اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے تو ایسا ہی ھو گا کوشش کریں اپنے پاؤں پہ کھڑیں ہوں تاکہ کوئی آپ کی یہ حالت نہ کر سکے.
اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے
اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے گویا کہ اس کی ٹرین ہی چھوٹ رہی ہو, ایسے حالات شاعری یا محبت کے لیے بالکل بھی موافق نہیں ہوتے۔
Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota

Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota
Chahton ki durri bhi,
Torna hi parti hai
Manzilon ki kashti bhi,
Morna hi parti hai
Bhoolna hi parta hai,
Khud say piyare lougon ko
Aur dil ke aangan mein,
Naqsh un ki tasweerain
Kuch haseen lafzon ki,
Kuch haseen tehreerain
Paaon jin mein jukrain hoon,
Kholna hi parti hain..
Khoobsurat aankhon mein basnay walay khawabon ko
Nochna hi parta hai
Dil se milta her rishta torna hi parta hai...
Kyun ke....
Izzaton se barh ker to aur kuch nahi hota....!
سب خواہشیں تھیں سراب سی
سب خواہشیں تھیں سراب سی
بلبلہِ آب سی
میرے خواب نکلے ہیں رائیگاں
محض سمے کا زیاں
زیست ہے ایک کٹھن سوال
بنا ہے جو جاں کا وبال
چاہِ اجل بھی گناہ ہوئی
اور زندگی بھی سزا ہوئی
امیدیں سب گھائل سی ہیں
میری ہمتیں زائل سی ہیں
نارسائی کے سبھی عذاب سہتے تھک چکی میں
کھونے والوں کے غموں کو روتے روتے تھک چکی میں
اس پہ پھر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے
میرے مقدر پہ چھائی تیرگی بھی دیکھئے
اختیار میں میرے فرار کی کوئی راہ بھی نہیں رہی
دلِ مضطرب کو اب قرار کی کوئی چاہ بھی نہیں رہی ۔
سفر کے لیے کسی مشہور ترین
سفر کے لیے کسی مشہور ترین شاہراہ سے بہتر کوئی سنسان
پتھریلا راستہ ہے جہاں نا لوگوں کا ہجوم ہو اور نا ہی سفری سہولت ہو___ اونچے نیچے راستوں پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دھیرے دھیرے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے
منزلوں سے حسین راستے ہی تو ہیں جہاں چلتے محبت کی شوخ سی ادا میں پیڑوں پر نام گڑھ دئیے جاتے ہیں جو صدیوں تک کھڑے پیڑوں کے سینوں پر نقش رہتے ہیں___!!
شب روز تو معمول کی طرح ہی گزریں گے
شب روز تو معمول کی طرح ہی گزریں گے..
تو یاد رہے گا اے مخلص.. بھروسہ رکھ.!
لوگ تو اور بھی عزیز ہیں لیکن..
تو جاں سے بڑھ کے ہے پیارا بھروسہ رکھ!
دور کر کے تجھے خود سے مطمئن تو میں بھی نہیں..
یہی حالات کا تقاضہ تھا.. بھروسہ رکھ..!
یہ بھرم قائم رہنا نہیں آساں اتنا...
میں پھر بھی کہہ رہی پیارے بھروسہ رکھ..!
ﻋﺠﺐ ﮨﮯ ﺭﻧﮓِ ﭼﻤﻦ، ﺟﺎ ﺑﺠﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻋﺠﺐ ﮨﮯ ﺭﻧﮓِ ﭼﻤﻦ، ﺟﺎ ﺑﺠﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻣﮩﮏ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ، ﺑﺎﺩِ ﺻﺒﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ، ﯾﮧ ﺑﮭﻼ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﮨﻮﮞ، ﮨﺎﮞ ﺑﺲ ﺫﺭﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻣﺒﺘﻼ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺟﻮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﺎ، ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﮔﺪﺍﺯِ ﻗﻠﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ؟
ﻋﻈﯿﻢ ﻭﺻﻒ ﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﺷﺪﯾﺪ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺭﻭ ﮨﮯ ﺭﻭﺍﮞ ﺭﮒِ ﺟﺎﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﻼ ﮐﺎ ﺭﻧﺞ ﮨﮯ، ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺑﮍﮮ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﭘﺲِ ﻭﺻﺎﻝ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺳِﻮﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﺟﻮ ﺧﺰﺍﻧﮯ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮﮞ
ﻣﺮﯼ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮯ ﺑﮩﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﭼﮭﭗ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ
ﺟﮭﻠﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﯾﺮِ ﻗﺒﺎ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞِ ﮐﻮﻥ ﻭ ﻣﮑﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ
ﻣﺮﺍ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻓﻠﮏ ﮨﮯ ﺳﺮ ﭘﮧ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻼ ﮨُﻮﺍ
ﺯﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﺮﮮ ﺯﯾﺮِ ﭘﺎ، ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻏﺰﻝ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺁﺝ ﻣﺤﺮﻡِ ﺩﺭﺩ
ﺳﺨﻦ ﮐﯽ ﺍﻭﮌﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺭﺩﺍ، ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺍﺣﻮﺍﻝ
ﻋﺠﯿﺐ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮐﯿﻒِ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﻏﺎﻟﺒﺎً ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﻣﺰﺍ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﮯ
میرےزخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں
میرےزخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں
میں تنہا پیڑ ہو جنگل کا میرے پتے جھڑتے جاتے ہیں
میں کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں اک تیری کب ہوں سب کی ہوں
مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی میں کوئل ہوں صحراؤں کی
اک دلدل ہے تیری یادوں کی میرے پیر اکھڑتے جاتے ہیں
میرے زخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں
میں کس پنجرے کی چڑیا تھی میں کس بچے کی گڑیا تھی
مجھے کھیلنے والے کہاں گئے مجھے چومنے والے کہاں گئے
میرے جھمکے گروی مت رکھنا میرے کنگن توڑ نہ دینا
کبھی ملنا اس پر سوچیں گے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے
رستے میں ہی لڑتے جاتے ہیں
میرے زخم نہیں بھرتے یارو میرے ناخن بڑھتے جاتے ہیں
سنو لڑکی
سنو لڑکی
یہ الجھنوں کی گتھی
تم زمانے کے لیے رہنے دو
تم ابھی خواب دیکھو,
بال سنوارو,
نظمیں پڑھا کرو
یہ سنجیدگی کا پہناوا
سجتا نہیں تم پر
ربط رکھو تم بہار سے
تم شوخ رنگ میں آیا کرو! 💙
Subscribe to:
Comments (Atom)








