Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

Do you feel your heart is heavy with sorrows?


Do you feel your heart is heavy with sorrows? Is it like the coat of a painter which is full of colorful wounds! In this tough life,wishes bleed...Dreams burn into coals !But yet,there is always a breeze!
A breeze that I call it HOPE.This hope always wafts in the lanes of your life and falls down
all your griefs .This breeze recalls us that tears, hardships and heartaches are as temporal as these bubbles which will be disappeared in your sight after a single touching.



ہاں میں چاہتی ہوں تُو روئے


ہاں میں چاہتی ہوں تُو روئے ، تیری
سسکیاں تیرا گلا پھاڑ کے تیرے حلق سے باہر کو نکلے اور تو اپنی اُنگلیوں کی پوروں سے اُنہیں اپنے سینے میں دھکیلے ۔۔۔۔۔۔
ہاں میں چاہتی ہوں تو بھی وہی اَذیتیں جھیلے جن کو جھیلتے جھیلتے میری جوانی بُڑھاپے کو جا پہنچی اور میرا جسم میری روح کو ملامت کرنے لگا،، نکل جا۔۔۔
ہاں میں چاہتی ہوں وقت دوہرایا جائے تُجھے بھی سہارے کیلیئے فقط دیواریں مِلیں ، جس سے لِپٹ کر روتے روتے تیری ذات کو دیمک کھا جائے ۔۔۔۔۔



Dil Mom Ka Diya



Jaise asman he zameen say juda
Jaise aag hai pani se khafa
Wesy hum wesy tum hain

Jesay ankho say ansoo hai juda
Sehraon say barish hay khafa
Waise tum waise hum alag hain

Do kinaray main aur tu
Kaise milain kaise jurain
Hum dono kay alag rastay
Kaise milain kaise murain


جیسے آسمان ہے زمین سے جدا 
جیسے آگ ہے پانی سے خفا 
ویسے ہم ، ویسے تم ہیں 

جیسے آنکھوں سے آنسو ہے جدا 
شہروں سے بارش ہے خفا 
ویسے تم، ویسے ہم الگ ہیں 

دو کنارے میں اور تو 
کیسے ملیں کیسے جڑیں 
ہم دونوں  کے الگ راستے 
کیسے ملیں کیسے مریں 




جب کوئی آپکی مسلسل دستک کو نظر انداز کر دے


جب کوئی آپکی مسلسل دستک کو نظر انداز کر دے آپکی پکار کو سن کر بھی ان سنی کردے 
آپکی موجودگی کو جانتے ہوئے بھی انجان بننے کی کوشش کرے
تو چپ چاپ خاموشی سے وہاں سے ہٹ جانا 
مسلسل دستکیں اپنے ہی ہاتھ زخمی کیا کرتی ہیں
کسی کو مسلسل پکارتے رہنے سے اپنا ہی گلا بیٹھتا ہے ۔
نظر انداز ہونے کی تکلیف خود ہی سہنی پڑتی ہے۔
کوئی ہاتھ چھڑانا چاہے اور آپ نا چھوڑیں تو اس کے جھٹکنے پر آپ ہی زمین پرگِرتے ہیں۔
اگلے کی مدد سمجھ کر ہی سہی ایک طرف ہٹ جانے میں ہی بہتری ہے۔

وہ کیا ہے نا کہ

تھوڑی سی خوددادری بھی تو لازم تھی 
جس نے ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔ ہم نے چھوڑ دیا

لیکن اپنے دل کان اور دروازے کو صدا دینے والوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھیں تاکہ یہ تکلیف آپکی ذات سے کسی اور کو نہ پہنچے



Everything that is made beautiful



Everything that is made beautiful and fair and lovely is made for the eye of one who sees.



میرا ساتھ دیتی ہے میرے ساتھ رہتی ہے


عشق میں نے لکھ ڈالا قومیت کے خانے میں 

اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے میں 

مجھ کو تجربوں نے ہی باپ بن کے پالا ہے 

سوچتا ہوں کیا لکھوں ولدیت کے خانے میں 

میرا ساتھ دیتی ہے میرے ساتھ رہتی ہے 

میں نے لکھا تنہائی زوجیت کے خانے میں 

دوستوں سے جا کر جب مشورہ کیا تو پھر 

میں نے کچھ نہیں لکھا حیثیت کے خانے میں 

امتحاں محبت کا پاس کر لیا میں نے 

اب یہی میں لکھوں گا اہلیت کے خانے میں 

جب سے آپ میرے ہیں فخر سے میں لکھتا ہوں 

نام آپ کا اپنی ملکیت کے خانے میں 



کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے۔


خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے۔
ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا رکھنا کمال یہ ہے۔

ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا کمال یہ ہے۔

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے۔
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا کمال یہ ہے۔

