میں نے اپنی آخری حد کو آزمایہ تھ
میں نے اپنی آخری حد کو آزمایہ تھا، ایک دروازہ بہت کھٹکھٹایا تھا۔ نا تو میری التجا کا مان رکھا گیا تھا نا اپنے کیے وعدے کا بھرم۔۔۔
لوگ مُکر جاتے ہیں۔۔۔ اپنے کہے الفاظ سے۔۔۔ کس طرح مُکر جاتے ہیں؟؟؟
زندگی میں ایک مقام ایسا اتا ہے جب ہمارا سجدے میں جھکا سر بھی بس شکوے کر رہا ہوتا ہے۔۔۔ کسی ہرجائ کی تمام تر سنگ دلی کے باوجود انسان اُسکا طلبگار رہتا ہے۔۔
" کیا میں تیری بندی نہیں ہوں؟؟؟
" کیا تو میرا بھی رب نہیں ہے؟؟؟
اگر ہے تو پھر میری تکلیف کا مداواہ کیوں نہیں کرتا؟؟؟؟
مجھے کیوں وہ نہیں دیتا جسکی اس دل کو طلب ہے؟؟؟
مگر پتا ہے من!
وہ سب ہی کا رب ہے، اور وہ سب ہی کو جلاتا ہے۔۔۔ ، محبت کی آگ میں۔۔۔
جُدائ کی آگ میں۔۔۔۔
جب روح سے ملنے کا وقت قریب ہوتا ہے تو اندر کے سارے گند کو جلا دیا جاتا ہے۔۔۔ اور جلنے کے لیے آگ پکڑنا ہی پڑتی ہے۔۔
ایک وقت ایسا بھی اتا ہے۔۔۔ مسافر کی زندگی میں۔۔۔ جب وہ شُکر کرتا ہے ، کہ اُسکو وہ نہیں ملا جسکی اسکے نفس نے طلب کی تھی۔۔۔ کبھی جب خود کو ریپلیس ہوتے دیکھ کر دل نے رنج جھیلا ہوتا ہے تو وہی دل خوشی سے جھوم اُٹھتا ہے کہ شکر ہے۔۔۔ اُسکو ریپلیس کر دیا گیا تھا۔۔۔
روحانی سفر میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے من جب لگتا ہے کہ شاید یہ وہی مقام ہے جسے زندگی ڈھونڈتی رہی۔۔۔
جب دل میں سواۓ اپنے خالق کے کسی اور کی محبت ٹھہر نہیں پاتی۔
مگر ۔۔۔۔ محبت کی اس پُراسراریت کو سمجھنے کے لیے ۔۔۔ آگ کا ایک سفر درکار ہے۔۔
ہی لوز می
ہی لوز می, ہی لوز می ناٹ, ہی لوز می, ہی لوز می ناٹ, ہی لوز می, ہی لوز می نااا
"اب کیا فائدہ اِن معصوم پتیوں کو ادھیڑنے کا"
اُس نے سر اُٹھائے بنا قریب آ رکنے والے پاٶں کو دیکھا
فائدہ
فائدہ تو یہ پتیاں, مجھے تب بھی نہیں دیتی تھیں, تمہیں پتا ہے ایک دن اِس آس میں کہ شاید, شاید کسی پھول کی کوئی آخری پتی مجھے آس اور امید کا کوئی سرا تھما دے کہ ہاں وہ تم سے محبت کرتا ہے, میں نے کیاری میں لگے سارے پھول توڑ دئیے
ایک, پھول بکھرا تو میں نے مسکرا کر دوسرے پھول سے آس لگالی
دوسرا بکھرا تو تیسرے پر گمان کیا
تیسرا بکھرا تو چوتھے کو رحم طلب نظروں سے دیکھا_ پھر جب پانچوے کی باری آئی تو میرے ہاتھ میں پکڑا پھول لرزنے لگا
اور پھر اپنے ٹھوڑی تک آتے آنسوٶں کو پونچھ کر میں نے اُس آخری پھول کی طرف دیکھا,
تمہیں پتا ہے وہ مسکرا رہا تھا شاید میری حالت پر,
میں اُس آخری پھول پر اپنی مسکراہٹ چھوڑ کر وہاں سے واپس لوٹ آئی, کیونکہ مجھے زندہ رہنے کیلئے اِس آخری پھول کو بچانا تھا, اِس آخری پھول کے سہارے مجھے ابھی اپنی محبت کو گھسیٹنا تھا, ابھی مجھے اِس خواب میں کچھ دیر اور جینا تھا
زمین پہ بکھری پتیوں کی ہنسی اپنے پیچھے مجھے دور تک سنائی دی
اور آج اِن بکھری پتیوں کو دیکھ کر تم سجھ رہی ہو کہ شاید میں اب بھی محبت کے گمان کے بیچ کھڑی ہوں؟
