Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

اس نے مجھے تخلیق کیا، پھر اپنی مرضی سے اس دنیا میں بھیج دیا.


اس نے مجھے تخلیق کیا، پھر اپنی مرضی سے اس دنیا میں بھیج دیا
اسے اپنی ہر تخلیق سے محبت ہے.میں بھی اسی کی تخلیق ہوں ،اسے مجھ سے بھی محبت ہے
وہ بڑی عجیب ہستی ہے، مجھے اس کی حکمتوں پر پیار آتا ہے. وہ میری زندگی میں مختلف رکاوٹیں اور آزمائشیں رکھتا ہے، میں ٹھہری کمزور، گھبرا جاتی ہوں
اس کی دی ہوئی آزمائش کو دیکھ کر ڈر جاتی ہوں، رونے لگتی ہوں، اسی کی طرف دیکھتی ہوں اور آنکھوں میں آنسو بھر کر مدد کے لیے پکارتی ہوں
پر اس نے تو مجھے کبھی چھوڑا ہی نہیں ہوتا. وہ تو ہر وقت مجھ پر ایسے نظر رکھتا ہے، میری ایسے حفاظت کرتا ہے جیسے بس میں ہی اس کی مخلوق ہوں اور اسے بس میرا ہی خیال رکھنا ہے
ہر رکاوٹ پر مجھے اٹھا کر ایسے پار کرا دیتاہے جیسے کوئی ماں راستے میں پتھر آجانے پر اپنے بچے کو اٹھا کر تھوڑا آگے کھڑا کردیتی ہے جہاں سے ہموار راہ شروع ہوتی ہے
میں اس کی طرف دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں وہ مجھ پر اتنا مہربان کیوں ہے__؟؟ کیوں وہ مجھ پر اتنی محبت نچھاور کرتا ہے___؟؟ کیوں مجھے ہر وقت اپنی رحمت کے حصار میں رکھتا ہے___؟؟ کیوں اس نے مجھے اس دنیا کا بہترین عطا کیا ہے___؟؟ وہ مجھے کبھی رسوا نہیں ہونے دیتا، جب جب شرمندگی سے ڈر کر میں نے دل ہی دل میں اسے پکارا، ایسے کہ کوئی دوسرا میری آواز نہیں سن پاتا. اس نے مجھے عزت عطا کی. وہ ہمیشہ سن لیتا ہے
میری سرگوشیوں کو، میری مدھم سی سسکیوں کو، کسی خاموش کونے میں بیٹھ کر جب میں دنیا کی مکروہ صورت پر آنسو بہاتی ہوں، وہ اس لامحدود کائنات کے بے پناہ شور میں میرے آنسؤوں کے گرنے کی آواز بھی سن لیتا ہے. میں نے ہر اذیت کی حد پر، مایوسی کے کنارے پر اور دکھ کے سمندر میں اس کی تھپکی کو محسوس کیا ہے
وہ تھپکی جو کوئی بہت ہی قریبی دوست دیتا ہے بالکل ویسی ہی!
مجھے لگتا تھا میں ٹوٹ جاؤں گی، پر اس نے کبھی ایسا ہونے ہی نہیں دیا. اس نے مجھے ایسے سمیٹ سمیٹ کررکھا ہے جیسے کوئی اپنی بہت ہی عزیز چیز کو سنبھال کررکھتا ہے. وہ مجھے ہر لمحہ مضبوط کردیتا ہے. ہر بار میں خود کو پہلے سے زیادہ طاقتور اور قابل محسوس کرتی ہوں
میرے اردگرد پھیلی ہوئی لاتعداد برائیوں سے وہ میرا دامن بچالیتا ہے
مجھے گناہوں کی دلدل میں کبھی دھنسنے ہی نہیں دیتا، برے رستے پر چلنے سے پہلے ہی میرے قدموں کا رخ اپنی جانب موڑ لیتا ہے. جب میں اس کے منع کرنے کے باوجود ضد کرکے کوئی غلط کام کروں تو فوراً میرے دل میں احساس شرمندگی پیدا کردیتا ہے. میرے اندر یہ خوف ڈال دیتا ہے کہ "میں تم سے روٹھ گیا ہوں" اور اس خوف کے زیر اثر میں اتنا ڈر جاتی ہوں فوراً اس کے پاس جاتی ہوں اسے پکارتی ہوں. میں اس کی ناراضی کا تصور بھی نہیں سہہ سکتی، یہ بھی تو اسی کی دین ہے
میں تو ناشکری ہوں، نافرمان ہوں، جب وہ مجھے اتنا عطا کرتا ہے میں شکر ہی ادا نہیں کرتی، اس کے نیک بندوں کی طرح اس کی تسبیح ہی بیان نہیں کرتی، اس کی بارگاہ میں ہر وقت سر بسجود ہی نہیں رہتی
وہ پھر بھی مجھ سے ویسے ہی محبت کیے جارہا ہے، عطا کیے جارہا ہے، حفاظت کیے جارہا ہے
اور مزے کی بات یہ ہے وہ میرے شکوے بھی سنتا ہے، میری ایک ایک بات پوری توجہ سے سنتا ہے، مجھے محسوس کرواتا ہے کہ اس کی پوری توجہ میری طرف ہے بس میں بولتی جاؤں. اور میں اس سے باتیں کرتی جاتی ہوں، میں محسوس کرتی ہوں میرے بے تکے شکووں پر وہ مسکرا رہا ہوتا ہے. جب میرے شکوے ختم ہو جائیں تو وہ میرے دل کو سکون سے بھر دیتا ہے. اس نے میرے لیے جو راہ چنی وہ محبت کی راہ ہے!
وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مجھے محبت عطا کرتا جارہا ہے. میرے قلب و وسیع کرتا جارہا ہے، ذہن کے پردے کھولتا جارہا ہے اور میں اس کی تمام نعمتوں کو جھولی میں بھرتی جارہی ہوں، بھرتی جا رہی ہوں

