Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

کاش میں مکافات عمل لکھ سکوں


کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ کاش میں مکافات عمل لکھ سکوں" ....ان. لوگوں کو اپنے سامنے کھڑا کر کے ہر گزرتے وقت کی گواہی مانگوں ".... اور پوچھوں کہ بتاؤں ضروری نہیں ... جسے تم کمزور سمجھتے ظلم کرتے ہو اپنی انا اپنے غرور میں پیروں تلے روندتے خدا بن جاتے ہو اور تمہارے ظلم کی وجہ سے کسی کی زندگی تک برباد ہوجاتی ہے نہ ختم ہونے والی اذیت جو تم کسی کو دیتے ہو اور ایک دن یہی تمہارا ظلم تمہارے گلے کا طوق بن جائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے 
اور جب وہ پاک ذات ربِ کریم انصاف کرنے پہ آجائے تو کیا ہوتا ہے__اپنی سب تکلیفیں بے چینیاں اور اذیتیں جو صرف اور صرف میرا رب جانتا ہے تمہیں بتاؤں جنہیں میں نے اکیلے سہا...اور جب ان لوگوں کی آنکھوں میں یہی ان کا ظلم خون کے آنسو انہیں رلانے لگے یقین امنڈنے لگے تو اس پل میری آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں"....پھر وہ بھی اذیت کو اس طرح سہے جیسے میں نے سہا"....تنہا اور دم سادھے__انہیں بھی تو علم ہو نہ کہ تکلیفیں کیسے جیتے جی مارتی ہیں "
کیسے زندہ لاش بنا دیتی ہیں کیسے چھوٹی عمر میں لگے روگ بچپن تک کی شرارتیں یادیں تک چھین لیتے ہیں کیسے آپکا ظلم کسی کو چلتا پھرتا زندہ لاش بنا دیتا ہے قوتِ گوئ تک چھین لیتا ہے کیسے انسان اپنی ذات سے لاپرواہی کرتا خود کو اذیت دیتا ہے تو کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے چاہے پھر اپنوں کی لاکھ محبت ہو آپ کو زندگی کی طرف لوٹنے میں کس کس مسافتوں سے گزرنا پڑتا ہے اور آپ. کے اپنے آپکے کی مسکراہٹ دیکھنے کو ترس جاتے ہیں اور اپنوں کو خود کےلیے روتے تڑپتے دیکھنا کوئ آسان بات نہیں ہوتی دل خون کے آنسو روتا ہے پل پل مرنا پڑتا ہے لیکن آپ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے ہیں ناں

سنو
رہی تیری بات جاناں 
تو تمہیں روزِمحشر 
اُس ذات کے حساب کیلئے
چھوڑا ہم نے


کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟


وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا 
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت 
جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ،
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نئیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جائو اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے  
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے، تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 10 بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں ، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا ، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا، 
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔ 
ہمارے ہاں ساری ذمے داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی



تمہارے آنسو


تمہارے آنسو تمہاری احساس طبعیت اور نرم دل کی آعکاسی کرتے ہیں اور یہ تم پر اللہ پاک کی بہت بڑی عطا ہے کہ نرمی اللہ پاک کی طرف سے ہوتی ہے....
اور دلوں کی سختی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے
"استغفر اللہ ربی من کل ذبی واتوب الیہ"
تمہارے گرتے آنسو اس بات کے غمازی ہیں کہ گرتے آنسو یہ شہادت دیتے اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ اسکی رحمت تمہارے دل کے تشنہ صحرا پر موجزن ہو چکی ہے
الحمدللہ رب العالمین!
ان اللہ مع الصابرین
واستعینوا بالصبر والصلوہ!
کہ صبر ہی تو نفس کی پاکیزگی .. نفس کی پرہیزگاری کا وسیلہ ہے.. صبر محبت کے دروازے کی چابی ہے.. جس کو محبت چاہے تھما دے.. اور آغوش میں بھر لے.. صبر چپ چاپ تکلیف سہنے کا نام کب ہے .. صبر تو محبت کی وہ ادا ہے جو تنہائ کو خلوت اور ہجوم کو جلوت کرتا .. خلوت کو احساسِ محبت سےجلوت کر دیتا ہے .. صبر ہی تو معیت کا بہانہ ہے. پاک ہونے کا رمز.. شکرگزاری کا بہانہ.. صبر تو امید سے استقامت رکھتے اپنی راہِ محبت میں ڈٹے رہنے کا نام ہے .. جو اپنے تئیں آسان بہرطور نہیں. جسے محبت ہی آسان کرتی ہے ..
محبت ہی تو صبر سکھاتی ہے.. انا میں تو سب جبر ہے .. محبوب کو جب محبت کہے.. صبر کرو .. تو محبت محبوب کو اپنی عطااپنے قرب کا اشارہ دیتا ہے.. مشکلوں میں اپنی آسانیوں کا دلاسہ.. اشکوں میں قوس قزح کی امید، بنجر زمیں بارش سے جل تھل ہو جانے کا یقین.... محبت سے بڑی عطا کوئ نہیں ... زمان ومکان کو جگمگا دینے والی معصوم سی محبت



