Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

In a room there were four candles burning



In a room there were four candles burning. The ambiance was so soft you could hear them talking.

The first one said, “I am PEACE, however nobody can keep me lit. I believe I will go out.”

It’s flame rapidly diminishes and goes out completely.

The second one says, “I am FAITH. Most of all I am no longer indispensable, so it does not make any sense that I stay lit any longer.”

When it finished talking a breeze softly blew on it putting it out.

Sadly, the third candle spoke in its turn. “I am LOVE. I have not gotten the strength to stay lit. People put me aside and don’t understand my importance. They even forget to love those who are nearest to them.” And waiting no longer it goes out.

Suddenly a child entered the room and saw three candles not burning. “Why are you not burning you are supposed to stay lit till the end.”

Saying this the child began to cry. Then the fourth candle said, “Don’t be afraid, while I am still burning we can re-light the other candles, I am HOPE.”

With shining eyes, the child took the candle of Hope and lit the other candles.

The flame of Hope should never go out from our life and that each of us can maintain HOPE, FAITH, PEACE and LOVE....


“نور چشم من”



“نور چشم من”
— Nur-e cheshm-e man
Farsi, literally, “the light of my eyes”. Used to show how one person is the life of someone’s being.




کون کہتا ہے کہ لہجے کی درشتی الفاظ میں نہیں آ سکتی.



کون کہتا ہے کہ لہجے کی درشتی الفاظ میں نہیں آ سکتی.. پڑھا ہوا لفظ اور محسوس کی ہوئی خوشبو بہت دیر تک ساتھ رہتے ہیں
...!!




ساتھ معتبر کرتا ہے


ساتھ معتبر کرتا ہے
انسان کے الفاظ نہیں
جب کوئ ساتھ ہی نہ ہو
تو اس کیلئے جہاں سجا کے کیا رکھنا
...!



ہم نے سارےزمانے کے پھول سوننگھ لئے



 ہم نے سارےزمانے کے پھول سونگھ لئے 
تیری خوشبوکہیں نہیں ملی 



لوگوں کو آئینہ دکھانے سے پہلے



لوگوں کو آئینہ دکھانے سے پہلے
ایک ملاقات خود سے بھی کر لیں

بھولئیے گا نہیں



A mysterious longing had possessed her





I think it's time for the human race to face itself and ask:

Why does one take moral behavior? What's the motive? On what base is it based on? For God's sake? For the love? Um.. in order to shine his image and satisfy his vanity that he is fit!?




میں اپنے بند اور خاموش لبوں سے اپنے ساتھ ہی باتیں کرتا ہوں


با خود حکایت از لبِ خاموش می کنم
خود نغمہ می سرایم و خود گوش می کنم
میرزا محمد مقیم فوجی

میں اپنے بند اور خاموش لبوں سے اپنے ساتھ ہی باتیں کرتا ہوں، یعنی خود ہی نغمہ سرائی کرتا ہوں اور خود ہی سنتا ہوں۔




کسی خوش نگاہ سی آ نکھ نے یہ کمال مجھ پہ کر م کیا


کسی خوش نگاہ سی آ نکھ نے یہ کمال مجھ پہ کر م کیا
میر ی لوحِ جاں پہ رقم کیا 
وہ جو ایک چا ند سا حرف تھا ، وہ جو ایک شا م سا نا م تھا
وہ جو ایک پھو ل سی بات پھر تی تھی در بدر
اُسے گلستاں کا پتہ دیا
میر ا دل کہ شہرِ ملا ل تھا اُس روشنی میں بسا دیا
میری آ نکھ اور میرے خواب کو کسی ایک پل میں بہم کیا
میرے آئینو ں پہ جو گرد تھی ماہ وسال کی وہ
اُتر گئی
وہ جو دھند تھی میرے چار سو وہ بکھر گئی
سبھی روپ عکسِ جمال کے
سبھی خواب شام و صال کے
جو غبا رِ و قت میں سر بسر تھے اٹے ہو ئے
وہ چمک اُ ٹھے
وہ جوپھول راہ کی دھول تھے
وہ مہک اٹھے
لیے سات ر نگ بہار کے
چلا میں جو سنگ بہا رکے
کسی دست شعبدہ ساز نے
میرے نام پر میرے وا سطے
میری بے گھری کو پناہ دی
میری جستجو کو نشاں د یا
جو یقین سے بھی حسین ہے مجھے
ایک ایسا گماں دیا
وہ جو ر یزہ ریزہ وجود تھا
اُسے اک نظر میں بہم کیا
کسی خوش نگہ سی آنکھ نے
یہ کمال مجھ پہ کرم کیا

امجد اسلام امجد



چرچ کی سیڑھیاں، وائلن پر کوئی دُھن بجاتا ہوا


چرچ کی سیڑھیاں، وائلن پر کوئی دُھن بجاتا ہوا
دیکھتا ہے مجھے، اِک ستارہ کہیں ٹمٹماتا ہوا
ڈوب جاتا ہوں، پھِر اُڑنے لگتا ہوں، پِھرڈوب جاتا ہوں میں
اِک پری کو کسی جل پری کی کہانی سناتا ہوا
میں خدا سے تو کہہ سکتا ہوں’’دیکھ،سُن‘‘ پر خلا سے نہیں
اپنے اندر ہی پھر لوٹ جاتا ہوں میں، باہر آتا ہوا
ہے کہاں تک تماشا، کہاں تک خلل، کوئی کیسے کہے
ایک رعشہ زدہ ہاتھ کٹھ پُتلیوں کو نچاتا ہوا
دائرہ اِس مثلث کے باہر بھی ہے اور اندر بھی ہے
ایک نقطہ ہے دِل، لطف ہر مسئلے کا اٹھاتا ہوا
پائوں رکھتا ہوں اِک منجمِد جھیل میں،چاند کے عکس پر
ایک تنہائی سے،ایک گہرائی سے خوف کھاتا ہوا
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے،خواب اپنی طرف
بنچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چُکاتا ہوا
ایک بستی ہے یہ، لوگ بھی ہیں یہاں اور تالاب بھی
ابر جیسے اِسے جانتا ہی نہ ہو، آتا جاتا ہوا
بسترِمرگ پرنبض ہی وقت ہے،نبض ہی یاد ہے
کوئی منظر کہیں سے اُبھرتا ہوا، ڈوب جاتا ہوا
رات پکڑا گیا، اور باندھا گیا، اور مارا گیا
ایک لڑکا سا دل، میرؔ کے باغ سے پھل چُراتا ہوا