محبت
جس سے کبھی محبت کی ہو اُس سے چاہے جتنی بھی نفرت کر لی جاۓ۔۔۔ چاہے جتنا بھی ہم اپنے آپ کو یہ سمجھا لیں کہ ہم اگے نکل اۓ ہیں ۔۔ اُسکی محبت ۔۔۔
اُسکی نفرت
!!___ سب پیچھے چھوڑ آئے ہیں
زندگی میں اب ہم پھر سے اپنا کردار نبھانے اور ذندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کو تیار ہیں
!!__خُدا ہمیں اس سے بہتر دے گا
!!! ___ مگر
جب ہمارے لیے کسی کو چُنا جا رہا ہوتا ہے
لوگ مبارکباد دے رہے ہوتے ہیں
ہمیں ملنے والے " بہتر " پر ہماری قسمت پر ناز کر رہے ہوتے ہیں
جب کبھی اپکی انگوٹھی تو کبھی کپڑوں کا ناپ مانگا جا رہا ہوتا ہے
تو انسان گم صم سا کسی تماشائی کی طرح
اس مداری کو دیکھ رہا ہوتا ہے
اور تب احساس ہوتا ہے
کہ ہم
،اگے نہیں بڑھے
ہم اب بھی وہیں اُسی محبت کے انتظار میں رُکے ہیں
اور چاہ رہے ہیں وہی لوٹ یا پھر ہماری ہی سانسیں روک دی جائیں
...!!
جب آنسو نکلتے ہیں نہ تو ان میں صرف نمک اور پانی نہیں ہوتا۔
جب آنسو نکلتے ہیں نہ تو ان میں صرف نمک اور پانی نہیں ہوتا۔ ان میں ماضی کی تکلیفیں، حال کا دکھ درد، اپنوں کے ستم، چاہنے والوں کی بے اعتباری، کبھی نہ لوٹ کر آنے والوں کا غم، ہجر کی ہتک، وعدوں کی پامالی اور نہ جانے کیا کیا احساسات اور جذبات چھپے ہوتے ہیں۔ اِن آنسووُں کے پیچھے کبھی ایک شخص یا ایک وجہ نہیں ہوتی
...
Subscribe to:
Posts (Atom)









