Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

وہ لحاظ تھا یا حصار تھا ، کہ ہمیشہ جس میں بندھی رہی


ترے ہجر میں ، تری آس میں ، مُجھے کیا ملا تری پیاس میں
یہ حیات ساری گُذر گئی ، تُجھے دیکھنے کو ترس گئی
۔
مری سوچ پر ، مری فکر پر ، رہا سایہ تیرے خیال کا
یہ ُجنون اتنا بڑھا کہ میں ، تُجھے ملنے مثل ِ مَگس گئی

وہ لحاظ تھا یا حصار تھا ، کہ ہمیشہ جس میں بندھی رہی
نہ نکل سکی،نہ میں کُھل سکی،مری ڈور ایسی تھی کَس گئی
۔
میں سؔبیلہ ایسی ہوں فاختہ ،جو بہت دنوں سے تھی قید میں
جو رِہا ہُوئی تو نہ اُڑ سکی ، سو دوبارہ سُوۓ قَفس گئی

سؔبیلہ انعام صدیقی



چراغ و باغ میری بات ہی نہیں سنتے



چراغ و باغ میری بات ہی نہیں سنتے
‏تیرے بغیر بڑا مسئلہ بنا ہُوا ہے





اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی



اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی
‏روشنی بانٹ گیا دیپ پہ وارا ہوا شخص




ملتا نہیں کہیں بھی کوئی ہمنوا مجھے



ملتا نہیں کہیں بھی کوئی ہمنوا مجھے
دل میں چھپائے پھرتا ہو ں طوفان اِدھر اُدھر

سجدہ گزارہوں مگر اس دل کا کیا کروں
بھٹکائے جا رہا ہے مرا دھیان اِدھر اُدھر

راجیش ریڈی



تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر


تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر 
تڑپ اٹھا مرا منصف بھی فیصلہ دے کر

ستون ریگ نہ ٹھہرا عدیمؔ چھت کے تلے 
میں ڈھ گیا ہوں خود اپنے کو آسرا دے کر

*عدیم ہاشمی*




‏کون دے گا سکون آنکھوں کو‏



‏کون دے گا سکون آنکھوں کو‏ 
‏کس کو دیکھوں کہ نیند آجائے



صدقے کی طرح سر سے اتارا ہُوا دن ہے



صدقے کی طرح سر سے اتارا ہُوا دن ہے
ہر دن یہی لگتا ہے کہ گزارا ہُوا دن ہے



ترے ہجر میں ، تری آس میں ، مُجھے کیا ملا تری پیاس میں



ترے ہجر میں ، تری آس میں ، مُجھے کیا ملا تری پیاس میں
یہ حیات ساری گُذر گئی ، تُجھے دیکھنے کو ترس گئی
۔
مری سوچ پر ، مری فکر پر ، رہا سایہ تیرے خیال کا
یہ ُجنون اتنا بڑھا کہ میں ، تُجھے ملنے مثل ِ مَگس گئی

سبیلہ انعام صدیقی




سانپ كى ايک خصلت



سانپ كى ايک خصلت يہ بھى ھے كہ وه پُھنكارتا پھرتا ھے
جو اس بات كا اعلان ھوتا ھے كہ ھٹو....بچو، مُجھ ميں زھر ھے، ميں ڈَس لُوں گا
ليكن انسان اپنى طرز كى بس ايک ھى مخلوق ھے
اس كے ھاں پُھنكار كر يہ اعلان كرنے كا كوئى اُصول رائج نہيں كہ ھٹو......بچو
يہاں تو ميٹھى بولياں بولنے والوں كے تالُو پر بھى زھر بھرا چھالا ھو سكتا ھے
لازم ھے كہ ھمارى نظر اپنے تالُو پر رھے


ایسا ھے کہ سب خواب مکمل نہیں ہوتے


ایسا ھے کہ سب خواب مکمل نہیں ہوتے
 !جو آج تو ہوتے ہیں مگر،کل نہیں ہوتے

اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
 !مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے 

 !کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں 
!!کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے 

شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
!!نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے

کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
!کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے 

عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
!پاگل تو نظر آتے ہیں، پاگل نہیں ہوتے 

سب خواہشیں پوری ہوں ایسا نہیں ہے
!!جیسے کئی اشعار _______مکمل نہیں ہوتے