میرے لیے وہ میرا بہترین دوست ہے، میرا رب، میرا محبوب، میرا خالق، میرا مولا 
حق تو یہ بنتا ہے میں اس کے قدموں میں سر ٹیک دوں اور قیامت تک نہ اٹھاؤں، اس سے بھی حق کہاں ادا ہوگا! لیکن اس نے مجھے انسان بنایا ہے، وہ چاہتا ہے میں اس کی بنائی دنیا میں رہوں، انسانوں کے ساتھ زندگی گزاروں اور ایک اچھی انسان بنوں.
یہ بھی میں اسی سے مانگتی ہوں، اس سے کہتی ہوں مجھے بے ضرر، محبت کرنے والا اچھا انسان بنا دے اور وہ میرے شانوں پر تھپکی دے کر مجھے اپنے ساتھ کا یقین دلاتا ہے 

میں جھیل سیف الملوک کے کنارے اکیلی ساری رات بتانا چاہتی ہوں



میں جھیل سیف الملوک کے کنارے اکیلی ساری رات بتانا چاہتی ہوں
مجھے رات کو اکیلے میں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے
مگر میں چاہتی ہوں
بس
ایک رات کے لئے میرا ڈر ختم کر دیا جائے
میں چاند کی روشنی میں جھیل کے چمکتے پرسکون پانی سے تمہاری باتیں کرنا چاہتی ہوں
میں جھیل سیف الملوک کو بتانا چاہتی ہوں
کہ مجھے تمہاری آنکھیں جھیل سیف الملوک سے بھی زیادہ پیاری لگتی ہیں
مجھے تمہاری آنکھوں کی معصومیت و سادگی کس قدر بھاتی ہے
مجھے تمہاری مسکراہٹ کتنی جاں بخش لگتی ہے
اور مجھے تمہارا بات کرنا کتنا مسحور کرتا ہے
اور تمہاری آواز کیسے مجھے ٹرانس میں لے جاتی ہے
میں جھیل سیف الملوک کو بتانا چاہتی ہوں
کہ مجھے تم سے کتنی محبت ہے
مجھے کتنا ڈر لگتا ہے تمہیں کھونے سے
مجھے کتنے گلے شکوے ہیں تم سے
میں کتنا ناراض ہوں تم سے
میں جھیل سیف الملوک کو بتانا چاہتی ہوں
کہ ہماری پہلی بار کیسے بات ہوئی
اور اسکے بعد سے لے کر آج تک کیا کیا ہو
تمہاری اور اپنی ساری پرانی باتیں یاد کرنا چاہتی ہوں
میں جھیل سیف الملوک کے کنارے بیٹھ کر خاموشی سے چپ چاپ آنسو بہانا چاہتی ہوں
وہاں بیٹھ کر تمہیں یاد کرکے مسکرانا چاہتی ہوں
میں چاہتی ہوں
میں جھیل سیف الملوک کو بتاوں
کہ تم مجھے کتنے پیارے لگتے ہو
وہاں کے خاموش پانی سے تمہاری باتیں شئیر کرکے ہنسنا چاہتی ہوں
رونا چاہتی ہوں
وہاں میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی
بس
تمہاری تصویر تمہارا تصور میرے ساتھ ہو وہاں
