اگر آپ کسی سے تعلق ختم کرنے کے لیے سامنے والے کو بے جا ذلیل کرتے ہیں کہ چلو ایسے یہ بندہ خود ہی چھوڑ جائے گا لیکن سامنے والا روز آپکی بدتمیزیوں کو چپ چاپ سہہ لیتا ہے کیونکہ اس کو آپ سے محبت ہے تو یقین جانیں آپ سے زیادہ کم ظرف اس دنیا میں کوئی بھی نہیں۔
اپنے رب سے ہر حال میں خوش گمان رہیں
اپنے رب سے ہر حال میں خوش گمان رہیں اور جان لیں جو نعمت آپ کو ملنی ہے وہ ہر حال میں مل کر رہے گی بھلے اس کا رتی بھر بھی امکان نظر نہ آئے...
کبھی بھی میں یہ نہیں کہوں گی
کبھی بھی میں یہ نہیں کہوں گی کے مجھے زندگی میں کسی بھی چیز کے کھونے کا غم نہیں ہے میں یہ بھی نہیں کہوں گی کے مجھے ہر شے مل جانے کی خوشی بہت ہے میں سوگ اور بہار کے درمیان سلگتی بھی نہیں رہوں گی میں بس اتنا کہوں گی زندگی نے مجھے قدم قدم یادگار بنا دیا...
ﻭﮦ ﺑﺎﻝ ﭘﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ نہیں تھی۔۔۔۔!
ﻭﮦ ﺑﺎﻝ ﭘﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ نہیں تھی۔۔۔۔!
بلکہ لیڈ پینسل ﮐﯽ ﻃﺮﺡ تھی۔۔۔۔۔💕
ﺟﺐ جہاں ﻟﻮﮒ ﺍﺱ سے بیزار ہوتے تھے۔۔۔۔ :
ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﻭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪگیوﮞ سے ﺧﻮﺩ ﮨﯽ اِﺭیز کرﺩیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕
ﻭﮦ ﺍتنی ﺧﻮﺩﺍﺭ تھی۔۔۔
ﮐﮧ
ﺧﻮﺩ تو ﺍﺫﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔
مگر
ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ خوشیوں کا ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺭتے ہوئے
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ سے
ﺍپنا ﺁﭖ ہمیشہ ہمیشہ ﮐﮯ لیے مٹا دیتی تھی
رات کا وہ پہر تھا
رات کا وہ پہر تھا جب ہر طرف خاموشی اور سکون طاری تھا۔سب لوگ سکون کی نیند سو رہے تھے لیکن اللہ والوں کے بستر تو اس وقت خالی ہوا کرتے ہیں اور وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس کی آنکھ کھلتی ہے وہ کلمہ پڑھنے کے بعد موبائل کی سکرین روشن کر کے وقت دیکھتی ہے تو اس کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھتا ہے کہ اللہ نے آج بھی اسے چن لیا ہے کہ وہ اپنی نیند کو اللہ کی محبت کی خاطر قربان کرکے اس سے ہم کلام ہو وہ خاموشی سے اٹھتی ہے اور وضو کرتی ہے ۔وضو کے پانی کا ہر موتی جیسے جیسے اس کے جسم کو تر کر رہا تھا ویسے ویسے اس کا جسم اطمینان سے بھرتا جا رہا تھا۔ آخر وہ لاڈلی نماز کے لیے آ کھڑی ہوتی ہے۔ معمول کی طرح وہ آج بھی یہ بات دھراتی ہے کہ "دلوں کی توجہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
وہ اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) اسی رحیم، رحمان و کریم پروردگار کی خاطر وہ اپنی نیند قربان کرکے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہے ۔وہ اس بات کا اقرار کرتے ہوئے دنیا کی تمام تر سوچوں اور خواہشات سے بےخبر اس عظیم ذات سے اپنا تعلق جوڑتی ہے۔ سجدے میں جاتے ہی جیسے اس کے بےترتیبی سے دھڑکتے دل کو قرار آجاتا ہے ۔ اس کی ٹوٹی ہوئی سانسیں ٹھیک ہونے لگتی ہیں اور اس کے جسم کی کپکپاہٹ تھم سی جاتی ہے۔ بہت دیر سجدے میں رہنے کے بعد جب وہ سر اٹھاتی ہے تو جیسے اس تنہا، سیاہ، خاموش رات میں اسے اطمینان مل گیا ہو سلام پھیر کر وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور آنسوؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اسے کہاں خبر تھی کہ اس کی آنکھوں سے گرنے والے یہ پانی کے قطرے اس عظیم ذات کے ہاں قیمتی موتیوں کی سی اہمیت رکھتے ہیں۔دعا کے لیے دوبارہ ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن بےسود۔ آخر وہ بےبس ہوکر اپنی عاجزی کو ظاہر کرتے ہوئے، اپنے ساری انا کو قربان کرکے، خود کو خاک تسلیم کرکے سجدے میں گر جاتی ہے۔ بڑی مشکل سے زبان سے چند الفاظ ادا ہوتے ہیں، تیرا دیدار، تیرا دیدار۔اس متکبر، سمیع البصیر ذات کا دیدار۔اس کے جسم کی تھرتھراہٹ اس بات کی وضاحت کر رہی تھی کہ وہ آج بھی بہت تڑپ اور شدت سے اللہ سے کچھ مانگ رہی ہے ۔ اس کا سارا وجود ربِ کائنات سے ایک ہی فریاد کر رہا تھا۔ اس کے دل پر بار بار یہ خواہش دستک دے رہی تھی کہ وقت یہیں تھم جائے اور وہ اپنے رب کے حضور التجا کرتی رہے۔
اور تہجد تو کامل ایمان ہے ۔ ہاں تہجد عشق ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
🌾✨ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ✨🌾
🌾🌺 اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ(ﷻ) کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 🌺🌾
🌾📖 سورة البقرہ ☜ آیت ٢٨١ 🌠🌾
مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں
مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں
جب گھر کے ایک کونے میں سب سے چھپ کر اوٹ پٹانگ شاعری لکھا کرتی تھی اپنی ہر بات لکھ کر ان پہ تاریخیں ڈالا کرتی تھی تنہا رہنا برا نہیں لگتا تھا خود سے ہمکلام ہوا کرتی تھی بے فکری سے زندگی جیا کرتی تھی
جانے کہاں کھو گئی وہ بے فکری وہ زندگی کی رنگین شامیں مجھے وہ شامیں یاد آتی ہیں بہت یاد آتی ہیں ۔
یومِ عرفہ کی فضیلت
*9 ذوالحج یعنی عرفہ کا دن ،دین اسلام کی تکمیل کا دن ہے*
📚عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین!
تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔
آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۃ المائدہ کی یہ آیت)
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا''
”آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا۔ "
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،
کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
(صحیح البخاری،ﻛﺘﺎﺏ اﻹﻳﻤﺎﻥ
ﺑﺎﺏ ﺯﻳﺎﺩﺓ اﻹﻳﻤﺎﻥ ﻭﻧﻘﺼﺎﻧﻪ، حدیث نمبر، 45)
*یوم عرفہ حاجیوں اور غیر حاجیوں کی معافی کا دن*
📚نبیﷺ نے فرمایا:
جب تم دوپہر دوپہر کے بعد عرفات میں کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرشتوں سے تم پر فخر کرتا ہے ،
فرماتا ہے کہ میرے بندے میرے پاس کھلے اور گہرے راستے سے پراگندہ حالت میں آئے ہیں، جو میری رحمت و جنت کے امیدوار ہیں ، پس اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں یا بارش کے قطروں یا سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تو میں انہیں بخش دوں گا،
میرے بندو!
لوٹ جاؤتم بخشے بخشائے ہو اور ان کی بھی مغفرت ہے جن کی تم نے سفارش کی ۔
(صحیح الترغیب والترهیب :1112)
Subscribe to:
Comments (Atom)









