روز کے چھوٹے چھوٹے جھوٹ اور چھوٹی چھوٹی خیانتیں جمع ہو کے بہت بڑا ڈھیر لگا دیتی ہیں اور ان سے جان چھڑانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جیسے بڑھا ہوا وزن کم کرنا، ان دونوں کاموں کے لئے بہت سا صبر اور پرہیز کرنا ہوتا ہے، پلیٹ میں پیش کی گئی رغبتوں کو دیکھ کے بھی انکار میں سر ہلانا پڑتا ہے
قدرت ہمیشہ انسان پر اتنی مہربان ضرور ہوتی ہے، کہ اگر ساری دنیا اس انسان سے نفرت کرنے لگتی ہے تو کوئی ایک ضرور اس پر جان چھڑکتا ہے وہ انسان کوئی بھی ہو سکتا ہے اور کوئی چرند پرند یا دوسری مخلوق** **بھی...بلاوجہ کی نفرت ضرور ایک ِبلاوجہ کی محبت کو ساتھ باندھ لاتی ہے
وہ معتبر تھا ہزار محفلوں میں مگر میرے لیے ایک عام سا شخص تھا ۔۔
کہتا میں بار بار آپکے دروازے پر دستک دے کر یا منتیں کر کے آپکو منا تو سکتا ہوں مگر میں آپکو اپنے سامنے کمزور پڑتا ہوا نہی دیکھ سکتا مجھے آپکے مغرور ہونے پر ناز ہے کیونکہ محبت کسی سوالی کا کاسہ نہی جسکو بھیک سے بھر دیا جاے ۔۔