― Charles Bukowski, Factotum
Even start.
― Charles Bukowski, Factotum
ایک وحشت سی ہم پہ طاری تھی
ایک وحشت سی ہم پہ طاری تھی
دوست داری جو خو ہماری تھی
کیا وہی دل ہے آج بھی جس میں
بے قراری ہی بے قراری تھی
اک طرف دل تھا زخم آلودہ
اک طرف عقل کی سواری تھی
کتنا ظالم تھا التفات اس کا
کتنی دلکش ستم شعاری تھی
اُن کے آنسو بھی آپشنل نکلے
اور محبت بھی اختیاری تھی
جب ثمر بار تھیں مری شاخیں
مستقل مجھ پہ سنگ باری تھی
میں نے مانا کہ میری بھول تھی وہ
ہاں مگر بھول کتنی پیاری تھی
کون تھے وجہِ افتخار نہ پوچھ
کِن سے منسوب میری خواری تھی
مجھ کو راغب ملے تھے ایسے دوست
دشمنوں سے بھی جن کی یاری تھی
کون دے گا؟
کرب میں گُزرے لمحات کا حساب کون دے گا؟
میرے بے رونق چہرے کو تاب کون دے گا؟
یوں جو میری ناؤ ڈبو کے چلے ہو تم
بتلاؤ جینے کو سانسیں زیر ِآب کون دے گا؟
کر تو چلے ہو ہجر کی کوٹھڑی میں بند مجھ کو
باہر جو نکلنا چاہوں تو باب کون دے گا؟
اب تک جو ظلم ڈھائے ہیں تو نے مجھ پر
ذرا سوچو! روزِ محشر ان کا جاب کون دے گا؟
کنارہ جو کبھی کر گئیں تم اے دُرِّ ناسُفتہ
مجھے دریں صورت اپنی تشاب کون دے گا؟
ہوں تِشنہِ محبت، کرتا ہوں تشدد خود پر
لوگو! مجنوں کا پارسؔ کو خطاب کون دے گا؟
While everyone in this world strives
While everyone in this world strives to get somewhere and become someone, only to leave it all behind after death, you aim for the supreme stage of nothingness. Live this life as light and empty as the number zero. We are no different from a pot. It is not the decorations outside but the emptiness inside that holds us straight. Just like that, it is not what we aspire to achieve but the consciousness of nothingness that keeps us going.
Shams Tabrizi
Subscribe to:
Comments (Atom)









