لوگ کہتے ہیں۔
لوگ
کہتے ہیں۔ ہماری چوائسز ہمیں ڈیفائن کرتی ہیں۔ وہ انتخاب جو ہم کرتے ہیں‘ وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ ہم ہلکے سر مئی ہیں یا گہرے سر مئی ‘ اس کا فیصلہ وہ کام کرتے ہیں جو ہم نے کیے ہوتے ہیں‘ مگر نہیں۔
کیونکہ میرا خیال ہے ہمارے اچھے یا برے ہونے کا تعین ہمارے چنے گئے راستے نہیں کرتے ‘ بلکہ وہ راستے کرتے ہیں جو ہم نے نہیں چنے ہوتے ۔ وہ فیصلے ‘ وہ انتخاب کرتے ہیں جو ہم نے میسر ہونے کے باجود نہیں لئے ہوتے ۔
وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
عجب بات ہے کہ وہ تکلیف دور نہیں کرتا اور برداشت کرنے والوں کے ساتھ رہتا اور تکلیف بھیجنے والا بھی خود ہی.....بس یہی انسانی عظمت کا راز ہے ۔ انسان کی تسلیم و رضا کا روشن باب ، انسان کی انسانیت کا ارفع مقام کہ وہ سمجھ لے کہ ، تکلیف دینے والا ہی راحتِ جاں ہے......یہ زندگی اُسی کی دی ہوئی ہے اُسی کے حکم کی منتظر ہے.......وجود اُس کا بنایا ہوا اُسی کے امر کےتابع ہے........وہ ستم کرے تو، ستم ہی کرم ہے ۔
وہ تکلیف بھیجے تو یہی راحت ہے ۔
وہ ذات ہمارے جسم کو اذیت سے گزارے ، تو بھی یہ اُسکا احسان ہے ۔
ہر انسان کو کسی نا کسی موڑ پر محبت ہو ہی جاتی ہے
ہر انسان کو کسی نا کسی موڑ پر محبت ہو ہی جاتی ہے محبت ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ کائنات کی بنیاد ہی محبت پر رکھی گئی ہے اس کا ہوجانا رحمت ہے بلکہ خدا کا تحفہ ہے ہر انسان پر اک وقت ایسا آتا ہے کہ جب محبت اپنے ایسے رنگ دیکھاتی یے کہ انسان سدھ بدھ کھو بیٹھتا ہے دنیا کی رنگینیاں آنکھوں کو بھاتی نہیں ہیں پھر کوئی منظر دل کو چھوتا نہیں ہے راتیں محبت کی ہوتی ہیں
باتیں محبت کی ہوتی ہیں
سونا محبت کا
جاگنا محبت کا یوتا ہے
حتی کہ ہر سانس میں محبت کی خوشبو آتی ہے جب من میں روح میں محبت کی خوشبو بس جاتی ہے نا تو پھر چہرے پر زردیاں گھولنے لگتی ہیں اندر کے فسوں کی خوشبو اتنی تیز اور معطر ہوتی ہے باہر کے وجود میں اثرارت نظر آنے لگتے ہیں
عقل والے جب پاگل کہتے ہیں نا تو محبت یہ الزام بھی بسم اللہ کہہ کر قبول کرتی ہے
اور جو کہتے ہیں نا کہ ہم کو کسی سے محبت نہیں ہے وہ سراسر جھوٹ بولتے ہیں خود کو دھوکہ دیتے ہیں جس کو بنانے کے لیے بنیاد ہی محبت کی ہو اور وہ اس بنیاد سے انکار کردے تو جھوٹ ہی ہوتا ہے نا
انسان کے ہر ہر عضو سے بنانے والے کی محبت ٹپکتی نظر آتی ہے پانی - ہوا- بادل- زمین-آسمان-چرندے - پردندے- دن - رات ہر چیز پر محبت کا قبضہ ہےتو پھر جو محبت سے انکاری ہوجاتا ہے تو اس کے پاس رہ کیا جاتا ہے
مردہ وجود
مردہ وجود دنیا کے لیے بھی بے کار ہے اور آسمان والے کے لیے بھی
Subscribe to:
Comments (Atom)