نہیں.... محبت کا گمان کبھی تھا, اب یہ یقین واثق ہوچکا ہے, کہ وہ پتیاں ٹھیک کہتی تھیں محبت کے گمان سے نکل جانے کا اشارہ دیتی تھیں, اُسے مجھ سے محبت نہیں تھی, وہ پتیاں مجھے بارہا احساس دلاتی تھیں,
میں نے تو اِن پتیوں کو بڑی نرمی سے توڑا تھا پر اُس نے..... اُس نے مجھے بڑی بےرحمی سے نوچ نوچ پھینکا
اب ان پتیوں کو نوچ کر میں اپنے زخموں کو اکھیڑتی ہوں, میں نے جانتے بوجھتے خود کو زخموں کے آگے پیش کیا تھا, اب میری سزا یہی ہے کہ میں خود کو ساری عمر اِس سزا کی اذیت میں مبتلا رکھوں کہ
ہی لوز می ناٹ , ہی لوز می ناٹ,
ہی لوز می ناٹ
کس نے دیکھا تھا ٹوٹنا اپنا
ہم جو ٹوٹے تو رائیگاں ٹوٹے
💔
تیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
تیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
جیسے سَر اور چادر
جیسے گہرے پانی میں گُھور اندھیرا
تِیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
جیسے دو دیواریں
ان دیواروں سے جڑتے بنتے سارے کمرے
ان کمروں میں رہتے سَنگی ساتھی
تیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
جیسے پانی مَچھلی جیسے مَچھلی پانی
جیسے سَات سمندر کے سارے قطرے
مل کر کوئی قِصہ چھیڑیں
کوئی ایسا قِصہ
جسے رَب نے لکھا
تیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
جیسے کوئی سوالی ۔
بس تُجھ کو مانگے
وہ خالی ہاتھ دکھا کر تجھ سے
تجھ کو مانگے ۔۔
جیسے گُتھ مُتھ جنگل
جنگل میں گرتے سارے پتے
جو اک دوجے کے دکھ پر
رونے والے
تیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
جیسے تُو اور سایئں
جیسے مسری میٹھا
جیسے ساری عمر کے تھکتے ٹوٹتے
آخری لمحے
جو تیرے میرے
مجھے ڈھونڈ کے جانا
اور ٹوٹ کے چاھنا
تیرا اور میرا رشتہ ایسا ہے
جیسے کچے دھاگے کی پکی ڈوری
جیسے سَر اور چادر
جو لوگ آپ کی نظروں سے دور ہو جایئں
جو لوگ آپ کی نظروں سے دور ہو جایئں تو کچھ دنوں کیلئے آپ کی زندگی پر اثر پڑتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ اثر اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے اور وہ چہرہ جو کبھی ہر پل آپ کی نظروں کے سامنے ہوتا تھا وہ ایک دھندلے وجود میں تبدیل ہو جاتا ہے اور پھر کچھ اور وقت گزرنے کے بعد وہ دھندلا وجود آپ کے لیئے اجنبی چہرہ بن جاتا ہے اور پھر جب آپ ان لوگوں
کا ذکر سنے تو آپ ایک لمحے کے لیئے حیران
ہو جاتے ہیں کہ کیا واقعی آپ کی اس کے
ساتھ وابستگی تھی آپ کا اس شخص کے
ساتھ واقعی کوئی رشتہ رہ چکا تھا اور پھر دماغ کے سکوت میں خلل پیدا کرنے کے بعد آپ اپنے ماضی کو خود کے اندر زندہ کر لیتے ہیں اور ان گزرے ہوئے ہوئے لمحوں کو پھر
سے اپنے حال میں جیتے ہیں اور پھر خوشی اور تکلیف کا احساس آپ کے گہرے زخموں
پر دوا کا کام کرتا ہے... اسی لیئے جب کوئی آپ کی نظروں سے دور ہو جائے تو غم نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ آپ کی روح سے اس شخص کا تعلق کبھی نہیں ٹوٹتا یا تو وہ شخص آپ کے چہروں میں زندہ ہو جاتا ہے
یا عادتوں میں لیکن آپ کے لئیے کبھی وہ
مرتا نہیں ہے
Subscribe to:
Comments (Atom)









