سانپ كى ايک خصلت
سانپ كى ايک خصلت يہ بھى ھے كہ وه پُھنكارتا پھرتا ھے
جو اس بات كا اعلان ھوتا ھے كہ ھٹو....بچو، مُجھ ميں زھر ھے، ميں ڈَس لُوں گا
ليكن انسان اپنى طرز كى بس ايک ھى مخلوق ھے
اس كے ھاں پُھنكار كر يہ اعلان كرنے كا كوئى اُصول رائج نہيں كہ ھٹو......بچو
يہاں تو ميٹھى بولياں بولنے والوں كے تالُو پر بھى زھر بھرا چھالا ھو سكتا ھے
لازم ھے كہ ھمارى نظر اپنے تالُو پر رھے
ایسا ھے کہ سب خواب مکمل نہیں ہوتے
ایسا ھے کہ سب خواب مکمل نہیں ہوتے
!جو آج تو ہوتے ہیں مگر،کل نہیں ہوتے
اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
!مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے
!کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
!!کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے
شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
!!نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے
کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
!کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے
عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
!پاگل تو نظر آتے ہیں، پاگل نہیں ہوتے
سب خواہشیں پوری ہوں ایسا نہیں ہے
!!جیسے کئی اشعار _______مکمل نہیں ہوتے
#مرد
میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ہے اور ان کے بعد ہمارا کیا ہوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رہی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ہوگئی آپ نے کرتا خرید لیا اپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ہے جو خراب ہوگئی ہوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ہے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاو گی۔ ابھی میں ساتھ ہوں جو خریدنا ہے آج ہی خرید لو۔
میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ہوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ہوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں بتارہی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ہوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ہے اسے رونے نہیں دیگا۔
Subscribe to:
Comments (Atom)