خیال اپنا ، مزاج اپنا، پسند اپنی، کمال کیا ہے؟۔
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا کمال یہ ہے

کسی کی رہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر ۔
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا کمال یہ ہے۔

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے ، شکست کھائے۔
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا کمال یہ ہے۔

ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا کمال یہ ہے




سڑک کنارے بیٹھا تھا


سڑک کنارے بیٹھا تھا
کوئی جوگی تھا یا روگی تھا
کیا جوگ سجائے بیٹھا تھا؟
کیا روگ لگائے بیٹھا تھا؟
تھی چہرے پر زردی چھائی
اور نیناں اشک بہاتے تھے
تھے گیسو بکھرے بکھرے سے
جو دوشِ ھوا لہراتے تھے
تھا اپنے آپ سے کچھ کہتا
اور خود سن کے ھنس دیتا تھا
کوئی غم کا مارا لگتا تھا
کوئی- دکھیارا لگتا تھا
اس جوگی کو جب دیکھتے تھے
ھر بار یہی ھم سوچتے تھے
کیا روگ لگا ھے روگی کو؟
کس شے کا سوگ ھے جوگی کو؟
اک دن اس نے کوچ کیا
اور سارے دھندے چھوڑ گیا
وہ جوگی، روگی، سیلانی
سارے ھی پھندے توڑ گیا۔
پھر اپنا قصہ شروع ھوا
اک مورت دل میں آ بیٹھی
نین نشیلے، ھونٹ رسیلے
چال عجب متوالی سی
روپ سنہرا، چاند سا چہرا
زلفیں کالی کالی سی
ھنسے تو پائل بجتی تھی
روئے تو تھل، جل ھو جائے
بینا کی لے تھی لہجے میں
کہ سننے والا سو جائے
وہ چلے تو دینا ساتھ چلے
جو رکے تو عالم تھم جائے
ھو ساتھ تو دھڑکن تیز چلے
دوری سے سانس یہ جم جائے
کچھ قسمیں،وعدے، قول ھوئے
انمول تھے وہ، بِن مول ھوئے
کچھ قیمت تھی تو اپنی جاں
تھا ھوش کسے؟ دھیان کہاں؟
تھے سونے جیسے دن سارے
راتیں سب چاندی کی تھیں
امبر کا رنگ سنہرا تھا
جہاں قوس و قزاح کا پہرا تھا
اک دن یونہی بیٹھے بیٹھے
کچھ بحث ھوئی، تکرار ھوئی
وہ چلدی روٹھ کے بس یونہی
میں سوچ میں تھا بیکار ھوئی
کچھ دن گذرے پھر ہفتہ بھی
نا دیکھا، نا ملاقات ھی کی
ناراض تھی وہ، ناراض رھی
نا فون پہ اس نے بات ھی کی
جب ملی تو صاف ھی کہہ ڈالا
"وہ بچپن تھا نادانی تھی"
کیا دل سے لگائے بیٹھے ھو؟
"وہ سب کچھ ایک کہانی تھی"
تھی دل پہ بیتی کیا اس پل؟
تم لوگ سمجھ نہ پاو گے
جب تم پر یہ سب بیتے گا
یہ روگ سمجھ ھی جاو گے
سب یاد دلائے عہدِ وفا
وہ قسمیں، قول، قرار سبھی
سکھ، دکھ میں ساتھ نبھانے کے
وہ وعدے اور اقرار سبھی
وہ ھنس کے بولی، پاگل ھو؟
کبھی وعدے پورے ھوتے ھیں؟
کیا اتنا بھی معلوم نھیں؟
یہ عہد ادھورے ھوتے ھیں۔
تمھیں علم نہیں؟ نادان ھو تم؟
کبھی قسم نباہی جاتی ھے؟
کس دیس کے رھنے والے ھو؟
یہ قسم تو کھائی جاتی ھے۔
وہ ھنس کے چلدی راہ اپنی
اور صبر کا دامن چھوٹ گیا
آنکھوں سے جھیلیں بہہ نکلیں
اور ضبط بھی ھم سے روٹھ گیا
میں آج وہاں پر بیٹھا ھوں
جس جگہ پہ کل وہ "جوگی" تھا
یہ آج سمجھ میں آیا ھے

کس چیز کا آخر روگی تھا



تمہیں سب یاد کرتے ہیں



دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی شامیں
کہر میں لپٹی دھندلی سی صبحیں
درختوں سے گرتے ہوئے
خشک زرد پتّے
وہ گاؤں کے تمام رستے
محبتّوں کے تمام رشتے
خیال آباد کرتے ہیں
تمہیں سب یاد کرتے ہیں

آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے


آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے 
زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے