Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

وفا دیمک بن کر جنہیں چاٹ جاتی ہے


!سنا ہے 
وفا دیمک بن کر
جنہیں چاٹ جاتی ہے
وہ وفاؤں کے پیکر کچھ ایسے بکھرتے ہیں
کہ کرچیوں میں بھی پھر ان کا پتہ نہیں ملتا

 !سنا ہے
کبھی یہ رت ایسے بھی بدلتی ہے
کہ سارے مہرباں لفظ یکدم کہیں کھو جاتے ہیں

 !سنا ہے
جب وجود ریزہ ریزہ ہوتا ہے
تو ٹوٹ پھوٹ بہت بے آواز ہوتی ہے
فقط اک خاموش سا موسم
اک سنسان سا رستہ
اک ویران سی ساعت
اور اک گمنام سا لمحہ
یوں ہمسفر ہوتے ہیں، گویا صدیوں کی رفاقت ہو

!سنا ہے 
آندھیوں کی زد میں آ کر
پھول جو بکھر جائيں
وہ پھر سمٹا نہیں کرتے
کسی پر رنج سی ساعت کا جو نشانہ بن کے کھو جائيں
وہ پھر پلٹا نہیں کرتے

کچھ ایسے لوگ


کچھ ایسے لوگ ، جو خاص اور بہت اہم بھی ہوں ، اور پیارے 
بھی تعریف میں جن کی لفظ نہ ہوں 
تو عام سے لفظ ، ہم لکھیں کیوں ؟
کچھ صفحے ، کچھ سطریں ، کچھ ورق کیوں نہ خالی رہنے 
دیں ؟ 
!اور ایسے پیارے لوگوں کو بس 
!!_____دل میں ہی ہم رہنے دیں



پت جھڑ کی دہلیز پہ بکھرے



پت جھڑ کی دہلیز پہ بکھرے 
بے چہرہ پتوں کی صورت 
ہم کو ساتھ لیے پھرتی ہے 
تیرے دھیان کی تیز ہوا 



انسان حاصل کی تمنا میں لاحاصل کے پیچھے دوڑتا ہے


انسان حاصل کی تمنا میں لاحاصل کے پیچھے دوڑتا ہے
اس بچے کی طرح جو تتلی پکڑنے کی 
خواہش میں گھر سے بہت دور نکل جاتا ہے
لیکن نہ تتلی ملتی ہے اور نہ واپسی کا راستہ۔




میں نے زندگی سے ایک سبق یہ بھی سیکھا ہے کہ


میں نے زندگی سے ایک سبق یہ بھی سیکھا ہے کہ 
کبھی یہ دو ٹوک فیصلہ نہ کرو کہ یہ غلط ہے اور یہ صحیح ہے۔ کبھی انصاف کی کرسی پر براجمان ہو کر فیصلے نہ کرو جب تک تم خود ذاتی طور پر اس تجربے میں سے نہیں گذرتے۔ 
کسی مجرم کو یہاں تک کہ کسی قاتل کو بھی مطعون نہ کرو جب تک تم ان حالات سے آگاہ نہیں ہوتے جنہوں نے اسے مجرم یا قاتل بنایا۔
اگر تم اس کے جگہ ہوتے تو شاید تم بھی ایسا کرتے۔ 
کبھی بھی اپنی ناپسند کو شدید نہ کرو۔
ہوسکتا ہے کل کلاں یہ تمہاری پسند ہوجائے۔



تیری_آواز_کے_صدقے`


اُس کی کال آنے سے پہلے میرے پاس اُسے بتانے کو ڈھیروں باتیں ہوتی ہیں'_
پر جیسے ہی وہ کال پر آتا ہے میرے لفظ ختم ہوجاتے ہیں, وہ بولتا رہتا ہے میں سنتی رہتی ہوں پھر وہ کہتا ہے "کچھ تم بھی بولو" میں کہتی ہوں
"اچھا" وہ کہتا ہے
"کیا اچھا" 
لفظ میرے ہونٹوں پر پھڑپھڑا کہ رہ جاتے ہیں'
وہی کال پر بولتا رہتا ہے' پر پھر جہاں مجھے بولنا ہوتا ہے وہاں وہ مجھے "پہلے میری بات سُن لو" کہہ کر چُپ کروادیتا ہے
پھر اُس کی کال جب بند ہوجاتی ہے پھر میں سوچتی ہوں مجھے تو اُسے یہ کہنا تھا یہ بتانا تھا ایک وہ ہے جس کے سامنے میری بولتی بند ہوجاتی ہے
پر مجھے اچھا لگتا ہے ' وہ بولتا رہے بولتا رہے بولتا رہے'
اُسے خبر ہی نہیں ہے میرا دل وائس ریکورڈر ہے, اُس کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ میرے دل میں کسی مقدس صحیفے کی طرح حرف بہ حرف اُترا رہا ہوتا ہے
میں صدقے اُس کی آواز کے, میں قربان اُسکی آواز کے
کیا کسی آواز کو چھوا جاسکتا ہے,
میں نے, ہاں میں نے اُس کی آواز کو بولتے ہوئے چوما ہے
ہاں میں دیوانی ہوں اُسکی آواز کی'_
-
_ایک پگلی کو بھی عشق ہوا ہے



