Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

آزادی کی سانسیں ان کے نام

‏آزادی کی سانسیں ان کے نام جو گمنام راہوں میں شہید ہو گئے، ان مسلمان عورتوں کے نام جنہوں نے کرب و بلا کے آسمان تلے کنویں کی منڈیر سے چھلانگ دی، ان بچوں کے نام جو آج تک نہ ملے، ان کے نام جو اسے بچانے کے لئے آج تک لڑ رہے ہیں اور انکے نام جن کی امید آج بھی مری نہیں۔

ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ ﭘﺮﮮ ﺗﮭﯽ

ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ ﭘﺮﮮ ﺗﮭﯽ
ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻟﮑﮭّﻮﮞ

ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﻟﮍﮐﯽ ﺩﯾﺎﺭ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﺳﭻ ﮐﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ
ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻟﮑﮭّﻮﮞ

    

وہ لٹے پٹُے سے قافلے

وہ لٹے پٹُے سے قافلے
جو وطن بنا کر چلے گئے
جو نہ رک سکے. نہ جھک سکے

جو چمن سجاکر چلے گئے
ہمیں یاد ہیں ہمیں یاد ہیں۔


عادتوں، کرتوتوں سیرت،اور حقیقت کا

عادتوں، کرتوتوں سیرت،اور حقیقت کا تو بعد میں پتہ چلتا ہے۔ پہلے شکل ہی نظر آتی ہے۔
رشتے ہمہ پلّہ ہونے چاہیے۔

صحیح وقت پہ کروا دینگے حدوں کا احساس

‏صحیح وقت پہ کروا دینگے حدوں کا احساس
                                 *
                                 *
                                 *
-کُچھ تالاب خود کو سمندر سمجھ بیٹھے ہیں۔

چھتـری پـاس ہـونـے کا مطـلبــــ یـہ نہیں ہـوتـا ہـے


چھتـری پـاس ہـونـے کا مطـلبــــ یـہ نہیں ہـوتـا ہـے کـہ یـہ 
بـارش کو ہـی روک  لـے گـی 
چھتـری تـو انسـان کو بـارش میـں کھـڑا ہـونـے کا 
سـہارا دیتـی ہـے 
بلکل اسـی طـرح ہـی تـو اعتـماد ہـوا کـرتـا ہـے 
جـو انـسان کو کامیـابـی تـو نہیـں دے دیـا کرتـا 
ہـاں مـگر کامیابـی حـاصـل کرنـے کیلئـے ڈٹـے رہنـے کا 
مـوقـع ضـرور دیـا کرتـا ہـے۔


وہ لوگ کتنے ظرف والے ہوتے ہیں


وہ لوگ کتنے ظرف والے ہوتے ہیں ناں, جو روز افسردہ ہونے کے باوجود رشتے نبھانے میں لگے رہتے ہیں


جانے وہ کس خیال میں آیا تھا میرے پاس

جانے وہ کس خیال میں آیا تھا میرے پاس
اک پھول میرے ہاتھ پہ رکھا،  چلا گیا__


تھوڑی دیر


تھوڑی دیر ذرا سا اور وہیں رُکتیں تو
سُورج جھانک کے دیکھ رہا تھا کھڑکی سے
ایک کرن جُھمکے پر آ کر بیٹھی تھی،
رُخسار کو چوُمنے والی تھی کہ.......! 
تم مُنہ موڑ کے چل دِیں اور بیچاری کرن
فرش پہ گر کے چوُر ہوئی
تھوڑی دیر، ذرا سا اور وہیں رُکتی تو ؟


وہ سرخ گلاب نہیں تھی

وہ سرخ گلاب نہیں تھی 
کہ ہاتھ میں آتے ہی 
پتیاں جھڑنے لگیں
رنگ پھیکا پڑجانے دے
اپنی مہک بکھر جانے دے
بلکہ وہ پیلا پھول تھی 
پرامن سی 
نہ اتنی شوخ کہ 
سب کو متوجہ کرنے لگے
نہ ہی اتنی ہلکی چاپ والی 
کہ اپنا احساس نہ دِلا سکے! 🌼