ایک پهول استغفراللہ کا ڈالو


اپنی زندگی کے اس کٹورے میں __جو زندگی سے بهرا ہوا ہے __اس میں پهول ڈالو __بزرگوں کا یہی طریقہ ہوتا تها __گهر کو قدرتی طور پر مہکانے کا __مصنوعی طریقے استعمال نہیں کرتے تھے __جو وقتی ہوتے تهے __پانی سے بهرے کٹورے میں طرح طرح کے پهول ڈال دیتے تهے__جس سے گهر مہکتا رہتا تها
تم اپنے زندگی سے بهرے اس کٹورے میں طرح طرح کے پهول ڈالو__جس سے تمہاری زندگی مہک جائے گی __تمہارا قرب و جوار بهی مہک جائے گا اور تمہارے وجود کا آنگن بهی __قدرتی طریقہ ہے __قدرت بهی خوش ہو جائے گی __قدرت کو اپنانے سے
ایک پهول استغفراللہ کا ڈالو
ایک پهول سبحان اللہ کا ڈالو
ایک پهول والحمدلله کا ڈالو
ایک پهول لا الہ الا اللہ کا ڈالو
ایک پهول اللہ اکبر کا ڈالو
ایک پهول لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم کا ڈالو 
اور 
ایک پهول لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ڈالو
ہر پهول کی اپنی ہی خوشبو ہے __میٹهی میٹهی خوشبو __لیکن، جب یہ سب پهول ایک ساتھ مہکیں گے تو ان کی خوشبو کتنی میٹهی ہو گی


میں چاھے جتنی مرضی عمر کی منازل طے کر لوں


میں چاھے جتنی مرضی عمر کی منازل طے کر لوں ۔۔۔دل کے کسی کونے میں ۔۔۔وہ جو ایک چھوٹی سی۔۔۔ معصوم سی بچی ۔۔۔بچی چھپی بیٹھی ہے ۔۔وہ نجانے کس خوشی کو تلاشتی ہے ۔۔۔ہر ایک۔چہرے میں نجانے کسے ڈھونڈھتی ہے ۔۔۔ہر ایک آہٹ پر نجانے کیوں چونک سی جاتی ہے ۔۔۔اور پھر ہر طرف اندھیرا دیکھ کر خشک آنسووں سے ایک ہی سوال کرتی ہے ۔۔۔کیا میرے حصے میں کوئی خوشی نہیں ۔۔۔؟؟؟کیوں مری ہر خوشی چھین لی گئی مجھ سے ؟؟کیوں ؟؟؟



ہجرت


ہجرت 
جب اپنے ہی راستے انجان لگنے لگ جائیں حیران و پریشان کرتے ہوئے اجنبی نظروں سے دیکھنے لگ جائیں لفظ بے معنی ہو کر رخ بدلتے ہوئے آپ کو تنہائی کا احساس دلانے لگ جائیں 
اور خاموشی کی زبان میں آپ کو راہ بدل جانے کا حکم بار بار دیا جائے 
تو بد گمانی پالنے سے پہلے ہی اپنے مسکراتے لمحے ! روٹھنے اور منانے کی آس میں بہتے آنسو ! خوشی سے دہکتے چہرے کی چمک ! ساتھ گزرے لمحے ! محبت کی گٹھری میں بندھ کر چپکے سے کچھ یادیں لے کر ہجرت کر جائیں 
محبت بھرا مان ٹوٹنے سے پہلے اسے یادوں کے گلدان میں اپنی چاہت کا پانی دے کر ہمیشہ کے لیے خوشبو پھیلانے کے لیے چھوڑ دے 
نڈھال قدموں کو روکنے مت دیجیے گا آہستہ آہستہ ہی سہی پر محبت کا بھرم قائم رکھنے کے لیے شام ڈھلے سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ چپکے سے ہجرت کر جائیں  
بھرم قائم کر جائیں 



