Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

محبت جیسی بھی ہو،جس سے بھی کی جائے


محبت جیسی بھی ہو،جس سے بھی کی جائے
وہ خوشی پیدا کرے یا غم یا اُداسی 
اس کے نتائج یا اثرات جو بھی ہوں
آخرکار محبت کا نتیجہ محبت ہی ہوتی ہے
جیسے صفر کو چاہے صفر سے تقسیم کریں،ضرب دیں،تفریق کریں یا پھر جمع،وہ صفر ہی رہتا ہے۔ 
صفر نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ صفر عین ہونے کا نام ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آپ نہیں رہتے
وہی رہتا ہے جس سے آپ محبت کرتے ہوں
چاہے وہ خٍدا ہو،انسانیت ہو یا کوئی ایک انسان ہو
پھر آپ نہ ہونے کے مقام پر ہو کے موجود رہتے ہیں
یہ وصف صرف "محبت" کے جزبے کو ملا ہے۔



اللہ تمہارے کتنا قریب ہے


اگر تم دیکھنا چاہتے ھو کہ ۔۔۔۔ اللہ تمہارے کتنا قریب ہےتو سجدے میں کبھی ۔.۔۔۔۔۔ 'سُبْحٰنٙ رٙبّیٙ العٙلٰی"
کی سرگوشی کو اپنے دل کی دھک دھک کے ساتھ synchronize ھوتے دیکھنا ۔۔۔۔۔۔
تم محسوس کروگے ۔۔۔۔۔ تم جس کا نام لے رھے ھو وہ تمہارے سامنے بیٹھا ھے تمہیں سن رھا ہے



یقین خالی دل کو بھر دیتا ہے


یقین خالی دل کو بھر دیتا ہے اور بے یقینی بھرے دل کو خالی کر دیتی ہے. سو ہمیشہ اچھے کی امید پورے یقین سے کریں کیونکہ اگر کوئی بھی آپ کا ساتھ دینے کو تیار نہ بھی ہو تواللہ موجود ہے جسے اپنے بندے سے بہت محبت ہے جسے وہ کسی بھی حال میں تنہا نہیں چھوڑتا . اللہ کی رحمت سےکبھی بھی نہ امید مت ہونا کیونکہ ناامید کفر ہے اور کفر اللہ کو پسند نہیں۔
اپنی اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں 
سلامت رہیں۔۔



میں اسے بددعا نہیں دے رہی



میں اسے بددعا نہیں دے رہی لیکن میں چاہتی ہوں اللہ پاک اسے ایک خوبصورت بیٹی سے نواذے وہ اسے لاڈوں سے پال کر بڑا کرے اور پھر اسکی بیٹی کو کسی لڑکےسے محبت ہو جاے.وہ لڑکا اسے ہزاروں خواب دکھاے اور جب خوابوں کی تکمیل اور تعبیر کا وقت آن پہنچے تو وہ لڑکا خاموشی سے راستہ بدل کر کسی اور لڑکی کا ہاتھ تھام لے اور کبھی واپس پلٹ کر نہ دیکھے.پھر وہ بے حس کھڑا اپنی بیٹی کو تڑپتا دیکھے.

اسکے ذہن میں صرف اور صرف میرا نام نقش ہو
اور اسکی آنکھوں میں بسی. بے بسی اس کو احساس دلاے کہ دنیا مکافات عمل ہے



اللہ کی نعمتیں کھا کھا کہ



اللہ کی نعمتیں کھا کھا کہ
لوگوں کی غیبتں چپا چپا کہ
تیرے دانت تک ٹوٹ گئے
لیکن اے انسان
تیری زبان سے لفظ شکر ادا نہ ہوا
عاجزی کی مٹی سے گوندا گیا تھا تجھ کو
ابلیس کے تکبر کی آگ کو بھی مات دے دی تو نے
واقعی انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔۔



پتا ہے کیا؟ اس نے تمہیں ہی کیوں چنا ہے۔۔


پتا ہے کیا؟ اس نے تمہیں ہی کیوں چنا ہے۔۔
کیونکہ وہ انھی کو چنتا ہے جن سے وہ کوئی کام لینا چاہتا ہے۔۔ جن کو کوئی مقام دینا چاہتاہے۔۔ جن کو اپنے ہاں خاص کرنا چاہتا ہے۔۔ جن کو عزت دیناچاہتا ہے۔۔ جن کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔۔ جن کے حوصلوں کو بلند اور ہمتوں کو جواں رکھنا چاہتا ہے۔۔ جنھیں تراش کر جوہرِخاص بنانا چاہتاہے۔۔ جن کو دھوپ میں اسلئے رکھتا ہے کہ وہ کندن بن جاٸیں۔۔ جن کو وہ ضاٸع نہیں کرنا چاہتا۔۔ جن کو وہ مثال بنانا چاہتا ہے 'ہمت کی' 'عزم کی' حوصلے کی' برداشت کی' جبرِنفس کی۔۔
اور انھیں پرسکون اور خاموش سا سمندر کی مانند گہرا بنانا چاہتا ہے۔۔
وہ تمہیں بے حساب "دینے "کے لیے آزما رہا ہے ۔۔ وہ تم سے اتنی محبت کرتا ہے کہ تمہیں اسکی مقدار معلوم ہو جائے تو تمہارا جوڑ جوڑ علیحدہ ہو جائے اس احساسِ محبت سے۔۔
بس تم ایک کام کر لو۔۔ میری ایک بات مان لو کہ اس سے راضی ہو جاٶ۔۔ اس حال میں جب زبان سے شکوے، آنکھ سے آنسو، دل سے ناشکری کے بول 
امڈے چلے آتے ہوں، پر تم یہی کہتے رہو کہ اللہ جی میں آپ سے راضی۔۔ آپ کی محبت سے راضی۔۔ آپ کی دی ہوئی آزماٸش پر راضی۔۔ دل سے نکلتی آہوں اور آنکھ سے بہتے آنسوٶں میں راضی۔۔ آپ کی مصلحتوں پر راضی۔۔
-
بس جُھک جاٶ کیونکہ 
-
" جو نہ جھک سکا
وہ نہ پا سکا 
یہی سلسلہ ہر دور ہے 
نہ تیرا خدا کوٸی اور ہے 
نہ میرا خدا کوٸی اور ہے 
یہ جو راستے ہیں جدا جدا 
یہ معاملہ کوٸی اور ہے



