Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

رات کا وہ پہر تھا

رات کا وہ پہر تھا جب ہر طرف خاموشی اور سکون طاری تھا۔سب لوگ سکون کی نیند سو رہے تھے لیکن اللہ والوں کے بستر تو اس وقت خالی ہوا کرتے ہیں اور وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس کی آنکھ کھلتی ہے وہ کلمہ پڑھنے کے بعد موبائل کی سکرین روشن کر کے وقت دیکھتی ہے تو اس کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھتا ہے کہ اللہ نے آج بھی اسے چن لیا ہے کہ وہ اپنی نیند کو اللہ کی محبت کی خاطر قربان کرکے اس سے ہم کلام ہو وہ خاموشی سے اٹھتی ہے اور وضو کرتی ہے ۔وضو کے پانی کا ہر موتی جیسے جیسے اس کے جسم کو تر کر رہا تھا ویسے ویسے اس کا جسم اطمینان سے بھرتا جا رہا تھا۔ آخر وہ لاڈلی نماز کے لیے آ کھڑی ہوتی ہے۔ معمول کی طرح وہ آج بھی یہ بات دھراتی ہے کہ "دلوں کی توجہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
وہ اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) اسی رحیم، رحمان و کریم پروردگار کی خاطر وہ اپنی نیند قربان کرکے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہے ۔وہ اس بات کا اقرار کرتے ہوئے دنیا کی تمام تر سوچوں اور خواہشات سے بےخبر اس عظیم ذات سے اپنا تعلق جوڑتی ہے۔ سجدے میں جاتے ہی جیسے اس کے بےترتیبی سے دھڑکتے دل کو قرار آجاتا ہے ۔ اس کی ٹوٹی ہوئی سانسیں ٹھیک ہونے لگتی ہیں اور اس کے جسم کی  کپکپاہٹ تھم سی جاتی ہے۔ بہت دیر سجدے میں رہنے کے بعد جب وہ سر اٹھاتی ہے تو جیسے اس تنہا، سیاہ، خاموش رات میں اسے اطمینان مل گیا ہو سلام پھیر کر وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور آنسوؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اسے کہاں خبر تھی کہ اس کی آنکھوں سے گرنے والے یہ پانی کے قطرے اس عظیم ذات کے ہاں قیمتی موتیوں کی سی اہمیت رکھتے ہیں۔دعا کے لیے دوبارہ ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن بےسود۔ آخر وہ بےبس ہوکر اپنی عاجزی کو ظاہر کرتے ہوئے، اپنے ساری انا کو قربان کرکے، خود کو خاک تسلیم کرکے سجدے میں گر جاتی ہے۔ بڑی مشکل سے زبان سے چند الفاظ ادا ہوتے ہیں، تیرا دیدار، تیرا دیدار۔اس متکبر، سمیع البصیر ذات کا دیدار۔اس کے جسم کی تھرتھراہٹ اس بات کی وضاحت کر رہی تھی کہ وہ آج بھی بہت تڑپ اور شدت سے اللہ سے کچھ مانگ رہی ہے ۔ اس کا سارا وجود ربِ کائنات سے ایک ہی فریاد کر رہا تھا۔ اس کے دل پر بار بار یہ خواہش دستک دے رہی تھی کہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ اپنے رب کے حضور التجا کرتی رہے۔
اور تہجد تو کامل ایمان ہے ۔ ہاں تہجد عشق ہے۔


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

🌾✨ ‏بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ✨🌾

🌾🌺 اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ(ﷻ) کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 🌺🌾

🌾📖 سورة البقرہ ☜ آیت ٢٨١ 🌠🌾

مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں

مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں 
جب گھر کے ایک کونے میں سب سے چھپ کر اوٹ پٹانگ شاعری لکھا کرتی تھی اپنی ہر بات لکھ کر ان پہ تاریخیں ڈالا کرتی تھی تنہا رہنا برا نہیں لگتا تھا خود سے ہمکلام ہوا کرتی تھی بے فکری سے زندگی جیا کرتی تھی 
جانے کہاں کھو گئی وہ بے فکری وہ زندگی کی رنگین شامیں مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں بہت یاد آتی ہیں ۔