زندگی بھی عجیب چیز ہے۔


زندگی بھی عجیب چیز ہے۔ جس شے کے پیچھے جتنا بھاگا جائے، وہ ہی فاصلے پر چلی جاتی ہے، اور جس کے لیے کوئی جستجو نہ کی جائے، وہ خود جھولی میں آن گرتی ہے۔ آپ اپنے مقدر کو بدل نہیں سکتے۔
عقل سے کبھی دنیا پر حکمرانی نہ کسی نے کی ہے اور نہ ہی کبھی کوئی کر سکے گا۔ کوئی بھی انسان عقل اور حسن سے نہیں جیتا جا سکتا۔ آپ کسی کو اپنے حسن سے متاثر تو کر سکتے ہیں، اسیر بھی کر سکتے ہیں، مگر زبردستی اسے خود سے محبت نہیں کروا سکتے۔ حسن سے محبت کرنے والے کی محبت بھی سطحی ہو گی



خشوع کا مطلب


وہی لوگ کامیاب ہیں
جن کی عبادتوں میں خشوع ہے 
خشوع کا مطلب ہے 
جب تم الله پاک کی عبادت کرنے آؤ __تو کسی کا دل دکها کے نا آئے ہو__ کسی سے غصہ کر کے نا آئے ہو __کسی سے اونچی بات نا کر کے آئے ہو__ کسی کا حق مار کے نا آئے ہو __حرام کها کر اپنی جان پر ظلم کر کے نا آئے ہو ___الله کی امانت میں خیانت کر کے نا آئے ہو __نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے نا آئے ہو __کسی کو بے سہارا تڑپتا ہوا نا چهوڑ کر آئے ہو
خشوع یہ نہیں کہ، تم پهلوں سے لدی ہوئی لچکیلی شاخ کی طرح جهک گئے__ یا مٹی کی طرح سجدے میں خود کو الله پاک کے حوالے کر دیا



کسی کی چاہت کے ساتھ کھیلنا دراصل اپنی زندگی کیساتھ کھیلنا ہوا۔


بعض اوقات انسان ناچاہتے ہوئے بھی جب کسی کے ساتھ بحیثیت ایک انسان کے انس و محبت ہوجاتی ہے تو اس کو برقرار رکھنے کیلئے بہت سے کٹھن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ سے گم ہوجاتا ہے۔ محبت انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ جس کی وجہ سے وہ پوری دنیا کے ساتھ لڑ سکتا ہے۔ لیکن جب اس محبت کے دونوں طرف کے دھاگے مظبوطی سے بندھے ہوئے ہو۔ لیکن اس کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ "لاپرواہی"ہے۔ اور یہ تجربہ رہا کہ جو بھی شخص جس کیلئے جتنا مخلص ہو وہی شخص سے اذیت ملنے کی توقع بھی رکھی جاتی ہے۔
لہذا جب کوئی خوب محبت کرنے والا ہو تو اس کے اندر محبت کے اثرات تم خود بخود پاؤگے۔ انکے ان جذبات کی لاج رکھنے چاہئے۔ بہانے بنانے سے اور باتوں کو مروڑ مروڑ کر پیش کرنے سے محبت کمزور ہوجاتی ہے۔
اور اگر آپ کی لاپرواہی سے اس کی محبت کا سورج ناراض ہو کر غروب ہوا تو یاد رکھو... یہ سورج دوبارہ آپکے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل کی دنیا میں روشنی نہیں کر پائے گا۔ اس کی روشنی مدھم پڑ چکی ہوگی۔ اس کو سورج گرہن لگ جاتا ہے۔
کسی کی چاہت کے ساتھ کھیلنا دراصل اپنی زندگی کیساتھ کھیلنا ہوا۔ اور یہ بھی سچ ہوا کہ اس محبت کے رشتے کو سنبھالتے سنبھالتے یہ رشتہ بھی پھیکا پڑ جاتا ہے اور واقعی اس میں بندہ کو اپنی فکر بالکل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خود کو وقت دینے کیلئے وقت نکالا کریں۔