#سطح پر تیرنے والے کے حصے میں فقط جھاگ


#سطح پر تیرنے والے کے حصے میں فقط جھاگ اور خس و خاشاک آتا ہے جبکہ #گہرائی میں اترنے والے کے نصیب میں موتی۔۔۔۔ 
#زندگی کو سطحی طور پر برتنے والے کو بس روز مرہ کی زندگی کے خس و خاشاک سے ہی حصہ ملتا ہے ۔۔۔!!
#البتہ جو زندگی کو #گہرائی میں اتر کر دیکھےتو #حیات کا اصل حسن اور کائنات کے سر بستہ راز اس پر آشکار ہوجاتے ہیں۔۔۔



کبھی جب میں نہیں ہوں گی


کبھی جب میں نہیں ہوں گی 
تمہیں سب یاد آئے گا
وہ میری بے کراں چاہت
تمہارے نام کی عادت
وہ میرے عشق کی شدت
وصال و ہجر کی لذت
تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا
خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا
تمہیں سب یاد آئے گا
وہ میری آنکھ کا نم بھی
وفاؤں کا وہ موسم بھی



ادھر سے چھوڑوں تو ادھر بکھر جاتیں ہیں

 

ادھر سے چھوڑوں تو ادھر بکھر جاتیں ہیں

نعمتیں دیتے ہوئے رب نے میرا دامن نہ دیکھا

 

 

 

 

کاش میں مکافات عمل لکھ سکوں


کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ کاش میں مکافات عمل لکھ سکوں" ....ان. لوگوں کو اپنے سامنے کھڑا کر کے ہر گزرتے وقت کی گواہی مانگوں ".... اور پوچھوں کہ بتاؤں ضروری نہیں ... جسے تم کمزور سمجھتے ظلم کرتے ہو اپنی انا اپنے غرور میں پیروں تلے روندتے خدا بن جاتے ہو اور تمہارے ظلم کی وجہ سے کسی کی زندگی تک برباد ہوجاتی ہے نہ ختم ہونے والی اذیت جو تم کسی کو دیتے ہو اور ایک دن یہی تمہارا ظلم تمہارے گلے کا طوق بن جائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے 
اور جب وہ پاک ذات ربِ کریم انصاف کرنے پہ آجائے تو کیا ہوتا ہے__اپنی سب تکلیفیں بے چینیاں اور اذیتیں جو صرف اور صرف میرا رب جانتا ہے تمہیں بتاؤں جنہیں میں نے اکیلے سہا...اور جب ان لوگوں کی آنکھوں میں یہی ان کا ظلم خون کے آنسو انہیں رلانے لگے یقین امنڈنے لگے تو اس پل میری آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں"....پھر وہ بھی اذیت کو اس طرح سہے جیسے میں نے سہا"....تنہا اور دم سادھے__انہیں بھی تو علم ہو نہ کہ تکلیفیں کیسے جیتے جی مارتی ہیں "
کیسے زندہ لاش بنا دیتی ہیں کیسے چھوٹی عمر میں لگے روگ بچپن تک کی شرارتیں یادیں تک چھین لیتے ہیں کیسے آپکا ظلم کسی کو چلتا پھرتا زندہ لاش بنا دیتا ہے قوتِ گوئ تک چھین لیتا ہے کیسے انسان اپنی ذات سے لاپرواہی کرتا خود کو اذیت دیتا ہے تو کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے چاہے پھر اپنوں کی لاکھ محبت ہو آپ کو زندگی کی طرف لوٹنے میں کس کس مسافتوں سے گزرنا پڑتا ہے اور آپ. کے اپنے آپکے کی مسکراہٹ دیکھنے کو ترس جاتے ہیں اور اپنوں کو خود کےلیے روتے تڑپتے دیکھنا کوئ آسان بات نہیں ہوتی دل خون کے آنسو روتا ہے پل پل مرنا پڑتا ہے لیکن آپ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے ہیں ناں

سنو
رہی تیری بات جاناں 
تو تمہیں روزِمحشر 
اُس ذات کے حساب کیلئے
چھوڑا ہم نے