Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

جو لوگ دوسروں کے درد کی وجہ بنتے ہیں

جو لوگ دوسروں کے درد کی وجہ بنتے ہیں
پھر
ان کے درد کی دوا بھی نہیں ملتی💯

اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے کتنے قریب ہے

🌿اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے کتنے قریب ہے، تو سجدے میں کبھی "سبحان ربی الاعلی" کی سرگوشی کو اپنے دل کی دھک دھک کے ساتھ مطابقت کر کے دیکھنا، تم محسوس کرو گے کہ جس کا نام لے رہے ہو وہ تمہارے سامنے ہے، تمہیں دیکھ اور سن رہا ہے..🌸🍃


وہ انسان کیسا انسان ہوگا جو ہنستے ہنستے رونے لگتا ہو

وہ انسان کیسا انسان ہوگا جو ہنستے ہنستے رونے لگتا ہو
میں نے کیوں کیا خود کے ساتھ ایسا؟ 
یوں تو کوئی اپنے دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا 
سب سے زیادہ قیمتی اور اہم سب کے لئیے اپنی ذات ہوتی ہے نا ... مجھے خود سے آخر دشمنی کیا تھی
میں کبھی نہیں سمجھ پایا ... 
ایسے لگتا ہے جیسے میں نے خود بہت شوق سے
اپنے ہاتھ سے اپنی قسمت میں یہ سب لکھا ... 
وہ ہنسی کیسی ہنسی ہوتی ہے جب کِھلکھلاتے ہوۓ
آنکھوں سے پانی اُتر آۓ ... 
پھر بے بسی سے اپنے ہاتھ کا سہارا لیتے ہوۓ اپنے منہ کو چھُپا لینا پڑے .



میں نے آخری پرندے کو بھی آزاد کر دیا ہے

میں نے آخری پرندے کو بھی 
آزاد کر دیا ہے۔

مگر ابھی بھی غمگین ہوں 
خالی پنجرے میں کوئی چیز ہے 
جو آزاد نہیں ہوتی۔🔥


یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ آپکو پاکستان مبارک ہو

اللہ اکبر۔۔۔۔
وہ لمحات،  وہ گھڑیاں، 
جب 27 رمضان المبارک (13 اگست 1947) کو رات 11 بج کر 50 منٹ پر لاہور کے سرکاری ریڈیو اسٹیشن میں بیٹھے جناب مصطفی علی ہمدانی نے یہ اعلان کیا کہ 
" یہ آل انڈیا لاہور ہے. آپ اگلے اعلان کا انتظار کیجیئے." 
پھر جیسے ہی 14 اگست کی تاریخ چڑھی تو ٹھیک 12 بج کر 1 منٹ پر ہمدانی صاحب نے یہ اعلان کر دیا کہ 
"یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ آپکو پاکستان مبارک ہو۔"

تصور کیجیئے!  کیسے جذبات ہونگے اُن مسلمانوں کے جو اُس وقت ریڈیو پاکستان سُن رہے تھے۔ 
رونگٹے کھڑے کر دینے والے لمحات💚💚💚



وہاں بیٹھے ہوئے زندگی میں پہلی بار میں نے سوچا

وہاں بیٹھے ہوئے زندگی میں پہلی بار میں نے سوچا

کیا ضروری تھا کہ میں پاکستان فوج میں آتا --- اور اس قوم کے لیے ان پہاڑوں پر اپنے جسم کے حصوں کو باری باری خود سے جدا ہوتے دیکھتا --- جو یہ بھی نہیں جانتی کہ شہید یا غازی کا احترام کیا ہوتا ہے-

20 سال بعد جب میں بھی ایسے کسی سٹیج پر یہ بتانے جاؤں گا کہ میرے سینے پر ہاتھ کٹوا کر سجایا جانے والا یہ تمغہ میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے- - - - - تو شاید میں بھی کریم بخش کی طرح بات کرتے ہوئے لڑکھڑاؤں گا --- اور شاید میرے انٹرویو کے بعد بھی حاضرین اگلے کسی مہمان کے بجائے کسی سنگر کو بلوانے کی فرمائش کریں گے تاکہ اس بوریت کا سدباب ہو سکے جو انہیں چند منٹوں کے درمیان ہوئی---

میں کیوں پاکستان کی ان نسلوں کے لیے اپنا حال قربان کروں جن کے لیے ہر چیز گانے سے شروع ہو کر ناچنے پر ختم ہو جاتی ہے--

جن کے لیے ہر اہم تہوار چھٹی کا ایک اور دن اور ایک اور میوزیکل ایوننگ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا-

زندہ قومیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو بھلاتی نہیں ہیں مگر ان کے پاس ان قربانیوں کے لیے عزت نہیں ہوتی-

(ہلالِ جرات از عمیرہ احمد)


کوئ ہاتھ پکڑے گا تو تھام لوں گا

کوئ ہاتھ پکڑے گا تو تھام لوں گا

میں اب پہلی محبت کا رونا نہیں روؤں گا۔


آزادی کی سانسیں ان کے نام

‏آزادی کی سانسیں ان کے نام جو گمنام راہوں میں شہید ہو گئے، ان مسلمان عورتوں کے نام جنہوں نے کرب و بلا کے آسمان تلے کنویں کی منڈیر سے چھلانگ دی، ان بچوں کے نام جو آج تک نہ ملے، ان کے نام جو اسے بچانے کے لئے آج تک لڑ رہے ہیں اور انکے نام جن کی امید آج بھی مری نہیں۔

ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ ﭘﺮﮮ ﺗﮭﯽ

ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺩﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﮮ ﭘﺮﮮ ﺗﮭﯽ
ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻟﮑﮭّﻮﮞ

ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﻟﮍﮐﯽ ﺩﯾﺎﺭ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﺳﭻ ﮐﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ
ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻟﮑﮭّﻮﮞ

    

وہ لٹے پٹُے سے قافلے

وہ لٹے پٹُے سے قافلے
جو وطن بنا کر چلے گئے
جو نہ رک سکے. نہ جھک سکے

جو چمن سجاکر چلے گئے
ہمیں یاد ہیں ہمیں یاد ہیں۔