Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

جن لوگوں کے پاس آپ کو دینے کے لیے وقت ہی نہ ہو


جن لوگوں کے پاس آپ کو دینے کے لیے وقت ہی نہ ہو
ان کے پیچھے پیچھے اپنی محبت کا رونا روتے پھرنا بے معنی ہوتا ہے
کیونکہ بھیک میں ملے دو لمحوں کی توجہ کا اگر دل ایک بار عادی ہو جائے، تو پھر ساری زندگی یہی بھیک ملتی ہے
...!!💔


مقصد حیات کیا ہے ؟



سیدھے رہ کر ٹھک جانا یا ٹیڑھے ہو کر بےکار ہو جانا اور ذلت اٹھانا۔ ۔ ۔ ۔ ؟
شوشل میڈیا پر ایک تصویری پوسٹ گردش کر رہی ہے،جس میں دکھایا گیا ہے کہ لکڑی کے تختے کو کوئی شکل دینے کے لیے ہتھوڑا بردار ٹیڑھے کیلوں کو چھوڑ رہا ہے اور سیدھے کو ٹھوک رہا ہے ۔ ساتھ مندرجہ ذیل عبارت بھی درج ہے۔
،،زندگی بھی کتنی عجیب ہے
جو ٹیڑھا ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے
اور جو سیدھا ہے اسے ٹھوک دیا جاتا ہے،،۔۔۔۔

کیا  کیل کا کام لکڑی یا کسی بھی چیز کے دو حصوں کو جوڑنے کے کام آنا نہیں ہے۔
اگر کیل کو بنانے کا مقصد کسی چیز کے دو حصوں میں ٹھک کر انہیں جوڑنا ہی ہے تو،اپنی اور دوسروں کی کامیابی سیدھے رہ کر ٹھک جانے میں ہے یا ٹیڑھے ہو کر بےکار ہو جانے میں؟
اور اگر کوئی ہتھوڑا بردار اپنے کام کے دھنی اور ضدی سے واسطہ پڑ جائے تو وہ ٹیڑھے کو واپس نکال  کر مرمت(سیدھا) بھی کرتا ہے اور دوبارہ ٹھونکنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
یا پھر کبھاڑ میں زنگ کا رزق بننا،یا دوبارہ بھٹی میں پانی ہو کر  کسی اور شکل میں ٹھکنے کے لیے تیار ہونا۔
کیا ہی اچھا ہے کہ پہلی بار ہی اپنے ذمہ کا کام کر لیا جائے۔
اسی تناظر میں معاشرے میں مختلف افراد کے فرائض اور ذمہ داریوں پر نظر ڈالیں، تو وہی افراد معاشرے اور اپنے ذاتی امن و سکون اور فلاح و ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔جو اپنے فرائض کی ادائیگی میں”ٹھک”جاتے ہیں۔
اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے روگردانی(ٹیڑھے ہو کر بچ جانے والے) کرنے والے اپنے اور معاشرے کا امن و سکون اور فلاح و ترقی کی بربادی کے ساتھ ساتھ اپنے سے بالا کی چاپلوسی،ذاتی خدمت اور رشوت جیسی ذلت اٹھانے کے بعد ہی بچ پاتے ہیں،اور بچنا بھی اصل میں ٹھک جانا ہی ہے مگر ساتھ ذلت الگ اٹھانا پڑتی ہے۔
انسان ہو یا مادی اشیاء اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ٹھکنا تو پڑے گا ہی۔
کیا  ہی خوب ہے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عزت و وقار سے ٹھکنا بہتر ہے یا چاپلوسی،ذاتی خدمت اور رشوت جیسی ذلتیں اٹھانے کے بعد ٹھکنا بہتر ہے۔
آخر ٹھکنا تو پڑے گا ہی۔۔۔۔!
فیصلہ ! آپ کے ہاتھ میں ہے۔

موجودہ سیاسی حالات اور مسلم ممالک کا مخمصہ



کہتے ہیں محبت سے محروم لوگ



کہتے ہیں محبت سے محروم لوگ ہی 
زیادہ محبت کو سمجھتے ہیں جس 
کو محبت مل جائے پھر وہ محبت 
کو طلب کی نظر سے کیسے دیکھ سکتا ہے 



تکلف برطرف



تکلف برطرف 
تم کیسے معبود ہو ؟
کہ اک دیوانی تم سے ہوش میں لائی نہیں جاتی




کس کو خبر


کس کو خبر 
!میں کس کی محبت میں قید ہوں 



یہ تیرے عشق کی توہین ہے پیارے



یہ تیرے عشق کی
 توہین ہے پیارے
میں تیرے عشق میں پاگل نہیں ہوئی اب تک 





چھوڑو ، جاؤ



چھوڑو ، جاؤ 
!کون کہاں کی شہزادی 
شہزادی کے ہاتھ میں چھالے ہوتے ہیں ؟





پرخار ہے تکلم کچھ



پرخار ہے تکلم کچھ 
عادتیں بری ہیں 
میں کھل کر کہ رہا ہوں 
میں پارسا نہیں ہوں 



عجیب ہے زندگی بھی



عجیب ہے زندگی بھی 
پل میں نیل پار کروا کر امید دیتی ہے 
اور پل میں ہی نمرود کی آگ کا ایندھن بناتی ہے 
پل میں ہزاروں سپنے سجاۓ یہ آنکھیں کھولتی ہے
اور پل میں منوں مٹی تلے دفنا دی جاتی ہے 
پل میں اشکوں کے دریا بہا کر 
وہ لڑکی خوش ہوتی ہے 
اور پل میں ہی اداسیوں کے بھنور 
میں ڈوب کر وہ خاموش ہوجاتی ہے 
کیوں کہ  زندگی عجیب ہے بہت 




جب سے تنہا سفر شروع کیا ہے



جب سے تنہا سفر شروع کیا ہے تو شدت سے احساس ہونے لگا ہے کہ لوگوں کا ہجوم کبھی بھی روح کا ساتھی نہیں ہوتا... ہر شخص اپنی اپنی منزل کی طرف رواں ہے کوئی بھی ہماری خاطر اپنے راستے نہیں بدلتا.... بس ہم اپنے راستے چھوڑ کر ان کے راستوں پہ چل پڑتے ہیں اور انجانے راستوں پہ منزلیں کہاں ملتی ہیں؟؟؟ بس گر د راہ ہونا ہی نصیب میں آتا ہے...
راستے اپنے ہی اچھے..... نہ کوئی قافلہ نہ کسی راہزن کا ڈر.... نہ کسی کے ہاتھ چھوڑ جانے کا خوف ہے... نہ کسی کی راہ بدل جانے کا اندیشہ
....🔥