میں کیسے اپنے خوابوں۔۔۔ اپنے تصورات کو۔۔۔ صرف گماں خیال کر سکتی ہوں۔۔۔ کہ۔۔۔ جن میں جی کر۔۔۔ میں نے اپنی بنجر آنکھوں کو قوس قزح کے جیسے۔۔۔ ساتوں رنگوں میں ڈھلتے دیکھا ہے۔۔۔ خوشی سے جیتے دیکھا ہے۔۔۔ 🙂❤️
میں جب بھی اپنے ربّ سے کہتی ہوں
میں جب بھی اپنے ربّ سے کہتی ہوں
یا اللہ ! میری چاہت ،، میری حسرت ،، میری ضرورت ،،
وہ کہتے ہیں......اچھا ،، ٹھیک ہے ،، یہ لو ،،
اور جب بھی میں کہتی ہوں
اے میرے مالک ! میری ذات ،،
تو وہ کہتے ہیں....... نہیں ،، نہیں ،،
میں ہمیشہ اس الجھن میں رہی کہ زندگی کے سیدھے سادھے دھاگے میں ایک گرہ کیوں بندھی ہوئی ہے
میری ایک دعا ہر دعا پہ حاوی کیوں ہے بس ایک کمی ہر چیز اور ہر خوشی کو پھیکا کیوں کرتی ہے
اور جیسے جیسے سمجھ آتی گئی اس " کیوں " کا جواب ملتا گیا
جب ہم اپنے من پسند پرندے کو اپنے پاس قید کرکے رکھتے ہیں تو یقیناً اس سے محبّت اور لگاؤ تو واجب ہو جاتا ہے اگر پرندہ کسی طور کمزور یا بیمار ہے تو ہماری توجہ اس پہ سو گناہ زیادہ ہوتی ہے
ہم اس کو چھوڑنے یا آزاد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ہم جانتے ہیں اگر یہ دنیا کے ہاتھ آگیا وہ اسے ستائے گی نا قدری کرے گی یا روندے گی نہیں ،، نہیں ،، ہمارا کیسے حوصلہ پڑے کہ ہم اسے اس کے حال پہ چھوڑیں......ہرگز نہیں !
ہماری صورتحال ہو بہو پرندے جیسی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو بہت سارے اختیارات دے رکھے ہیں
بہر الحال یہ تو سچ ہماری سوچ سے آگے ایک جہاں اور بھی.....
ہم ایک پلک جھپکنے جیسی نعمت کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی تمام تر حکمتیں ہماری سمجھ میں آجائیں
شعور آتے ہی گزشتہ عمر بیکار لگنے لگتی ہے اور سکون آتے ہی ساری شکایتیں فضول ہو جاتی ہیں
سب سے بڑا سکون یہ ہے کہ میرا مالک میری کوشش دیکھ رہا ہے
میری طلب میں میری ذات کی جگہ " تیری ذات " نے لے لی ہے اور یہ سکون کی انتہاء ہے___!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ربّ کی طلب میں انتہاء کی چاہت ہے.....
اس چاہت میں ہی خود کو مٹا لینا ہے ،،
میری محبّت کا محور کوئی انساں نہیں ہے.....
