یادوں کی گُونج دشتِ محبت میں اب بھی ہے
یادوں کی گُونج دشتِ محبت میں اب بھی ہے
یہ دل گئے دنوں کی رفاقت میں اب بھی ہے
۔
اِک یاد ہے جو نقش__________ ہے لوحِ دماغ پر
اِک زخم ہے جو دل کی حِفاظت میں اب بھی ہے
۔
رُکتے نہیں ہیں آنکھ میں آنسُو کِسی طرح
یہ کاروانِ شوق ، مُسافت میں اب بھی ہے
۔
ترکِ تعلقات کو اِک عمر ہو چکی
دل ہے کہ بے قرار محبت میں اب بھی ہے
۔
سب دوست مصلحت کی دُکانوں پہ بِک گئے
دشمن تو پُرخلوص عداوت میں اب بھی ہے
۔
آثارِ حشر سارے نمُودار ہو چکے
کہتے ہیں لوگ دیر قیامت میں اب بھی ہے
۔
مجبُوریوں نے برف بنا دی اَنا، مگر
شعلہ سا ایک اپنی طبیعت میں اب بھی ہے
۔
جس نے کیا تھا جرم وہ کب کا بَری ہوا
جو بےقصُور ہے، وہ عدالت میں اب بھی ہے
۔
برسوں ہوئے جو زخمِ شناسائی سے ملا
وہ درد میری، اُس کی شراکت میں اب بھی ہے
۔
مل جائے وہ کہیں تو اُسے کہنا اے ہوا
باقی ترا غموں کی حراست میں اب بھی ہے
راستوں کی مرضی ہے
راستوں کی مرضی ہے
بے زمین لوگوں کو
بے قرار آنکھوں کو
بد نصیب قدموں کو
جس طرف بھی لے جائیں
راستوں کی مرضی ہے
بے نشاں جزیروں پر
بد گمان شہروں میں
بے زبان مسافر کو
جس طرف بھی بھٹکائیں
راستوں کی مرضی ہے
روک لیں یا بڑھنے دیں
تھام لیں یا گرنے دیں
وصل کی لکیروں کو
توڑ دیں یا ملنے دیں
راستوں کی مرضی ہے
اجنبی کوئی لا کر
ہمسفر بنا ڈالیں
ساتھ چلنے والوں کی
راکھ بھی اُڑا ڈالیں
یا مسافتیں ساری
خاک میں ملا ڈالیں
راستوں کی مرضی ہے
.....!!
The Zionist
The Zionist occupation soldier was pointing his gun at the child Khaled Murad Shtaiwi and immediately this man run and made of his body a shield trying to save the child, even this could made him lose his life, but that didn't stop him from doing it, both of them were shot in their thighs that moment...
This photo was taken in Kufr Qaddom Village in the 4th of March 2016.
#YanDal
Subscribe to:
Comments (Atom)