تم پاس ہو تو میری تنہائی مکمل ہو جاتی ہے
وہاں میں مکمل تنہائی میں تمہارے تصور سے ڈھیرں باتیں کرنا چاہتی ہوں
بس
ایک پوری پوری رات
مسلسل تمہیں یاد کرتے ہوئے بتانا چاہتی ہوں
اور پھر تمہیں یاد کرتے کرتے تمہارے تصور سے باتیں کرتے کرتے بھیگی پلکوں اور دھیمی مسکان ساتھ گہری اور پرسکون نیند سونا چاہتی ہوں
اور میں یہ بھی جانتی ہوں
بہت سی خواہشیں جو کبھی پوری نہیں ہو سکتیں
میری یہ خواہش بھی ان میں سے ہی ایک ہے



اگر جو تم پُکارو تو


!سنُو جاناں
اگر جو تم پُکارو تو
،اَنا مسترد
،راہ ہموار
،غرور مَسمار
،دل دَرخشاں
،جان حاضر
،سماعت واجب
،قدم یکساں
!! ...تیری جانب


اس دل میں کس کس کو جگہ دیں


اس دل میں کس کس کو جگہ دیں 
غم رکھیں، ڈیم رکھیں 
فریاد رکھیں یا تیری یاد 



ﺟﺐ ﻟﻮﮒ۔۔۔ " ﻃﮯ " ۔۔۔ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ


ﺟﺐ ﻟﻮﮒ۔۔۔ " ﻃﮯ " ۔۔۔ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ۔۔۔ " ﺍﺏ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ " ﺗﻮ۔۔۔ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﺍﻥ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ۔۔۔ﺁﭖ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﺭﻭ ﻟﯿﮟ۔۔۔ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔۔۔ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ



آپ کو کیا لگتا ہے


آپ کو کیا لگتا ہے.....؟
کہ ہر آہ خالی جائے گی
نہ جناب
ان میں سے کوئی تو آپ کی دنیا ہلائے گا 
....!!



بلاوجہ کچھ چیزوں کا تجسس وبال جاں بن جاتا ہے


بلاوجہ کچھ چیزوں کا تجسس وبال جاں بن جاتا ہے کچھ چیزوں سے لا علم رہنے میں ہی عافیت ہے اسی لئے آگہی کو عذاب 
تصور کرتا ہوں
!!!



میرے غصے کا اثر کیا ہوگا


میرے غصے کا اثر کیا ہوگا
مجھ کو غصے میں ہنسی آتی ہے



ہائے وہ شخص کہ جو نیند کی وادی میں کہیں



ہائے وہ شخص کہ جو نیند کی وادی میں کہیں
💕تیری آواز سے بیدار ہو اور تو نہ ملے



ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﻧﻈﺮ


ﺍُﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﻧﻈﺮ
💯❣️..ﻣﺤﺾ ﺍِﮎ ﻧﻈﺮ ‘ ﻓﻘﻂ ﺍِﮎ ﻧﻈﺮ