زندگی کا سب سے مشکل ترین مرحلہ


زندگی کا سب سے مشکل ترین مرحلہ ـــ کسی کو جانے دینا ہے ــــ، اب چاہے وہ احساسِ جرم سے گیا ہو ـــ یا پھر ناراض ہو کےـــ، یا پیار سے، یا کہیں گم ہو گیا ہو ـــــ، یا پھر وہ دغا اور دھوکہ دے کے گیا ہو ـــــ،
اتنی بڑی زندگی میں ــــ یہ تبدیلی جلدی سے قبول نہیں ہوتی ــــ، اس تبدیلی کو قبول کرنے اور اسے جانے دینے میں ـــــ اپنے آپ سے بہت بڑی " جنگ " کرنی پڑتی ہے 



منتوں اور ترلوں سے رشتے نه سنبهلتے هیں


منتوں اور ترلوں سے رشتے نه سنبهلتے هیں ، نه نبهتے هیں جو جاتا هے اسے جانے دینا چاهیئے کوئی بهی شخص دنیا کا آخری شخص نهیں هوتا 
اگر آپ نے اپنی عزتِ نفس بچالی هے تو یقین رکهیئے وه نظروں کے سامنے هوتے هوئے بهی نظر نهیں آئے گا



کچھ لوگ بہت گہرے ہوتے ہیں..


کچھ لوگ بہت گہرے ہوتے ہیں...اور لوگوں سے دور الگ سے 
جیسے انہیں لوگوں سے الرجی ہو یا وہ مغرور ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا بس وہ دوسروں کی طرح بولنے کے فن سے نا آشنا ہوتے ہیں انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ اسے غرور اٹریکٹ کرتا ہے تو وہ ایسے لوگوں کو کھوجنا چاہتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ وہ ان لوگوں کی گہرائی کا راز پانا چاہتے ہیں اور ان میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں پہلے پہل تو وہ بہت ہمدردی دکھاتے ہیں دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور محبت جتاتے ہیں اور پھر جب وہ ان کی ذات کی گھرائی ناپ لیتے ہیں تو پھر پلٹ کر دیکھتے بھی نہیں
چاہے اگلا بندہ اس دوستی کو اپنی حیات بنا بیٹھا ہو
بس ان کا مقصد پورا ہوا تو وہ کسی اور کی ذات کی کھوج کے سفر پر نکل پڑتے ہیں



