کسی خوش نگاہ سی آ نکھ نے یہ کمال مجھ پہ کر م کیا
کسی خوش نگاہ سی آ نکھ نے یہ کمال مجھ پہ کر م کیا
میر ی لوحِ جاں پہ رقم کیا
وہ جو ایک چا ند سا حرف تھا ، وہ جو ایک شا م سا نا م تھا
وہ جو ایک پھو ل سی بات پھر تی تھی در بدر
اُسے گلستاں کا پتہ دیا
میر ا دل کہ شہرِ ملا ل تھا اُس روشنی میں بسا دیا
میری آ نکھ اور میرے خواب کو کسی ایک پل میں بہم کیا
میرے آئینو ں پہ جو گرد تھی ماہ وسال کی وہ
اُتر گئی
وہ جو دھند تھی میرے چار سو وہ بکھر گئی
سبھی روپ عکسِ جمال کے
سبھی خواب شام و صال کے
جو غبا رِ و قت میں سر بسر تھے اٹے ہو ئے
وہ چمک اُ ٹھے
وہ جوپھول راہ کی دھول تھے
وہ مہک اٹھے
لیے سات ر نگ بہار کے
چلا میں جو سنگ بہا رکے
کسی دست شعبدہ ساز نے
میرے نام پر میرے وا سطے
میری بے گھری کو پناہ دی
میری جستجو کو نشاں د یا
جو یقین سے بھی حسین ہے مجھے
ایک ایسا گماں دیا
وہ جو ر یزہ ریزہ وجود تھا
اُسے اک نظر میں بہم کیا
کسی خوش نگہ سی آنکھ نے
یہ کمال مجھ پہ کرم کیا
امجد اسلام امجد
چرچ کی سیڑھیاں، وائلن پر کوئی دُھن بجاتا ہوا
چرچ کی سیڑھیاں، وائلن پر کوئی دُھن بجاتا ہوا
دیکھتا ہے مجھے، اِک ستارہ کہیں ٹمٹماتا ہوا
ڈوب جاتا ہوں، پھِر اُڑنے لگتا ہوں، پِھرڈوب جاتا ہوں میں
اِک پری کو کسی جل پری کی کہانی سناتا ہوا
میں خدا سے تو کہہ سکتا ہوں’’دیکھ،سُن‘‘ پر خلا سے نہیں
اپنے اندر ہی پھر لوٹ جاتا ہوں میں، باہر آتا ہوا
ہے کہاں تک تماشا، کہاں تک خلل، کوئی کیسے کہے
ایک رعشہ زدہ ہاتھ کٹھ پُتلیوں کو نچاتا ہوا
دائرہ اِس مثلث کے باہر بھی ہے اور اندر بھی ہے
ایک نقطہ ہے دِل، لطف ہر مسئلے کا اٹھاتا ہوا
پائوں رکھتا ہوں اِک منجمِد جھیل میں،چاند کے عکس پر
ایک تنہائی سے،ایک گہرائی سے خوف کھاتا ہوا
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے،خواب اپنی طرف
بنچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چُکاتا ہوا
ایک بستی ہے یہ، لوگ بھی ہیں یہاں اور تالاب بھی
ابر جیسے اِسے جانتا ہی نہ ہو، آتا جاتا ہوا
بسترِمرگ پرنبض ہی وقت ہے،نبض ہی یاد ہے
کوئی منظر کہیں سے اُبھرتا ہوا، ڈوب جاتا ہوا
رات پکڑا گیا، اور باندھا گیا، اور مارا گیا
ایک لڑکا سا دل، میرؔ کے باغ سے پھل چُراتا ہوا
The duty of literature is to dig to the bottom
The duty of literature is to dig to the bottom. We are a subject not only unpredictable but unknown even to ourselves. We have an urgent need for representation and for an ethics of our own. We have the right and the duty to explore ourselves thoroughly, to slip away, to cross the borders that make us suffer. I insist on self-surveillance, which means choice, assumption of responsibility, and the necessity of losing restraint in order to know ourselves, not lose ourselves.
- Sheila Heti
Subscribe to:
Comments (Atom)









