ہیپی برتھ ڈے
میں نے ایک بار پھر گھڑی کی طرف نظر اُٹھائی جہاں ١١ بج کر ٣٠ منٹ ہورہے تھے یعنی کہ ایک نیا دن لگنے میں پورے تیس منٹ باقی تھے، صبح سے اب تک میں کوئی سیکڑوں بار گھڑی کی طرف دیکھ چکی تھی، میری ہر اُٹھنے والی نظر میں اضطراب، بےچینی، الجھن نمایاں تھی، اور اب بھی ١٢ بجنے میں ٣٠ منٹ باقی تھے ، ٣٠ منٹ بعد اُس بےوفا ، ہرجائی ، مسٹر بے حس کا برتھ ڈے تھا_💕
پھر یوں ہی گھڑی کو دیکھتے دیکھتے پہلے ١١ :٤٠ ہوئے پھر ١١: ٥٠ ،١٢ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے، میں ابھی تک اُسے وش کروں یا نا کروں کی اُلجھن میں اُلجھی تھی، ایک طرف محبت ، دوسری طرف اَنا،
میں نے دل کو سمجھایا، اُس نے جو بھی کیا، اُس کی وہ خود جانے، مگر میں نے تو محبت کی تھی اُس سے، میری محبت کا تقاضا یہی ہے کہ میں اپنی انا کو مار کر اپنی محبت کا ثبوت پیش کروں_
میں نے اُس کی اب تک کی ، کی گئی تمام تر بےوفائی کو بھُلا کر اپنے تمام تر شکوٶں سے نظریں چرا کر فیس بک کھول کر میسیج باکس میں ایک جملہ ٹائپ کیا
"ہیپی برتھ ڈے مسٹر معصوم "
اور اِس سے پہلے کہ سینڈ کے آپشن پر کھڑی اُنگلی حرکت کرتی اچانک ایک گمان حملہ آور ہوا_
وہ تو کسی اور کے میسیج کا انتظار کررہا ہوگا، میرے ساتھ تو اُس نے محض محبت کا ناٹک کیا تھا، اور اب تک تو وہ اُسے وش کرچکی ہوگی۔ اور اگر وہ اُسے وش کرچکی ہے تو پھر اُسے میری طرف سے کسی میسیج کے آنے کا انتظار نا رہا ہوگا، میں تو اُن دونوں کے بیچ میں سے کہیں سائیڈ پہ چلی گئی ہونگی، میرے اُسے وش کرنے، نا کرنے سے اُسے کچھ فرق نہیں پڑے گا، میری محبت میری انا کی نظروں میں گر جائے، ایک بار پھر میرے جذبات میرے احساسات ، میری محبت کا
_خون ہوگا، نہیں
اور پھر وہی ہوا جو اکثر ہوتا آیا ہے محبت پر انا حاوی ہوگئی، سینڈ کے آپشن پر کپکپاتی اُنگلی دم توڑ گئی، موبائل اسکرین آنسوٶں سے تر ہوتی گئی، اسکرین کے نیچے لکھا گیا محبت سے بھرا جملہ "ہیپی برتھ ڈے مسٹر معصوم" آنسوٶں کی تہہ _
تلے دھندلا گی💕ا
١٢ بج کر دس منٹ پر میں نے اپنی فیسبک آئی ڈی اوپن کی انباکس کھولا، اُس دشمنِ جاں کی تصویر سامنے لہرائی ، آنسوٶں کی شدت میں اضافہ ہوا، اُس نے اپنی آنسوٶں سے لتھڑی آنکھوں سے، تصویر کو دیکھا، سسکتی، کپکپاتی انگلیاں تصویر کی مسکراتی دو آنکھوں پر رکھیں اور کپکپاتے ہونٹوں سے ایک سسکی نکلی
"ہیپی برتھ ڈے مسٹر معصوم"_
_💕اور پھر آنسوٶں اور سسکیوں کا ایک نا تھمنے والا سلسلہ چل پڑا
-
ہم نے کس طرح وہ دن گزارے ہیں تمہیں کیا معلوم
ہم تمہیں جیت کے ہارے ہیں تمہیں کیا معلوم
💔
جو بھی ہماری ذندگی میں آتا ہے
جو بھی ہماری ذندگی میں آتا ہے ہمیں کچھ نا کچھ سکھا جاتا ہے،،،، جیسے کوئی درگزر کرنا سکھاتا ہے کوئی حق کے لئے لڑنا، کوئی ساتھ دینا سکھا جاتا ہے تو کوئی چھوڑ جانا۔ ہم یہ سیکھنے سکھانے کا کام پوری عمر کرتے رہتے ہیں ،،،، اور پھر آخر میں ہم ان سب لوگوں کا عکس بن جاتے ہیں جو ہماری زندگی میں آئے۔ آپ خوش نصیب ہیں ،،،، کہ آپ کے پاس خدا نے یہ صلاحیت دی ہے کہ آپ کو جو انفارمیشن فیڈ کی جارہی ہو اسے سسپنڈ کردیں ،،،، اور وہی اپنے اندر آنے دیں جو آپ کے لئے مفید ہو۔
بے وفا سے بے وفائی نا سیکھیں۔
چھوڑ جانے والوں سے جدائی نا سیکھیں۔
نا امید سے انکار کرنا نا سیکھیں۔
سیکھنا ہے تو صبر سیکھو، عدل سیکھو، خوش رہنا سیکھو۔
تعلقات
تعلقات کو نبھانے کے لیے عہد و پیماں کی ضروت نہیں ہوتی.... ضرورت ہوتی ہے تو بس ایک دوسرے سے مخلص ہونے کی ،،وہ تعلق چاہے دوستی کا ہو محبت کا ہو ، خون کا ہو یا احساس کا ،، اکثر جہاں عہد و پیماں زیادہ ہوتے ہیں وہیں رشتے جلدی زوال پذیر ہوتے ہیں جن کو نبھانا ہوتا وہ نا تو بڑی بڑی قسمیں کھاتے اور نہ ہی ہر بات کو جتاتے بس خاموشی سے نبھائے جاتے ہیں اور محسوس بھی نہیں ہونے دیتے کہ وہ خود کن حالات سے گزر رہے ،، آپ جب ان کو پکارو گے وہ آپ کے ساتھ اپ کا سایہ بن کر موجود رہیں گے قدر کیجیئے ایسے مخلص لوگوں کی ، ہر انسان کی قسمت میں ایسے لوگ نہیں ہوتے ، بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے پاس ایسا کوئی مخلص شخص کسی بھی رشتے کی صورت میں موجود ہو
!!
ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ ، ﺳﺨﻦ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ ، ﺳﺨﻦ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﺍﮮ ﮨﺠﺮ ﺗﺮﮮ ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﻮ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ
ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺍ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﺯﺧﻢ ﮨﺮﮮ ﮨﯿﮟ
ﺍﮮ ﻋﺸﻖ ﺯﺩﮦ ، ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯼ ﻏﻢ ﺧﻮﺍﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﮩﻮﮞ ﺩﻭﺳﺖ
ﮐﺮﻧﯽ ﮨﯽ ﭘﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ
ﺍﮎ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺁﺯﺍﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﭘﻞ
ﮔﺮ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ
Subscribe to:
Comments (Atom)