ماں واقعی پیار کرتی تھی


ماں واقعی پیار کرتی تھی 
نفسیات کی دنیا کا لیجنڈ ،پروفیسر عادل ضمیر۔ ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی میں شعبہ ء نفسیات کے سربراہ ،ہزاروں مریضوں نے ان سے استفادہ کیا تھا ۔اس کے باوجود پروفیسر کی شخصیت کا تضاد بہت حیران کن تھا۔ وہ خود نفسیات کا ایک بہت بڑا کیس تھا۔ وہ جذبات سے محروم تھا۔ اس کی آواز، حرکات و سکنات ، ہر شے جذبات سے عاری تھی ۔نئے آنے والے طالبِ علموں کو پہلا لیکچر وہ اپنی ہی ذات پر دیا کرتا ۔اس کے پاس چھپانے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔ وہ بتاتا کہ اس کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس کا باپ مر گیا تھا۔ ماں اس وقت مری ، جب وہ 13برس کا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ ماں نے اسے ایک آیا کے حوالے کر رکھا تھا۔وہ اسے کپڑے تبدیل کراتی ، وہی کھانا کھلاتی ۔ ماں یا تو اپنے کمرے میں بند رہتی یا وہ گھر سے باہر چلی جاتی ۔ عادل ضمیر سے بات کرنا پڑ ہی جاتی تووہ سپاٹ لہجے میں بات کرتی '' عادل صاحب، کھانا کھا لیا آپ نے ؟کیا کہا ، نہیں ؟ شائستہ عادل صاحب کو کھانا کھلا دو ‘‘۔''شائستہ عادل صاحب نیچے کیوں بیٹھے ہیں ، انہیں ان کے کمرے میں چھوڑ آئو ‘‘ ۔ اسے وہ ''عادل صاحب‘‘کہا کرتی۔ سکول میں دوسرے بچوں کی مائیں انہیں چھوڑنے آتیں ۔ ان سے لپٹ کر وہ پیار کرتے تو ننھا عادل حیران پریشان یہ سب دیکھتا رہتا۔ '' لیکن جیسا کہ انسانی دماغ خصوصی چیلنج سے نمٹنے کے لیے خصوصی تدابیر اختیار کرتا ہے ، وہی میرے دماغ نے بھی کیا‘‘ پروفیسر عادل نے بتایا کہ اس کے ننھے سے دماغ نے خودبخود ہی جذبات سے عاری ہونا شروع کر دیا۔
اس کے علاوہ اس کہانی میں کچھ بھی نہ تھا ۔ لڑکا13برس کا تھا ، جب اس کی ماں بیمار ہو کے مر گئی۔جائیداد کافی تھی اور اسے سنبھالنے والے ایماندار ۔ وہ پڑھ لکھ گیا۔ نفسیات کے شعبے میں ملک کا ایک بڑا نام بنا لیکن اس کے دماغ میں جذبات والا خانہ جیسے ختم ہو چکا تھا ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک برا انسان تھا ۔ اپنی محرومی کا بدلہ اس نے کسی اور سے نہ لیا۔ طالبِ علموں کو وہ بتایا کرتا کہ جذبات سے محرومی ایک بڑی نعمت ہے ۔ ہر قسم کی جذباتی کشمکش سے انسان بچ جاتا ہے ۔
1983ء کے موسمِ بہار میں ، پہلی بار فورتھ ائیر کے چندطلبہ نے ہمت سے کام لیا۔ اپنے فائنل پراجیکٹ کے لیے انہوں نے پروفیسر عادل ضمیر کی شخصیت کا انتخاب کیا۔ پروفیسر کی ماں کے رویے اور پروفیسر کی شخصیت پر اس کے اثرات پر انہیں تھیسز لکھنا تھا۔ عادل ضمیر کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔اس نے ان طلبہ کو کچھ روز اپنے گھر میں گزارنے کی اجازت دی ۔پینتالیس برس سے پروفیسر کی والدہ کا کمرہ بند پڑا تھا۔ اپنی ماں کی زندگی میں شاید ہی کبھی وہ اس کمرے میں داخل ہوا ہو۔ جب وہ فوت ہوئی ، تب تک پروفیسر کی اپنی ماں اور اس سے وابستہ ہر چیز میں دلچسپی ختم ہو چکی تھی ۔ طلبہ میں جوش و خروش پایا جاتا تھا کہ وہ ایک منفرد کیس پر کام کرنے جا رہے ہیں ۔ شاید ان کی حوصلہ افزائی ہی کے لیے پروفیسر ان کی مدد کر رہا تھا۔ 
