Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

وہ اور آوازیں ہوتی ہیں

وہ اور آوازیں ہوتی ہیں جنکی لہریں سماعتوں سے ہوتی ہوئی دماغ تک اپنے سگنل پہچانے کے بعد ہمیشہ کیلئے ذہن سے معدوم ہو جاتی ہیں ہاں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو سماعت کے رستے دل میں اترتی ہیں اور وہیں مقید ہو کر رہ جاتی ہیں جنکو سن کر زندگی محسوس ہوتی ہے
دھڑکنوں کی تال کو اپنی فریکوئنسی پر سیٹ کرنے کی صلاحیت کسی خاص آواز میں ہی ہوتی ہے 
اور میرے لئے وہ آواز تمہاری ہے 🖤
تم جب بولتے ہو تو سر تا پا میرا پورا وجود سماعت بن جاتا ہے 
تمہاری آواز مجھے ساری زندگی کیلئے اپنی سماعتوں کا رزق لگتی ہے 🙃


وہ سازِ محبت پھونک کر میرے کانوں میں

وہ سازِ محبت پھونک کر میرے کانوں میں 
مجھ سے پوچھتا ہے
کیا محبت ہے؟ 
میں بے اختیار کہہ اٹھتی ہوں
ہاں محبت ہے 🙃


زندگی اور لوگ مجھے اس مقام پہ لے آئیں ہیں

زندگی اور لوگ مجھے اس مقام پہ لے آئیں ہیں جہاں میں
"لوگ کیا کہیں گے لوگ کیا سوچیں گے"
جیسی فکروں سے آزاد ہو کر اپنے آپ میں مست ہوں
جو عزت دیتا ہے اسکو دگنی عزت دیتی ہوں
جو محبت دیتا ہے اسکو سود سمیت واپس لوٹاتی ہوں
جو زندگی سے جانا چاہتا ہے اسے بے غم ہو کر جانے دیتی ہوں
جو رکنا چاہتا ہے اسے ہمیشہ اپنے ساتھ جوڑے رکھتی ہوں
جو مجھ سے بغض رکھتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں انکے بارے میں، میں یہ فرض کرتی ہوں کہ وہ دنیا میں ہیں ہی نہیں___!!
کیونکہ میرے دل سے لوگوں کا ساتھ پانے کی ان سے الجھنے کی یا انکو خوش رکھنے کی چاہ ختم ہو چکی ہے 🖤

And verily

And verily, I am indeed Forgiving to him who repents, believes (in My Oneness, and associates none in worship with Me) and does righteous good deeds, and then remains constant in doing them, (till his death). 
(Surat Taha20:82)🥀

اسکا وجود اب ان کرنسی نوٹوں کے جیسا تھا

اسکا وجود اب ان کرنسی نوٹوں کے جیسا تھا جو اپنا زمانہ گزر جانے کے بعد خرچ ہونے کی چاہ میں غرق ہوئے تھے جو اب محض ردی میں دئیے جانے والے چند کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ تھے :



اگر عام نہ ہوتا تو خاص کبھی خاص نہ بنتا

اگر عام نہ ہوتا تو خاص کبھی خاص نہ بنتا :)
عام اشیاء کی بہتات نہ ہوتی تو خاص چیزیں کیسے اپنی انفرادی پہچان بنا پاتی ان گنت عام پھولوں کی موجودگی نے ہی گلاب کو خاص بنایا ہے 
کبھی کبھی ہمارا عام ہونا ہی سب کچھ ہوتا ہے کیونکہ کسی کا خاص ہونا ہمارے عام ہونے سے مشروط ہوتا ہے کیونکہ اگر ہم عام نہ ہوتے تو وہ کبھی خاص نہ بن پاتے...!!!



میں کم گو ہوں

میں کم گو ہوں
مگر اسے ہنسانے کی خاطر گھنٹوں تک ڈھیروں بے مقصد باتیں کر سکتی ہوں
غصے کی بہت تیز ہوں
مگر وہ ایک بار آہستگی سے میرا نام پکار دے تو ساری خفگی پل بھر میں ہوا ہو جاتی ہے
انتہا کی ضدی اور ہٹ دھرم ہوں
مگر اسکی خاطر اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال سکتی ہوں
کیونکہ جو محبت میں آپکو بدلنے پہ مجبور نہیں کرتا
اسکی محبت آپکو سر تا پا بدل دیتی ہے




دستورِ دنیا کس قدر عجیب ہےدستورِ دنیا کس قدر عجیب ہے

دستورِ دنیا کس قدر عجیب ہے
جو مرجاتا ہے اپنے ہر گناہ سے بری ہو جاتا ہے ایکدم نیک و صالح بن جاتا ہے لوگ مرنے والی شان میں وہ اوصاف بھی بیان کر جاتے ہیں جو اس میں کبھی تھے ہی نہیں کبھی سوچا ہے عموماً لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ 
شاید اسلئے کیونکہ مرنے والا بے بس و بے اختیار ہو جاتا ہے وہ پلٹ کر انہیں جواب دینے کی سکت نہیں رکھتا شاید اسلئے جینے والے اسکی حالت پہ ترس کھا کر اسے بخش دیتے ہیں اور سارے عذاب پتا ہے کس کے حق میں آتے ہیں؟؟
ان کے جنکا یہ پریشانیاں، نامساعد حالات، یہاں تک کہ اپنوں کو کھو دینے کے غم بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ دوہری آزمائش میں ہوتے ہیں ایک لڑائی اپنی ذات، زندگی اور حالات سے لڑ رہے ہوتے ہیں اور دوسری ایسے لوگوں سے جو انہیں جیتے جی بخشنے کے روادار نہیں ہوتے پھر ایسوں کو واحد ریلیف موت میں ہی دکھائی دیتا ہے کہ چلو جب مر جائیں گے تب شاید روح ہی سکون نامی بلا سے واقف ہو ہی جائے
آپ فقط مرنے والوں کے حق میں بخشش کی دعا مت کیا کیجئے
جینے والوں کو بخشنا بھی سیکھیں 🙃




اور میرا کیا ہے!!

اور میرا کیا ہے!!
مجھے تو لوگوں کو الجھائے رکھنا اچھا لگتا ہے 
جو مجھے جانے بغیر میرے متعلق منفی رائے قائم کر لیتے ہیں انکے خیالات پہ محظوظ ہونا اچھا لگتا ہے اور انکی رائے کو مزید پختہ کر کے خوشی ملتی ہے
اور میرا کیا ہے!!
میں تو تصورات کی دنیا میں کھو کر کچھ بھی لکھ دیتی ہوں ہو سکتا ہے میری تحریریں پڑھ کر جو کچھ بھی لوگ میرے متعلق جان پائے ہوں وہ محض میرے دماغ کی ایک افسانوی داستان ہو 
حقیقت کچھ اور ہو؟؟


یہ جو ادائے بے نیازی دیکھتے ہو تم

یہ جو ادائے بے نیازی دیکھتے ہو تم
بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد میری ذات کا حصہ بنی ہے
اور یہ ٹھہراؤ
کئی رویوں کا زہر چکھنے کے بعد میری شخصیت میں شامل ہوا
پراسرار خاموشیوں کا یہ ہنر
میں نے لوگوں پہ اپنے الفاظ ضائع کرنے کے بعد ہی اپنایا ہے
" تمہیں چاہنے کیلئے مجھے تمہاری بھی ضرورت نہیں"
ایسی محبت کرنے کا فن تمہاری بے رخی نے ہی تو سکھایا ہے :)