیں" وہ بولے "ہرگز نہیں' میں جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آتا ہوں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیتا ہوں' میں زبان سے ایک لفظ نہیں بولتا' میں قہقہہ لگاتے ہوئے بھی بات نہیں کرتا' میں صرف ہنستا ہوں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیتا ہوں' میں خوف' غصے' اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلا جاتا ہوں' غسل کرلیتا ہوں' وضو کرتا ہوں' 20 منٹ کیلئے چپ کا روزہ رکھ لیتا ہوں' استغفار کی تسبیح کرتا ہوں' اپنی والدہ یا اپنے بچوں کو فون کرتا ہوں' اپنے کمرے' اپنی میز کی صفائی شروع کر دیتا ہوں' اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں' اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہوں یا پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہوں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں' طوفان ٹل جاتا ہے' میری عقل ٹھکانے پر آ جاتی ہے اور میں فیصلے کے قابل ہو جاتا ہوں" وہ خاموش ہو گئے' میں نے عرض کیا "اور اگر آپ کو یہ تمام سہولتیں حاصل نہ ہوں تو آپ کیا کرتے ہیں" وہ رکے' چند لمحے سوچا اور بولے "آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے' میں منہ نہیں کھولتا' میں خاموش رہتا ہوں اور آپ یقین کیجئے سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ میری خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا' وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے' آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔۔۔۔۔

ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ ؟


ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ ؟

ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﻭﮦ ﮬﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ.
ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﻭﮦ ﮬﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﮯ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺩﮬﺠﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ.
ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﻭﮦ ﮬﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ اور عزت ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ.
ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ کو ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯽ ﺗﭙﺶ ﺳﮯ ﺟﻼ ﮐﺮ ﺭﺍﮐﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ.
خوبصورت مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کا محافظ بن کے اسکو تحفظ کا احساس بخشتا ہے، اسے ہر برے اور غلط کام سے روکتا ہے، اس کا رہبر بن کے رہنمائی کرتا ہے، اسکی عزت پہ اپنی زندگی فنا کر دیتا ہے، اس کے ایک آنسو پہ زمانے سے الجھ جاتا ہے، اسکی 
ہنسی کو اپنی زندگی سمجھ کے ہمیشہ اسے ہنستا ہوا رکھتا ہے



انسانوں سے محبت کرنا ۔۔۔ ہمیں نہیں آتا ۔۔۔


انسانوں سے محبت کرنا ۔۔۔ ہمیں نہیں آتا ۔۔۔
ہم نے انسانوں سے محبت کرنا چھوڑ دیا ۔۔۔
ہم صرف ۔۔۔ ایک انسان سے محبت کر سکتے ہیں، اپنا آپ ۔۔۔

ہم ۔۔۔ خود سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔ اپنی پرستش کرتے ہیں ۔۔۔
ہم اپنی شکل پر فریفتہ ہوتے ہیں ۔۔۔
اپنے قصیدے سنتے ہیں۔۔۔ اور سمجھتے ہیں 
کہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔
ہم ۔۔۔ خوش فہمیوں کی غلط فہمیوں میں رہنا 
پسند کرتے ہیں ۔۔۔


اَعلــیٰ ظـــرف عِجــز سے اَعلیٰ ہو جاتا ہے


اَعلــیٰ ظـــرف عِجــز سے اَعلیٰ ہو جاتا ہے
اور کم ظرف اَکڑ سے سُکـــڑ جاتا ہے



میں خود اقرار کر لوں گا



میں خود اقرار کر لوں گا
کہ میں نے جان خود دی تهی۔۔۔

سرِ محشر بهلا تُمکو 
پریشاں کون دیکهے گا ۔۔۔؟



اگر کہا جائے۔۔۔


اگر کہا جائے۔۔۔ 
کہ ہم سے ہماری تمام صفات چھِن جانی ہیں، اور صرف ایک صفت باقی رہے گی
تو ہم ۔۔۔ جس ایک صفت کو بچائیں گے
وہی ہماری اصل ہے۔۔۔
وہی صفت بنتے بنتے ہماری عاقبت بن جاتی ہے۔۔



احساس تعلقات کی بنیاد ہے ۔۔۔۔۔


احساس تعلقات کی بنیاد ہے ۔۔۔۔۔
اور احساس ہمیشہ وہی شخص کرتا ہے جو
خود غرض نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔


کچھ لوگ کہتے ہیں


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی موت سے بھی زیادہ اذیت دیتی ہے- میں حیران ہوں کہ لوگ موت سے پہلے ہی موت کی اذیت کیا ہے کیسے جان لیتے ہیں؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زندگ
پتہ نہیں لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کی زندگی کی کتاب ان کی برداشت کی طاقت سے زیادہ تلخ نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کتاب کو اس رب العالمین نے لکھا ہے جو ان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے


Mjhe aj bhi yad hy...