حقیقت



کبھی آنسو کبھی دعائیں کتنا کچھ سکھا دیتی ہے یہ محبت
خود کی پہچان کروانی چاہی تو خدا نے تمہیں میرے سامنے لڑکھڑا کیا. . 
کہ مجھے کیوں بنایا تھا یہ حقیقت کی آشکارا مجھ پر اپنی نظر خود پر کھولنے کےلیے.. 
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﺑﺸﮑﻞِ ﺍٓﺋﯿﻨﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺋﮯ ﺗﮭﮯ محبت بن کر 
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ 
میری ذات کے کئ رنگ عیاں ہوئے مجھ پر
ﯾﮧ ﺟﮩﺎﻥِ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺑﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . . .
جب اُس نے اپنے در پر بلانا چاہا تو
ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ مجھے سے ﻟﺒﯿﮏ کہلوانا چاہا تو
تمہیں مجھ سے دور کر کے اپنی محبت کی حقیقت دکھائی
اور جب میں ٹوٹی بکھری ذات کو لیے اُس کے در پر گئ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﺟﺎﮔﯽ ﺗﻮ اُس ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ
دکھ میں چھپا ﺳﺎﺯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ‘ ﺍٓﻭﺍﺯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ 
اذان میں چھپی اس کی پکار کیا ہے.. ؟؟؟
ﺗﺮﺍﻧﮧِٔ ﻣﻦ ﻭ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﮬُﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ اللہ
لا الا کے رمز سے آشنا کرواتا میرے دل میں بسے بت توڑتا وہ
اپنی ذات کی حقیقت محبت دیکھاتا
ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ’ ﮐُﻦ کہا اور فیکون کا جلوہ
میں رونما ہوئی تو اسکے محبت کے رمز کو سمجھتی 
ﻣﯿﮟ ﻓﯿﮑﻮﻥ ﮐﯽ ﻟﮑﻨﺖ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﺗﻮ . . . تو اللہ ھو ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
میرے ﻟﺐ ﮨﻠﮯ ﺗﻮ ﮐﮭﻼ ﺗﮭﺎ یہ مجھ پر 
میرا بولنا رونا ہنسنا سب ہیں اسکے ایک کُن کے محتاج
تمہارا بچھڑنا تمہاری محبت اس دل میں اب بھی جب ویسی ہی محسوس کرتی ہوں تو روتی آنکھیں میری مسکرا دیتی ہیں
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ‘ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ‘ 
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ میں بھی تو کُن چھپا ﮨﮯ 
اُس ﻧﮯ ﭼﮭﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﺳﮯ
ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻗﻄﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ کروایا ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺒﺶ ﺍٓﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻟﻤﺲ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ . . .
اور اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کو جذب کرتی ہیتھلی میں اپنی تمہاری دی ہوئی سوغات کو وہ پل یاد کرتی مسکرا دیتی ہوں کہ میرے آنسو تمہیں تکلیف دیتے تھے اور آج دیکھوں ان آنسو سے کس قدر گہرا مضبوط میرا رشتہ بن گیا ہے کہ کوئ بھی لمحہ ہو تہوار ہو کوئی خوشی کا یہ برس پڑتے ہیں ہر پل ساتھ دیتے ہتھیلی میں میری حذب ہوجاتے ہیں 
جب اُسکی محبت کو محسوس کیا تو جانا 
ﺍٓﺗﺶ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﭙﺶ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ . . ؟؟؟
ﺟﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ..؟؟
اُس پاک ذات ﻧﮯ مجھے پھیلانا ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮩﮑﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺲ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻮﻧﮕﮭﺎ ﺗﮭﺎ
ﺟﺐ ﺳﮯ تم میری ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ رچے ﮨﻮ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺑﮭﻼ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﻠﺪﺍﻥ ﮐﯽ ‘ ﺷﯿﺸﯽ ﮐﯽ ‘ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ. . .؟؟؟
ﺳﻮ میری محبت ﺍٓﺋﯿﻨﺪﮦ ﯾﮧ ﻣﺖ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﮨﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﺗﻢ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ یہ سانسیں چلتی محسوس کرتی اللہ کے ہونے محبت ہونے میں جیتی
ہوں اس کا ہونا محسوس کرتی ہوں اور اسکے ہونے سے
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ۔۔۔ ﮨﻮں.. سب اسکے کُن کا منتظر پاتی ہوں اور حقیقت کو تسلیم کرتی سراب سے نکلتی لیبک کہتی مسکرا دیتی ہوں