دروازے کے قفل توڑ دئیے گئے ۔اندر ہر شے سلیقے سے اپنی جگہ پر موجود تھی ۔ کھڑکیوں میں ایسا شیشہ لگا تھا، جن میں اندر سے باہر صاف نظر آتا تھالیکن باہر سے اندر نہیں ۔سنگھار میز پر پرفیوم کی کئی شیشیاں دھری تھیں ۔ پروفیسر کی اجازت سے ایک طالبہ نے باری باری انہیں سپرے کیااور سب نے سونگھا۔ ایسا لگتا تھا کہ پروفیسر کی ماں ایک بے حد نفیس عورت تھی ۔ الماری کا قفل بھی توڑ دیا گیا ۔ وہاں کچھ زیورات دھرے تھے ۔وہاں موجود دو طالبات نہایت دلچسپی سے پینتالیس برس پرانے ڈیزائن کا جائزہ لینے لگیں ۔ کن انکھیوں سے وہ سب پروفیسر کو دیکھ رہے تھے ۔ اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔ 
الماری کے اندر ایک ایک خانے کو الگ سے قفل لگا ئے گئے تھے ۔ ان سب کو توڑ دیا گیا۔ وہاں میڈیکل سے متعلقہ دو دو بڑی بڑی فائلیں پڑی تھیں ۔ ایک ہڈیوں اور جوڑوں سے متعلق اور دوسری میں امراضِ گردہ سے متعلق ایک ڈاکٹر کے نسخے درج تھے ۔ نسخوں کی تاریخیں دس سال پہ محیط تھیں ۔ ان دونوں فائلوں پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوا کہ پروفیسر کی ماں گنٹھیا کا شکار تھی اور اس کے گردے بھی ناکارہ ہو چکے تھے ۔ہفتے میں تین روز اس کے خون کی صفائی (Dialysis)کی جارہی تھی ۔ عادل ضمیر کے طلبہ کا تعلق میڈیکل ہی سے تھا ۔ ان پر بخوبی ظاہر ہو چکا تھا کہ پروفیسر کی ماں آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہی تھی ۔حیران پریشان ، پروفیسر نے بتایا کہ اس کی ماں نے اپنی بیماری کبھی اس پہ ظاہر نہ کی۔ 
آخری چیز وہاں موجود ایک ذاتی ڈائری تھی ۔ اس کے صرف دو ورق استعمال ہوئے تھے۔ پہلے صفحے پہ پروفیسر کی ماں لکھتی ہے '' میری محنت رنگ لائی ہے ۔ عادل اب میرے بغیر رہنے کا عادی ہو گیا ہے ۔یوں میری موت سے اسے کوئی دھچکا نہیں لگے گا۔ جاوید حسین صاحب مالی معاملات کی دیکھ بھال کریں گے ۔ اپنے بیٹے کو اب میں خدا کے سپرد کرتی ہوں ۔ ‘‘ دوسرے صفحے پر لکلکھا تھا
 "Adil, my sweatheart, mama loves you"۔ 
پروفیسر کے چہرے پر ایک رنگ آر ہا تھا ،دوسرا جا رہا تھا ۔ اس نے کہا ''مجھے یاد پڑتا ہے ، جب میں صبح نیند سے اٹھا کرتا تو میرے بستر پرماما کے پرفیوم کی خوشبو ہوتی ۔ اچھا! توجب میں سو جاتا ،تب وہ مجھے پیار کیا کرتیں ؟ ‘‘ اس نے کہا''اس شیشے سے بھی وہ مجھے دیکھتی ہوں گی، جس میں باہر سے اندر دیکھا نہیں جا سکتا؟ ‘‘ پھر اس نے بتایا '' جب میں سکول جانے کے لیے گھر سے باہر نکلتا تو وہ چھت پر کھڑی ہوتیں ۔ جب بھی میں ان کی طرف دیکھتا تووہ دوسری طرف دیکھ رہی ہوتیں لیکن کیا چوری چوری وہ مجھے دیکھا کرتی تھیں ؟ ‘‘ طلبہ نے دیکھا کہ پروفیسر کا چہرہ خوشی اور فخر سے جگمگا رہا تھا ۔ اس نے کہا '' میری ماں ایک عظیم عورت تھی۔ وہ مجھے اپنی موت کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی تھی۔ کاش وہ مجھے بتا دیتی لیکن کیسے بتا دیتی ؟ اس عمر میں ، یہ بات میں کیسے سمجھ سکتا تھا۔‘ ‘وہ خاموش ہوا لیکن پھر بولنے لگا '' اچھا تو وہ خون صاف کرانے جایا کرتی تھیں ؟
وہ خود کلامی کر تا رہا،آنسو پونچھتا رہا۔ طلبہ حیرت سے مٹی کے اس مجسمے کو دیکھ رہے تھے، نصف صدی کے بعد جس نے جذبات کا ذائقہ چکھا تھا۔ ماں کی محبت پا کر، عدم جذباتیت کا اپنا فلسفہ بھی اس نے بھلا دیا