Mjhe aj bhi yad hy...
Rone k liye kisi khas jga ko makhtas na kiya tha..
Ansu bina puche, hr lamha mere chehre ko bheegoye rakhte the...
Me us se ek akhri bar bat krna chahti thi.. bus ek br.. k wo mjhe kahe... "Han kaho"
Or mein bina saans liye sb keh dun.. mein kehna chahti thi... Use btana chahti thi..
K meri saans ruk rhi hai.. mera dam ghut raha hai.. jese koi adam khor apne tez shikanjon se mere dil ko daboch raha ho..
Jese kisi kaley ilm k sabab rafta rafta mere seene mein keeley paiwast ki jarhi hon..
Mein cheekh rhi hun mgr awaz kb bahar arhi hai...
Mein pukaar rhi hun, "mjhe wehshaton k is band kamron se nikal lo"
Mgr kon sun raha hai?
Me sisak rhi hun, bilkul aese jese mar jane k bad koi gunahon ki saza bhugat'te hue sisakta ho bilakta ho.. mgr zinda rehne wale use mehez ek be-jaan be-harkat jism smjh rhe hon...
Mein tarap rhi thi... Bht tarap rhi thi..
Bin pani k tapti rait pr jese machli ko tarapta chor diya jaye.. uske mar jane k intezar mein... Thek wese hi....
Chalis din k sougwaar matam k bad, jb koi awaz koi sahara mjh tk na barha.. me shikwe ki aag mein phir bhi jalti hui bhatakti rahi...
Hr simt se na-umeed ho kr mene shikwon ki potli kamar se band kr Allah hu Akbr ki sada lagayi.. mjhe umeed thi.. kuch muthi bhar umeed... K shayad jawab, koi sahara mjhe agey barh kr tham le ga...
Meri sada ki bulandangi pr mere ansu nikle, khoob nikle, dupatta tar hua jb tk sajde ki bari ayi..
Tarapti rooh ko sukoon kisi surat na mila tha..
Sajda krne sir zameen se lgaya to be-sakhta ansuon k sath meri awaz bhi sare pehre tor kr bahar ko lapki thi... Us roz se Sajdon mein rona meri adat hi ban gyi thi...
Dil mein bus ek sawal tha..
"Kyun Allah ji.. kyun ap ne mjhe us se door kiya.. kyun is jaan leva judai ko mera muqaddar bnaya.. kyun Allah ji kyun? Ap to mera maan the.. mera bharosa.. mere yaqeen ki pukhta zameen... Kyun use jane se na roka.. kyun mjhe tarapta chor diya.. k na sans ati hai na pori tarah tham jati hai... Akhir kyun kiya mere sath aesa....!"
Phir namaz k ikhtetaam pr.. isi tarah k hazar shikwe..
Mgr mjal thi k jawab milta.. uska arsh khamosh tha.. bilkul khamosh.. jese wo mere sath ki gayi is na-insafi pr pasheimaan na hone wala tha.. jese usne kaha ho...
"Teri laakh tarap sahi... Mgr jo meri raza!"

پتا ہے میری جنگ ختم ہوگئ ہے


پتا ہے میری جنگ ختم ہوگئ ہے اب مجھکو حاصل اور لاحاصل سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے ۔ اب چاہے بہار آئے یا خزاں کا موسم ہو میری ذات کھنڈر بن چکی ہے ۔ کبھی کھنڈر کو دیکھنا تو تم کو معلوم ہو جائے گا جب تک اس میں لوگ رہتے رہیں نا اور اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں تو وہ کھنڈر نہیں بنتا لیکن جیسے ہی اس میں بسنے والے کوچ کر جائیں نا تو وہ کچھ عرصے میں کھنڈر بن جاتا ہے ۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی ہوتی ہے اگر کوئ اس میں بسنا چاہے نا تو اسکو ویرانی سے خوف آئے گا ۔ اسی طرح مجھ میں بسنے والی خواہشات ، آرزوئیں اور تمنائیں دم توڑ چکیں ہیں ۔ اور میری ذات کھنڈر بن چکی ہے ۔ اب مجھکو اکیلے پن سے و ہشت نہیں ہوتی اب ہجوم کے جانے غم نہیں ہوتا ۔ اب یادیں مجھکو ستاتی نہیں ہیں اب محبت کے نغمے کانوں میں گونجتے نہیں ہیں ، اب شہنائ کی آواز سے دل مچلتا نہیں ہے ۔ اب آنسو پلکوں پہ نہیں آتے ۔اب تمام گلے شکوے مٹی کی دھول کی طرح اڑ گئے ہیں۔ بس مجھ کو و ہشت ہوتی ہےتو جھوٹے رشتوں سے جو ذات کو کب کھنڈر کر جاتے ہیں پتہ نہیں تم سن رہے ہو نا ؟ بس اب کسی اور کی ذات کو کھنڈر مت کرنا .
سنو صاحب تم نے محبت کو صرف کہانیوں میں پڑھا ہوگا ہم نے اس میں زندگیاں اجڑتے دیکھی ہیں ۔