Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

آپ نے کس انداز میں خودکشی کر رکھی ہے؟؟

آپ نے کس انداز میں خودکشی کر رکھی ہے؟؟

‏بہت سے  انسانوں نے اپنے انداز سے خود کشی
 کی ہوئی ہے

1 کوئی اچھے کپڑے پہننا چھوڑ چکا ہے
2 کوئی اب آرزوئیں نہیں کرتا
3 کوئی اپنی وضع قطع کی دیکھ بھال نہیں کرتا
4 کوئی غمگین میوزک سنتا رہتا ہے
5 کسی نے اپنے فوٹو بنانے چھوڑ دیے ہیں
6 کسی نے خود کو تنہائی کے سپرد کر رکھا ہے 

 اسی طرح بہت سے لوگ  30 25 سال کی عمر میں مر جاتے ہیں اور 70 60 سال کی عمر میں  دفن ہوتے ہیں


#شبِ_برأت


جاگنے والوں کو چاہیے ـ سونے والوں کے لیے دعا کریں ـ ملنے والوں کو چاہیئے ـ بچھڑنے والوں کے لیے دعا کریں ـ کامیاب ہونے والوں کو چاہیئے ـ ہارنے والوں کے لیئے دعا کریں ـ ہنسنے والوں کو چاہیئے ـ رونے والوں کے لیئے دعا کریں ـ محبت کرنے والوں کو چاہیئے ـ نفرت کرنے والوں کے لیئے دعا کریں ـ آگے بڑھ جانے والوں کو چاہیئے ـ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے دعا کریں ـ نیکوکاروں کو چاہیئے ـ گنہگاروں کے لیئے دعا کریں ـ ہر ایک کو چاہیئے ـ ہر ایک کے لیئے دعا کریں ـ!


خدا ہی انسان کو ایسی جگہ لاتا ہے

خدا ہی انسان کو ایسی جگہ لاتا ہے جہاں آ کر وہ بے بس ہو جاتا ہے جہاں اس کی مدد وہ لوگ بھی نہیں کرتے جو کہنے کو ہمدرد ہوتے ہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں خدا انسان کو اسکی اصل حقیقت سے روشناس کرواتا ہے،
اسکے بعد انسان کا ہاتھ تھام کر اسکو سیدھی راہ پر لاتا ہے، کیونکہ وہ ایسی ذات جو کسی بھی حال میں اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتی۔❤


کفر کو اس کی فکر نہیں کہ آپ مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں ،

کفر کو اس کی فکر نہیں کہ آپ مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں ، نمازیں پڑھیں یا لمبے لمبےاذکار کریں ،ممبروں پر فضائل سنائیں یا دروس قرآن و حدیث میں مشغول ہو جائیں، رنگ رنگ کی پگڑیاں پہنیں، یا ماتموں، میلادوں کے جلوس نکالیں،جمعراتیں ،شبراتیں منائیں یا محافل حمد نعت کریں۔کفر چاہتا ہے آپ یہ سب شوق سےکریں مگر نظام کفر اور الحاد کے ماتحت رہ کرکریں اور اللہ کے نظام کے نفاذ کی بات نہ کریں۔آپ خانقاہیں بنائیں عرس منایں ، تبلیغی اجتماعات کریں مگر اللہ کے نظام کی بالا دستی کی بات نہ کریں ،کفر کو حکومت کا اختیار دیں۔اور اسلام کو محکوم رہنے دیں ۔ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ تو تب آتا ہے جب مسلمان بدر و حنین کی سنت پر عمل کرتا ہے۔ایسا کوئی اسلام رسول اللہ سے نہیں جو وقت کے فرعون اور ابو جہل  سے نہ ٹکرائے -


کتنی ہمت ہوتی ہے سننے والوں میں

"کتنی ہمت ہوتی ہے سننے والوں میں , کتنا اختیار ہوتا ہے بولنے والوں کا , اور کتنی بےبسی ہوتی ہے سہنے والوں کی🍂


ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭًﺍ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔۔
ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻏﻠﻂ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔



وبائیں ہار جاتی ہیں

وبائیں ہار جاتی ہیں
جب رب کائنات نے انسان کو بنانے کا ارادہ فرمایا۔تو اس وقت سے ہی انسان سے حسد کا آغاز ہو گیا۔رب کائنات کی سب سے مقدس مخلوق جو گناہوں اور خطاؤں سے پاک تھی۔اس نے بھی انسانوں کی تخلیق پر کہا کہ یہ انسان تو زمین پر فساد برپا کرے گا۔اس کو تخلیق کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم اپنے مقدس پروردگار کی تمحید و تقدیس کے لیے کافی ہیں۔مگر چونکہ خالق کائنات انسان کی تخلیق کا ارادہ فرما چکے تھے۔تو رب کائنات نے اپنے ارادے کو وجود بخشا۔اور آدم اور بعد ازاں حوا کی تخلیق عمل میں آئی۔خالق کائنات نے ان کو کچھ عرصہ جنت میں ٹھکانہ بخشا۔اور ان کو جنت کی ابدی نعمتیں عطا کیں۔مگر جب رب کائنات کا امر آیا تو ان کو جنت سے دنیا میں اتارا گیا جوکہ ایک طہ شدہ امر تھا۔اور کہا گیا کہ آدم تم اور تمہاری نسل ایک مقرر وقت تک دنیا میں ہماری آزمائشوں کا سامنا کرے گی۔اور جب ان کی آزمائش ختم ہوگی تو میں اس دنیا کو مٹا ڈالوں گا اور تمہیں اور اس آزمائش میں ثابت قدمی دکھانے والے،نیک اعمال سے مجھ کو منانے والے،میرے فرستادہ رسولوں کی اطاعت کرنے والے انسانوں کو دوبارہ اس جنت میں ٹھکانہ بخشوں گا اور ان پر اپنی نعمتیں تمام کروں گا۔
غرض یہ اعلان ہمارے لیے واضح پیغام تھا کہ ہمارے خالق نے ہمیں جنت سے دار امتحان کی جانب روانہ کردیا ہے۔ اب ہر دن ایک آزمائش اور ہر رات ایک اذیت ہے۔اور ہمیں اس میں ثابت قدمی دکھانی ہے۔اب زلزلے ائیں،سیلاب امڈیں،آندھیاں چلیں یا پھر وبائیں اتریں۔ہمیں ہر حال میں ثابت قدمی اور جواں ہمتی دکھانی پڑے گی۔اس کے لیے تیاری شرط ہے اور تربیت زینہ ہے۔یہ کرونا نامی وبا کوئی پہلی مرتبہ نہیں پھوٹی۔یہ وبائیں اس سے قبل بھی آئیں بستیوں کی بستیاں اجڑیں اور پھر انسانوں کے عزم اور حوصلے ان کو بسانے میں کامیاب ہوئے۔مگر ان وباؤں کا مقابلہ صرف اس قوم نے جواں مردی سے کیا جس کی تربیت بہترین اور جذبہ انسانیت کے سنہری اصولوں کے مطابق ہوئی تھی۔ہم نے دیکھا چین کے شہر وہان سے لے کر یورپ اور امریکہ تک یہ وبا پہنچی مگر ان ریاستوں نے کمال حکمت عملی کا مظاہرہ گیا۔وبا قابو میں آئی یا نہیں البتہ ان کی انسانی ہمدردی اور جواں ہمتی نے سب کو حیران کر دیا۔۔خصوصا اٹلی کی غیور عوام نے نہ بھیک مانگی نہ صدائیں لگائیں۔نہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے بلکہ اپنے شب و روز کی محنت کو بڑھا لیا۔جن اشیائے ضرویہ کی کمی تھی ان کو پورا کرنے کے لیے دن رات ایک کیے۔اور اپنے تمام تر وسائل انسانوں کی زندگیاں بچانے پر لگا دیے۔اور ثابت کیا کہ روئے زمین پر انسان کی جان سے مقدس کچھ نہیں۔
مگر ہمارے ہاں صورتحال یکسر مختلف تھی۔ہمارے مسیحا بیماروں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کو بے یارو مددگار چھوڑ گئے۔انسانوں سے ایسے دور بھاگے جیسے کسی نجس اور پلید چیز سے بھاگا جاتا ہے۔انسان تڑپتےے رہے اور کچھ مسیحا ان کے تڑپ کو نظر انداز کر کے اپنی ذات کے تحفظ کو مقدم جانتے رہے۔ہمارے حکومت اس وقت بھی کشکول لیے بھکاری بنی نظر آئی۔غرض وہ سب علامتیں جو سابقہ قوموں کو مٹانے میں کارگر تھیں ان کا عملی نمونہ ہم نے پیش کیا۔۔نہ تربیت نظر آئی نہ ہمت نہ جواں مردی نہ انسان دوستی اور نہ خالق کائنات کی مقدس مخلوق انسان سے محبت کا عملی نمونہ نظر آیا۔جب قوموں کے ارادے مضبوط ہوں تو وبائیں ہار جاتی ہیں مگر جب کسی قوم کے مسیحا عین خدمت کے وقت دھوکہ دے جائیں تو وہ قوم بے یارو مددگار رہ جاتی ہے۔یہ الگ بات ہے چند درد دل رکھنے والے موجود ہوتے ہیں جو خودغرضوں کے برے اعمال کے سامنے اپنے اچھے اعمال کو ڈھال کی صورت پیش کرتے ہیں۔جس پر خالق کو مخلوق پر رحم آتا ہے اور وہ دوبارہ اجڑی بستیاں بسا دیتا ہے



