⚫✨کبھی کبھی سوچتی ہوں کتنے تو خوش قسمت ہوتے ہیں ناں وہ لوگ جنکی پہلی محبت اور پہلی پریفرنس ہی اللہ پاک ہوتے ہیں جنکو لوگوں کی باتوں اور بدلتے رویوںسے ٹوٹنا نہیں پڑتا جو اپنے نفس اور اپنی خواہشات پیچھے کر کے اللہ کو چن لیتے ہیں اور پھر کچھ ہم جیسے ہوتے زمانے بھر کی خاک سر میں ڈال کر، خود توڑ کر پھر رب کو مانتے ہیں کہ رب تیری محبت جیسی محبت تو کوئی بھی نہیں.. انسان بغیر خاک چھانے رب کی کیوں نہیں مان لیتا.✨⚫
کیا ہیں یہ معملات۔۔۔
کیا ہیں یہ معملات۔۔۔
کسی کو بنا مانگے سب کچھ مل جاتا ہےاور کوئی جائز دعائیں مانگ مانگ کر تھک جاتا ہے کبھی کبھی تو مایوس ہی ہو جاتا ہے۔ کسی کی ہر خوشی پوری ہو جاتی ہے اور کوئی صبر کا دامن پکڑے انتظار کرتا رہتا ہےیہاں تک کہ خوشی بھی مر جاتی ہے۔۔ دعائیں ، صبر انتظار عبادتیں سب کچھ مایوسی میں بدل جاتا ہے اور مایوسی تو گناہ ہے ہوتی ہے۔اگر ایسا سب قسمت میں لکھا ہے تو پھر اللہ صبر کیوں نہیں دیتا؟ ۔۔ ایسا کیوں۔۔؟
یہ شکوہ نہیں ہے لیکن کیا ہے یہ سب۔۔
کیا یہ صرف میں نے محسوس کیا یا واقعی ایسا ھے؟
کیا یہ صرف میں نے محسوس کیا یا واقعی ایسا ھے؟
جب کوئی اپنا قریبی چھوڑ جائے تو انسان بہت ٹوٹ کر نرم ہو جاتا ھے اور جھکنا سیکھ جاتا ھے۔ خوشیاں کم اور سنجیدگی ذیادہ آ جاتی ھے۔ اعتبار کم کرنا اور پھر کسی کے چھوڑ جانے پہ تعجب نہیں ہوتا۔۔۔
محبت جیسا کوئی طلسم نہیں ہوتا
محبت جیسا کوئی طلسم نہیں ہوتا۔ ہم کسی کے ساتھ اچھے ہیں تو اپنے مفاد کیلیے۔ کیونکہ یہ دنیا جزا و سزا کا کھیل ہے۔ سب کو جزا کمانی ہے۔ اور اس لیے دوسروں کیساتھ اچھا بننا پڑتا ہے۔
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭨﭩﻮﻟﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺗُﻢ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ، ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺗﺨﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﭘﺮ ﻟﭩﮑﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻗﺎﺑُﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ۔ ﻭﮦ ﻧﺎﻣﺤﺴﻮﺱ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﻧﻔﻮﺫ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭼُﮭﭗ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﻔﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺭُﻭﺡ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼُﮭﭗ ﮐﺮ ﻧﺸﻮﻭﻧﻤﺎ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﮭﻠﺘﮯ ﭘُﮭﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺟﮍﯾﮟ ﻧﮑﺎﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺘﻨﺎ ﺗُﻢ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﺧﯿﮟ ، ﺟﻮ ﺑﮯ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ، ﮐﺎﭦ ﮈﺍﻟﻮ ﮔﮯ ﺍُﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﮟ ﺩﻭﺯ ﺟﮍﯾﮟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ "۔
میں نئے دوست بنا چکی ہوں
میں نئے دوست بنا چکی ہوں....ماضی سے پیچھا بھی چھڑا چکی ہوں....مگر میں آپ کو حقیقت بتاؤں؟
یہ طریقہ کام نہیں کرتا....انسان جہاں بھی چلا جائے....اگر وہ اندر سے خوش نہیں تو....باہر کا منظر بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا...
"قدموں کے نیچے زمین جیسی بھی ہو....اس کا آسمان وہی رہتا ہے"....❤💔
میں کیسے اپنے خوابوں۔۔۔ اپنے تصورات کو صرف گماں خیال کر سکتی ہوںں کہ
میں کیسے اپنے خوابوں۔۔۔ اپنے تصورات کو۔۔۔ صرف گماں خیال کر سکتی ہوں۔۔۔ کہ۔۔۔ جن میں جی کر۔۔۔ میں نے اپنی بنجر آنکھوں کو قوس قزح کے جیسے۔۔۔ ساتوں رنگوں میں ڈھلتے دیکھا ہے۔۔۔ خوشی سے جیتے دیکھا ہے۔۔۔ 🙂❤️
میں جب بھی اپنے ربّ سے کہتی ہوں
میں جب بھی اپنے ربّ سے کہتی ہوں
یا اللہ ! میری چاہت ،، میری حسرت ،، میری ضرورت ،،
وہ کہتے ہیں......اچھا ،، ٹھیک ہے ،، یہ لو ،،
اور جب بھی میں کہتی ہوں
اے میرے مالک ! میری ذات ،،
تو وہ کہتے ہیں....... نہیں ،، نہیں ،،
میں ہمیشہ اس الجھن میں رہی کہ زندگی کے سیدھے سادھے دھاگے میں ایک گرہ کیوں بندھی ہوئی ہے
میری ایک دعا ہر دعا پہ حاوی کیوں ہے بس ایک کمی ہر چیز اور ہر خوشی کو پھیکا کیوں کرتی ہے
اور جیسے جیسے سمجھ آتی گئی اس " کیوں " کا جواب ملتا گیا
جب ہم اپنے من پسند پرندے کو اپنے پاس قید کرکے رکھتے ہیں تو یقیناً اس سے محبّت اور لگاؤ تو واجب ہو جاتا ہے اگر پرندہ کسی طور کمزور یا بیمار ہے تو ہماری توجہ اس پہ سو گناہ زیادہ ہوتی ہے
ہم اس کو چھوڑنے یا آزاد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ہم جانتے ہیں اگر یہ دنیا کے ہاتھ آگیا وہ اسے ستائے گی نا قدری کرے گی یا روندے گی نہیں ،، نہیں ،، ہمارا کیسے حوصلہ پڑے کہ ہم اسے اس کے حال پہ چھوڑیں......ہرگز نہیں !
ہماری صورتحال ہو بہو پرندے جیسی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو بہت سارے اختیارات دے رکھے ہیں
بہر الحال یہ تو سچ ہماری سوچ سے آگے ایک جہاں اور بھی.....
ہم ایک پلک جھپکنے جیسی نعمت کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی تمام تر حکمتیں ہماری سمجھ میں آجائیں
شعور آتے ہی گزشتہ عمر بیکار لگنے لگتی ہے اور سکون آتے ہی ساری شکایتیں فضول ہو جاتی ہیں
سب سے بڑا سکون یہ ہے کہ میرا مالک میری کوشش دیکھ رہا ہے
میری طلب میں میری ذات کی جگہ " تیری ذات " نے لے لی ہے اور یہ سکون کی انتہاء ہے___!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ربّ کی طلب میں انتہاء کی چاہت ہے.....
اس چاہت میں ہی خود کو مٹا لینا ہے ،،
میری محبّت کا محور کوئی انساں نہیں ہے.....
یہ معاملہ کھونے پانے سے آگے تک کا ہے ،،
_______________
Subscribe to:
Comments (Atom)