یہ معاملہ کھونے پانے سے آگے تک کا ہے ،،
_______________
الفاز زباں سے ادا ہو کے
الفاز زباں سے ادا ہو کے اس کے ہونے ہی والے تھے کہ ضمیر ۔۔۔۔۔۔۔۔نے جھنجھوڑ کے کہا سنو اب وہ تمہاری نہیں سنتا
غمگین انسان کے لئے سب سے مشکل کام بستر چھوڑنا
غمگین انسان کے لئے سب سے مشکل کام بستر چھوڑنا.... اور تیار ہوکر کمرے سے باہر نکلنا ہے.... جب تم اس سے باہر نکلو گے تو....خودبخود ٹھیک ہو جاؤ گے.... ❤💔
وہ مان جاتا ہے ـ
وہ مان جاتا ہے ـ یہ اُسکی سب سے خوبصورت صفت ہے ـ ہم مجبور ہو کر اسکی نہیں مانتے ـ وہ بااختیار ہو کر ہم سے مان جاتا ہے ـ جب ہم گمراہیوں اور غفلتوں کے ٹوکرے اٹھا کر اس کے در پر جاتے ہیں ـ وہ دھتکار نہیں دیتا ـ پھٹکار نہیں دیتا ـ پچھلی توبہ یاد نہیں دلاتا ـ گناہوں کا حجم نہیں بتاتا ـ رد نہیں کرتا ـ اٹھا نہیں دیتا ـ بھگا نہیں دیتا ـ دل میں اترتا ہے ـ نیتوں کو پڑھ لیتا ہے ـ ندامت کو دیکھ لیتا ہے اور بندگی کو بھانپ لیتا ہے ـ وہ خوش ہو جاتا ہے ـ احسان کرتا ہے ـ اور معاف کر دیتا ہے ـ!
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں.
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں..........ہمارے اندرتو
کھائیںاں ،اضطراب اور بے چینیاں ہوتیں ہیں ۔
ہم جیسےدکھتے ہیں ......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ..........ہمارے اندرتو
دکھ ،چیخیں اور سوچیں ہوتیں ہیں
ہم جیسےدکھتے ہیں ......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں .........ہمارے اندرتو
خواہشیں، امیدیں اور خواب ہوتے ہیں
ہم جیسےدکھتے ہیں .....ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ..........ہمارے اندرتو
کرب ، اذیت اور بے چینیاں ہوتیں ہیں
ہم جیسےدکھتے ہیں ......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ..........ہمارے اندرتو
درندگی ، حسد اور لالچ ہوتا ہے
ہم جیسےدکھتے ہیں ......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں .........ہمارے اندرتو
تنہائیاں ،بربادئیاں اور اُداسیاں ہوتیں ہیں
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ........ہمارے اندرتو
صبر ، شکر اور بے بسی ہوتی ہے
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں .........ہمارے اندرتو
غرور ، تکبر انا کے ڈھیر ہوتےہیں
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ..........ہمارے اندرتو
انسانیت، بھائی چارہ اور خلوص ہوتا ہے
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں .......ہمارے اندرتو
پیار ، محبت اور وفا ہوتی ہے
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں .....ہمارے اندرتو
دھوکہ ، دشمنی اور بدلہ ہوتا ہے
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں .......ہمارے اندرتو
خوف، وحشت ، اضطراب ہوتا ہے
ہم جیسےدکھتے ہیں ......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ......ہمارے اندرتو
خوشی ، اُمید ، شہنائیاں ہوتیں ہیں
ہم جیسےدکھتے ہیں .....ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ......ہمارے اندرتو
خدا ، ایمان ،اور نیکیاں ہوتیں ہیں
ہم تو دکھتے ہیں کسی ایک خاص شکل، جسامت اور رنگ میں
باقی سب تو چھپا ہوتا ہے .....ہم جیسے دکھتےہیں ویسے تھوڑی ہوتے ہیں۔
اَلْحَمْدُلِلّ
لوگوں کو اپنی محرومیاں بتانا سب سے بڑی بیوقوفی ہے لوگ کچھ سیکنڈ کے لیے ہمدردی دکھا کر آپ سے بھاگیں گے کیونکہ لوگ ہمیشہ چمکتی چیزوں کی طرف بھاگتے ہیں لوگوں کو کسی کی محرومیاں متاثر نہیں کرتی بلکہ لوگوں کا مقام متاثر کرتا ہے :' آپ کی زندگی میں صرف اَلْحَمْدُلِلّه کی کمی ہوتی ہے جو آپکو مایوسی و محرومی کے جال سے نکلنے نہیں دیتی اگر اَلْحَمْدُلِلّه کو ہر چھوٹی سی چھوٹی چھوٹی بات کے لیے اپنایا جاۓ تو دل مطمئین رہے گا
!!💜🙂
Subscribe to:
Comments (Atom)









