Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں

مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں 
جب گھر کے ایک کونے میں سب سے چھپ کر اوٹ پٹانگ شاعری لکھا کرتی تھی اپنی ہر بات لکھ کر ان پہ تاریخیں ڈالا کرتی تھی تنہا رہنا برا نہیں لگتا تھا خود سے ہمکلام ہوا کرتی تھی بے فکری سے زندگی جیا کرتی تھی 
جانے کہاں کھو گئی وہ بے فکری وہ زندگی کی رنگین شامیں مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں بہت یاد آتی ہیں ۔

یومِ عرفہ کی فضیلت



*9 ذوالحج یعنی عرفہ کا دن ،دین اسلام کی تکمیل کا دن ہے*

📚عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین!
تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔
آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۃ المائدہ کی یہ آیت)

 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا''

”آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا۔ "


عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،
کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ  عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
(صحیح البخاری،ﻛﺘﺎﺏ اﻹﻳﻤﺎﻥ
ﺑﺎﺏ ﺯﻳﺎﺩﺓ اﻹﻳﻤﺎﻥ ﻭﻧﻘﺼﺎﻧﻪ، حدیث نمبر، 45)

*یوم عرفہ حاجیوں اور غیر حاجیوں کی معافی کا دن*

📚نبیﷺ نے فرمایا: 
جب تم دوپہر دوپہر کے بعد عرفات میں کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرشتوں سے تم پر فخر کرتا ہے ، 
فرماتا ہے کہ میرے بندے میرے پاس  کھلے اور گہرے راستے سے پراگندہ حالت میں آئے ہیں، جو میری رحمت و جنت کے امیدوار ہیں ، پس اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں یا بارش کے قطروں یا سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تو میں انہیں بخش دوں گا، 
میرے بندو!
لوٹ جاؤتم بخشے بخشائے ہو اور ان کی بھی مغفرت ہے جن کی تم نے سفارش کی ۔
(صحیح الترغیب والترهیب :1112)


مجھے مانگے ہوۓ ساۓ

مجھے مانگے ہوۓ ساۓ 
 ہمیشہ بھیک لگتے ہیں
 اس لئے دھوپ میں ہی چلتی ہوں🥀🖤

اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے


اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے تو ایسا ہی ھو گا کوشش کریں اپنے پاؤں پہ کھڑیں ہوں تاکہ کوئی آپ کی یہ حالت نہ کر سکے.

اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے


اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے گویا کہ اس کی ٹرین ہی چھوٹ رہی ہو, ایسے حالات شاعری یا محبت کے لیے بالکل بھی موافق نہیں ہوتے۔

Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota





Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota
Chahton ki durri bhi,
Torna hi parti hai
Manzilon ki kashti bhi,
Morna hi parti hai
Bhoolna hi parta hai,
Khud say piyare lougon ko
Aur dil ke aangan mein,
Naqsh un ki tasweerain
Kuch haseen lafzon ki,
Kuch haseen tehreerain
Paaon jin mein jukrain hoon,
Kholna hi parti hain..
Khoobsurat aankhon mein basnay walay khawabon ko
Nochna hi parta hai
Dil se milta her rishta torna hi parta hai...
Kyun ke....
Izzaton se barh ker to aur kuch nahi hota....!




سب لہجے اپنے اندر کہیں جذب کرلیا کیجئے

سب لہجے اپنے اندر کہیں جذب کرلیا کیجئے
سمجھ لیجئے! حاصل کچھ نہیں شکوے کرکے! 

سب خواہشیں تھیں سراب سی

سب خواہشیں تھیں سراب سی
بلبلہِ آب سی
میرے خواب نکلے ہیں رائیگاں
محض سمے کا زیاں
زیست ہے ایک کٹھن سوال
بنا ہے جو جاں کا وبال
 چاہِ اجل بھی گناہ ہوئی
اور زندگی بھی سزا ہوئی
امیدیں سب گھائل سی ہیں
میری ہمتیں زائل سی ہیں 
نارسائی کے سبھی عذاب سہتے تھک چکی میں
کھونے والوں کے غموں کو روتے روتے تھک چکی میں
اس پہ پھر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے
میرے مقدر پہ چھائی تیرگی بھی دیکھئے
اختیار میں میرے فرار کی کوئی راہ بھی نہیں رہی 
دلِ مضطرب کو اب قرار کی کوئی چاہ بھی نہیں رہی ۔


سفر کے لیے کسی مشہور ترین

سفر کے لیے کسی مشہور ترین شاہراہ سے بہتر کوئی سنسان
پتھریلا راستہ ہے جہاں نا لوگوں کا ہجوم ہو اور نا ہی سفری سہولت ہو___ اونچے نیچے راستوں پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دھیرے دھیرے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے
منزلوں سے حسین راستے ہی تو ہیں جہاں چلتے محبت کی شوخ سی ادا میں پیڑوں پر نام گڑھ دئیے جاتے ہیں جو صدیوں تک کھڑے پیڑوں کے سینوں پر نقش رہتے ہیں___!!

شب روز تو معمول کی طرح ہی گزریں گے

شب روز تو معمول کی طرح ہی گزریں گے.. 
تو یاد رہے گا اے مخلص..  بھروسہ رکھ.!

لوگ تو اور بھی عزیز ہیں لیکن..
تو جاں سے بڑھ کے ہے پیارا  بھروسہ رکھ!

دور کر کے تجھے خود سے مطمئن تو میں بھی نہیں.. 
یہی حالات کا تقاضہ تھا..  بھروسہ رکھ..!

 
یہ بھرم قائم رہنا نہیں آساں اتنا...
میں پھر بھی کہہ رہی پیارے بھروسہ رکھ..!