مجھے اپنے ماضی کا دکھ نہیں ہے



مجھے اپنے ماضی کا دکھ نہیں ہے دکھ تو صرف اس بات کا ہے کہ غلط لوگوں میں بہت وقت ضائع کیا _



ابھی میں سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں ہوں

ابھی میں سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں ہوں 
مگر اندر ہی اندر مجھ میں بے نام اذیت سراہیت کرتی جارہی ہے... وہ اذیت جس نے دیمک کے جیسے میری خوشیوں کو نگل لیا ہے... 
موت سے بھی بھیانک دردناک اور روح کو چبھن کے تازیانے مارتی ہوئی قسمت سے بے خوف اذیت... 
جو کہیں اندر کے جیسے میرے باہر کے وجود کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے اس ڈر سے میں نے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ رکھا ہے... 
اس طرح کرنے سے آزادی سے جینے کی خواہش کرتی میری سانسیں تو رک جاتی ہیں مگر میرا درد سینے سے نکل کر میرے چہرے پر اپنے ہونے کا نشان نہیں بنا پاتا 
اور میں سب کے سامنے بآسانی خوشی سے ہنس لیتی ہوں... 
کوشش کرتی ہوں میرا دکھ میرے چہرے پر دکھائی نہ دے... لیکن یہ جو وقت ہے یہ لحاظ نہیں کرتا... 
کبھی بھی کہیں بھی مجھے واپس اس احساس کی حساسیت کا بیمار بنا دیتا ہے جس سے بچنے کے لیے میں سینکڑوں معالج بدل چکی ہوں...


میں جہاں تھا، وہیں رہ گیا، معذرت!

میں جہاں تھا، وہیں رہ گیا، معذرت!
اے زمیں! معذرت! اے خدا! معذرت!

کچھ بتاتے ہوئے، کچھ چھپاتے ہوئے
میں ہنسا۔۔۔ معذرت! رو دیا۔۔۔۔ معذرت!

میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا
ایک دن میں نے خود سے کہا، معذرت