یومِ عرفہ کی فضیلت



*9 ذوالحج یعنی عرفہ کا دن ،دین اسلام کی تکمیل کا دن ہے*

📚عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین!
تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔
آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۃ المائدہ کی یہ آیت)

 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا''

”آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا۔ "


عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،
کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ  عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
(صحیح البخاری،ﻛﺘﺎﺏ اﻹﻳﻤﺎﻥ
ﺑﺎﺏ ﺯﻳﺎﺩﺓ اﻹﻳﻤﺎﻥ ﻭﻧﻘﺼﺎﻧﻪ، حدیث نمبر، 45)

*یوم عرفہ حاجیوں اور غیر حاجیوں کی معافی کا دن*

📚نبیﷺ نے فرمایا: 
جب تم دوپہر دوپہر کے بعد عرفات میں کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرشتوں سے تم پر فخر کرتا ہے ، 
فرماتا ہے کہ میرے بندے میرے پاس  کھلے اور گہرے راستے سے پراگندہ حالت میں آئے ہیں، جو میری رحمت و جنت کے امیدوار ہیں ، پس اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں یا بارش کے قطروں یا سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تو میں انہیں بخش دوں گا، 
میرے بندو!
لوٹ جاؤتم بخشے بخشائے ہو اور ان کی بھی مغفرت ہے جن کی تم نے سفارش کی ۔
(صحیح الترغیب والترهیب :1112)


مجھے مانگے ہوۓ ساۓ

مجھے مانگے ہوۓ ساۓ 
 ہمیشہ بھیک لگتے ہیں
 اس لئے دھوپ میں ہی چلتی ہوں🥀🖤

اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے


اگر زیادہ دیر کسی کے سائے میں رہیں گے تو ایسا ہی ھو گا کوشش کریں اپنے پاؤں پہ کھڑیں ہوں تاکہ کوئی آپ کی یہ حالت نہ کر سکے.

اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے


اس دور میں ہر شخص ایسا بھاگا جا رہا ہے گویا کہ اس کی ٹرین ہی چھوٹ رہی ہو, ایسے حالات شاعری یا محبت کے لیے بالکل بھی موافق نہیں ہوتے۔

Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota





Izzaton say barh ker to aur kuch nahi hota
Chahton ki durri bhi,
Torna hi parti hai
Manzilon ki kashti bhi,
Morna hi parti hai
Bhoolna hi parta hai,
Khud say piyare lougon ko
Aur dil ke aangan mein,
Naqsh un ki tasweerain
Kuch haseen lafzon ki,
Kuch haseen tehreerain
Paaon jin mein jukrain hoon,
Kholna hi parti hain..
Khoobsurat aankhon mein basnay walay khawabon ko
Nochna hi parta hai
Dil se milta her rishta torna hi parta hai...
Kyun ke....
Izzaton se barh ker to aur kuch nahi hota....!




سب لہجے اپنے اندر کہیں جذب کرلیا کیجئے

سب لہجے اپنے اندر کہیں جذب کرلیا کیجئے
سمجھ لیجئے! حاصل کچھ نہیں شکوے کرکے! 

سب خواہشیں تھیں سراب سی

سب خواہشیں تھیں سراب سی
بلبلہِ آب سی
میرے خواب نکلے ہیں رائیگاں
محض سمے کا زیاں
زیست ہے ایک کٹھن سوال
بنا ہے جو جاں کا وبال
 چاہِ اجل بھی گناہ ہوئی
اور زندگی بھی سزا ہوئی
امیدیں سب گھائل سی ہیں
میری ہمتیں زائل سی ہیں 
نارسائی کے سبھی عذاب سہتے تھک چکی میں
کھونے والوں کے غموں کو روتے روتے تھک چکی میں
اس پہ پھر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے
میرے مقدر پہ چھائی تیرگی بھی دیکھئے
اختیار میں میرے فرار کی کوئی راہ بھی نہیں رہی 
دلِ مضطرب کو اب قرار کی کوئی چاہ بھی نہیں رہی ۔