میں بہت بے تکی سی لڑکی ہوں
میں بہت بے تکی سی لڑکی ہوں
اکثر ہی انکھ میں کاجل پھیلا کر رکھتی ہوں
مجھ میں ایسا کوئی سلیقہ نہیں
جس کی مثال دی جا سکے
میرا بستر بہت بے ترتیب رہتا ہے
چادر پر پڑی سلوٹیں
ماتھے کی سلوٹوں سے کہیں زیادہ گہری ہیں
میں اکثر لکھنے کو ڈائری اور پین خریدتی ہوں
اور اسکے بعد فقط دو چار صفحہ لکھ کر
ایک نئی ڈائری لے لیتی ہوں
کئی دن گزرنے پر مجھے یکدم یاد آتا ہے
کتنے دن سے میرے بال الجھے ہیں
ناخن بھی تراشنے والے ہیں
یکدم کسی دن میں سنورتی ہوں سجتی ہوں
پھر بجھ سی جاتی ہوں
میں بہت بے ترتیب لڑکی ہوں
میرے سرہانے کتابیں رسالے ڈائریاں
ایسے بکھری رہتی ہیں گویا
میری ساتھی یہی ہیں
اب تو وقت کے ساتھ دوا کی شیشی بھی ساتھ ہوتی ہے
مجھ میں کوئی سلیقہ کوئی ترتیب نہیں ہمدم
مگر
محبت جب بھی کرتی ہوں
بہت سلجھا کر رکھتی ہوں
بہت ہی پاس رکھتی ہوں
مگر جب الجھ جاوں ۔۔۔۔سمجھ لینا
محبت چھوڑ بیٹھی ہوں
عجب بے تکی سی لڑکی ہوں
You might think that you don’t matter in this world
You might think that you don’t matter in this world, but because of you someone has a favourite mug to drink their tea out of each morning that you bought them. Someone hears a song on the radio and it reminds them of you.Someone has lengthen their way to home just to walk on your street. Someone has read a book you recommended to them and gotten lost in it’s pages searching for a message, thinking you left it with that book. Someone’s remembered a joke you told them and smiled to themselves on the bus. Never think you don’t have an impact.Your fingerprints can’t be wiped away from the little marks of kindness that you’ve left behind.
زندگی میں___ایک بار___ یا کئی بار
!!___زندگی میں___ایک بار___ یا کئی بار
..ہم اپنے آنسو ۔ واش روم کے شاور کے گرتے پانی کے شور میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
..تب یہ شور ہماری سسکیوں اور ہچکیوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے
یہ آنسو عموماً وہ ہوتے ہیں۔ جن کے دوسروں کے سامنے بہہ جانے میں ہمیں اپنی حیثیت کے مزید کمزور ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے
..یا پھر یہ آنسو ہمارے نہیں ہوتے۔ یہ کسی اپنے کے ناروا رویئے کے ہوتے ہیں
..کسی نوخیز محبت کی مسلے جانے کے ہوتے ہیں
..خود ساختہ طور پہ قائم کی گئی کسی امید کے ٹوٹے جانے کے ہوتے ہیں
..پندار کو ٹھیس لگنے کے ہوتے ہیں
..کسی زخمی انا کے ہوتے ہیں
..یا کسی ایسی کامیابی کے ناکامی میں بدل جانے کے ہوتے ہیں جس کے ملنے کا بہت یقین ہو
..کسی کے استہزاء یا تمسخر اڑائے جانے کے ہوتے ہیں
کسی بد صورتی یا قدرتی خامی کے کمپلیکس کے ہوتے ہیں.. تب ہمیں اُڑتے پانی کے چھینٹوں میں چارلی چپلن کی کہی وہ بہت بات یاد آتی ہے...___ !!کہ
بارش اچھی ہوتی ہے.. یہ میرے آنسوؤں کو چھپا لیتی ہے.. تب واش بیسن پر ہتھیلیاں جمائے ہم شیشے کے عکس میں نظر آنے والے شخص سے کہتے ہیں.. ہم میں سے ہر ایک دنیا کے سامنے چارلی چپلن جیسا کردار نبھا رہا ہے.. اور یہ کردار !!تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ ہم کسی کو نہیں دکھاتے... اور نہ ہی ہم دیکھنا چاہتے ہیں...۔
Subscribe to:
Posts (Atom)









