میرے قرب سے میرے وجود تک
میرے قرب سے میرے وجود تک
اسےاختلاف تو سدا کا تھا
میرےغم سے میرے جنون تک
یہ فاصلہ بس انا کا تھا
میری زندگی سے میری سانس تک
وە فلسفہ بس دعا کا تھا.
میری بات سے تیرے ذکر تک
اک سلسلہ جو ھوا کا تھا.
میری حقیقت سے میرے خواب تک
وە بے خبر انتہا کا تھا
میرے وہم سے میرےگمان تک
اک مر حلہ وفا کا تھا
میری طلب سے میرےنصیب تک
یہ معاملہ بس خدا کا تھا
\
انسان بھی کتنا عجیب ہے
انسان بھی کتنا عجیب ہے نا، جب کسی سے جی بھر جاتا ہے تو اس میں خامیاں تلاش کرنے لگ جاتا ہے، اور دل ہی دل میں کتنے ہی الفاظ جمع کرنے لگتا ہے، کہ جن کو سہارا بنا کر اس سے جان چھُڑا سکے، اور گمان کی دیوار اتنی اونچی کر لیتا ہے کہ جیسے سامنے والا کچھ جانتا ہی نہیں اور کتنی آسانی کے ساتھ تعلق توڑ دیتا ہے اور خود بھی غموں کی بھٹی میں جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلنے کے لیئے چھوڑ دیتا ہے شاید یہ زندگی ہی عجیب ہے
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو کسی کے لفظوں سے پیار ہو جاتا ہے
ایسی صورت میں آپ کو اُس کی شخصیت پرسنیلٹی شکل صورت اسٹیٹس سے کوئی لینا دینا نہیں رہتا بس اس کے لکھے لفظ آپ کی زندگی بن جاتے ہیں
addict آپ
سے ہو جاتے ہیں جب تک اس کے الفاظ ملتے رہیں زندگی کا زندہ رہنے کا احساس رہتا ہے جہاں بریک آئی وہیں سانس رکتی محسوس ہوتی ہے
عید مبارک
السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
-
عید مبارک کہنا یا عید کی خوشی کا اظہار کرنے کا بھی ہر ایک کا الگ الگ انداز ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اتنے ثقیل الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں اپنی نیک خواہشات اور جذبات کے اظہار کے لئے کہ پڑھنے والے کو بھی پڑھنے ڈال دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد آتے ہیں وہ عقل مند لوگ جو دوسروں کے بھیجے گۓ پیغامات کو جوں کا توں آگے روانہ کر دیتے ہیں شائد بنا پڑھے ہی ، پیغام وصول کرنے والا جب پیغام پڑھتا ہے تو ایک شدید حیرت کا شکار ہوجاتا ہے کہ میرا/ میری کوئی تمہارا/تمہاری بھی ہے اور میں ہی لاعلم ہوں
اور کچھ لوگ بس جب دیکھو ہر کسی پر تنقید کرتے رہتے ہیں حتی کہ عید کے پرمسرت موقع پر بھی!
آپ لوگ میری طرف ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں
میں تو بس کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“عید مبارک”
کہنا بھی اک فن ہے
سو عید کا تیسرا دن بہت بہت مبارک ہو
ہم میں سے ناگزیر کوئی نہیں ہے
ہم میں سے ناگزیر کوئی نہیں ہے۔ ہم میں سے امر کوئی کوئی نہیں ہے۔ جو آپ سے محبت کرتے ہیں ان سے بڑھ کر محبت کیجیے۔ جو آپ کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا زیادہ خیال رکھیے۔ اپنے دل کا کھل کر اظہار کیجیے۔ مکمل کوئی نہیں ہے۔ ہر شخص کہیں نہ کہیں ادھا ادھورا ہے۔ ساری محبتیں کچی پکی ہیں۔ اکثر رشتوں میں کہیں نہ کہیں مفاد لالچ دھر آتا ہے۔ انسان کو انسان سمجھیے۔ اسے ان کمزوریوں کے ساتھ قبول کیجیے۔ اسے بتا دیجیے کہ اس کی کس عادت، کس بات سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ایک بات مگر طے ہے کہ نفرت کے لئے یہ زندگی بہت مختصر ہے
!عید
!عید
مصنوعی طور پر ہنستے مسکراتے ہوئے سورج کے ساتھ عید بھی ڈوب گئی۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان آنسوؤں کے ساتھ جن میں اپنوں کی کمی انتظار اور کھو جانے کا دکھ درد تکلیف شامل ہیں ۔۔۔۔۔
جب کوئی عید مبارک کہے ۔۔۔۔۔ دل کو چیر کر خیر مبارک نکالنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔!
عید تو ہے....اپنی نا سہی اپنوں کی یادوں کی سہی
عید تو ہے...ماضی کے ان لمحوں کی جو حال کو بے حال کر دیتے ہیں
!عید تو ہے....اس مسکان میں جو فقط مسکان نہیں نمی سے تر بھی ہے۔۔۔۔
عید تو ہے....گلے سے لگے ہوئے ان لمحوں کے ساتھ میٹھے درد کی آواز بن کر۔۔۔۔۔۔
!عید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
!...آخر گزر گئی
Subscribe to:
Comments (Atom)









