Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

اپنی زندگی سے میں نے یہی سیکھا



 __اپنی زندگی سے میں نے یہی سیکھاکہ
 !__میری ذات وابستگیوں کے قابل نہیں ہےاور مجھے اکیلا پن ہی راس آتا ہے



گن


_ اگر انسان میں ساتھ نبھانے کے گن نہ ہوں تو، کم از کم اتنی ہمت ضرور ہونی چاہیے کہ ساتھ چلنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بزدلی کو تسلیم کرے، اور اسے واپس اسی مقام پر چھوڑ کر آۓ جہاں سے اسکی آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھ کر سفر کا آغاز کیا تھا


ﻣﺤﺒﺖ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﯾﮧ ﻧﺴﻞِ ﻧﻮ ﺳﻤﺠﺘﮭﯽ ھﮯ


ﻣﺤﺒﺖ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﯾﮧ ﻧﺴﻞِ ﻧﻮ ﺳﻤﺠﺘﮭﯽ ھﮯ
ﯾﮧ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﯾﮧ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﻣﻼﻗﺎﺗﯿﮟ
ﺍﮔﺮﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﺤﺒﺖ ھﮯ
ﺗﻮ ﺗﻒ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺮ
ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ھﮯ
ﻭﺻﺎﻝ ﻭ ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ
کہتے ہیں کہ
ﻣﺤﺒﺖ ﻗُﺮﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ
ﮨﻮﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺁُﭨﮭﺎﯾﺎ ھﮯ
ﮨﻮﺱ ﮐﯿﺎ ھﮯ
ﻓﻘﻂ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺎﻣﺎﻟﯽ ، ﻓﻘﻂ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﯽ
کہتے ہیں کہ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﯽ ھﮯ
ﮨﻮﺱ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﯽ ھﮯ
ﺳﻮ ﺟﺐ ﻗُﺮﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﮧ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﻣﺤﺒﺖ
ﺳُﻨﻮ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﺮ ﻣَﺖ ﮐﺮﻧﺎ
ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺳﺘﮧ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﻨﺎ
ذرا بھی دیر مت کرنا


Now my thoughts are climbing walls in the dark,



Now my thoughts are climbing walls in the dark,
Remembering what's perfect as it feel apart.




!زندگی بارش ہے


!زندگی بارش ہے
بارش کا جنم سمندروں کی ان وسعتوں میں ہوتا ہے جہاں پانی سی کم حیثیت چیز شائید کوئی نہ ہو۔ ہوائیں اسے اِک ادائے بے نیازی سے شہروں، صحراوں، کھیتوں اور دریاوں کے بیچ اڑاتی ہیں اور پھراِک دن اسے برسنے کا اذن ملتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ قرعہ کس نام نکلے گا۔ صحرا کی قسمت جاگے گی یا پھر فصل پکے کھیتوں کے کنارے کھڑے کسانوں کی سال بھر کی کمائی غارت کرنے کا کام ملے گا۔ بارش کا کام پیاس بجھانا نہیں ہے، فصل اگانا نہیں ہے، سیلاب لانا نہیں ہے، شہر کو ماورائی چادر میں ڈھانپ دینا نہیں ہے۔ بارش کا کام تو بس برسنا ہے۔ جہاں اذن ملے وہاں کھل کر برسنا ہے۔ اور پھر چھت کی منڈیروں، لجاتی دوشیزہ کی چادر کے کونوں، کوئل کے پروں، غلاظت بھری نالیوں، موٹر سائیکل سواروں کی برساتیوں سے ہوتے ہوئے اس طلسماتی شہر کے رازوں کو اپنی زنبیلوں میں ڈالے خود کو دریا کے سپرد کر دینا ہے۔
زندگی بارش ہے۔ اور بارش کے قطرے کی طرح بے اختیار ہم آسمانِ دنیا پراِک اذن کے منتظر رہتے ہیں ۔ جیسے ہی اجازت عطا ہوتی ہے ایک لمبی چھلانگ کے ساتھ ہم اس سحر انگیز دنیا میں اپنے حصے کی سانپ لہریں بناتے دریا کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں۔ راستے میں کتنے چھتوں کی منڈیریں، کتنی دوشیزائوں کے لبادے، کتنی کوئلوں کے پر، کتنی غلاظت بھری نالیاں، کتنے موٹر سائکل سواروں کی برساتیاں ملتی ہیں یہ مقدر کا کھیل ہے۔ ہم سے پوچھا جائے گا تو بس اتنا کہ ہم نے اپنا کردار کیسا نبھایا۔ جب ہمیں مقابل میں پیاسے ہونٹ ملے تو خود کو مٹا کر ہم نے وہ پیاس بجھائی یا نہیں، جب ہمارے سامنے اس بوڑھی عورت کے ہفتوں کی سُکھائی گندم لائی گئی تو ہم نے رحمدلی کے نام پرکہیں اسے خشک تو نہیں چھوڑ ڈالا۔ اوراس پورے سفر ہماری متاع ہے تو بس اس طلسماتی شہر کی کہانیاں جنہیں اپنی زنبیلوں میں اہتمام سے چھپائے ہمیں سمندر تک لے جانا ہے اور پھر سرگوشیوں کے بیچ انہیں کچھ اس طرح پھیلا دینا ہے کہ سمندراپنی ساری بے نیازی کے باوجود شہر سے محبت کرنے لگے۔


‏بہت یاد آتے ہیں


‏بہت یاد آتے ہیں
پرانی کتابیں
وقت بے وقت کیے ہوئے غلط فیصلے 
پہلے سفر کی صعوبت
دریا کے پل پر پھنسی ٹریفک اور ریل کی سیٹی 
وادی کا سینہ چیرتی ہوئی
کچھ مکان اور دروازے
اور جب یہ دروازے بند ہوئے
‏بہت یاد آتے ہیں
چھوٹے ہو جانے والے کپڑے 
فراموش کردہ تعلق
اور پرانی چوٹوں کے نشان


میرا کردار نہ تھا میری کہانی میں کوئ


میرا کردار نہ تھا میری کہانی میں کوئ
بیٹھ کر دور سے بس اپنا تماشا دیکھا



تمہارے ساتھ کرنے کو۔۔۔ بہت سی اور باتیں ہیں


تمہارے ساتھ کرنے کو۔۔۔ بہت سی اور باتیں ہیں
غزل کا کیا,؟ غزل تو میں پرندوں کو سنا دوں گا۔۔۔



یہ کائنات بھی حرکت پذیر ہے لیکن


یہ کائنات بھی حرکت پذیر ہے لیکن
تمہارے گرد زیادہ گھماؤ میرا ہے


مجھکو رنگوں کی طرح لگتی ہے دنیا ساری


مجھکو رنگوں کی طرح لگتی ہے دنیا ساری
رنگ,رنگوں میں ملیں___ رنگ بدل جاتے ہیں