کسی انسان کو اس کے انتہائی کمزور پہلو سے مت توڑیں آپ صلاحیت کے چاہے جس درجے پہ بھی ہوں مکافات عمل اٹل ہے۔
ہم اظہار چاہتے بھی ہیں اور چھپ بھی جاتے ہیں۔
ہم اظہار چاہتے بھی ہیں اور چھپ بھی جاتے ہیں۔
ہم پذیرائی بھی چاہتے ہیں اور ڈرتے بھی ہیں۔
ہم لکھنا بھی چاہتے ہیں اور کسی کے پڑھ لینے سے خوف زدہ بھی ہیں۔
ہم اپنے دکھ، گلے شکوے، غموں کی کہانیاں سنانا بھی چاہتے ہیں اور خاموش بھی رہنا چاہتے ہیں۔
ہم اندر چیختی ہوئی چیخوں کا غبار نکالنا بھی چاہتے ہیں اور چپ بھی رہتے ہیں۔
ہم کامیاب بھی ہونا چاہتے ہیں لیکن محنت سے بھی بھاگتے ہیں۔
ہم پیسہ بھی کمانا چاہتے ہیں اور پھر کہنے سے شرماتے بھی ہیں۔
ہم چاہتے ہیں ہماری زندگی کی کتاب پڑھی
جائے اور لوگوں کے رد عمل سے گھبراتے بھی ہیں۔
ہم اپنے لیے عزت چاہتے بھی ہیں اور دوسرے کو دیتے وقت کم ظرفی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔
ہم حقوق مانگتے بھی ہیں اور فرائض سے آنکھ چراتے بھی ہیں۔
ہم چاہتے ہیں ہمیں اچھی نگاہ، آبرو کا لبادہ اوڑھایا جائے اوردوسرے کو بے پردہ بھی کرتے ہیں۔
ہم اچھے ہیں اور قابل ترس بھی ہیں۔
ہم برے ہیں اور بیچارے بھی ہیں۔
ہم خوف کی لپیٹ میں ہیں اور تیس مار خان بھی ہیں۔
ہم کھرے کردار والے ہیں اور منافق بھی ہیں۔
ہم ڈرپوک ہیں اور بہادری کا طمغہ بھی چاہتے ہیں۔
ہم حیا کی باتیں کرتے ہیں اور ردا کی اہمیت سے انکاری بھی ہیں۔
ہم دو سے چار چہرے رکھتے ہیں اور ہم دوسرے پہ انگلی اٹھاتے ہیں۔
ہم اکیسویں صدی کے رہنے والے انسان ہیں۔
میں نے اپنی زندگی سے یہ سیکھا ہے
میں نے اپنی زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ انسان کو کبھی بھی حساس نہیں ہونا چاہیئے ایک حساس انسان سب سے زیادہ مشکلات اپنی ذات کے لیے پیدا کرتا ہے ایسی ایسی باتوں پر گھنٹوں سوچتا اور روتا ہے جو شاید کسی نارمل انسان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں..
وقت انسان سے جو بھی چھینے
وقت انسان سے جو بھی چھینے، کم از کم اس بات کا فیصلہ تو کر ہی دیا کرتا ہے کہ کون تاریخ کے درست طرف تھا اور کون غلط طرف
آج کوئی بہت یاد آرہا ہے
آج کوئی بہت یاد آرہا ہے :-)
جہاں میں ہوتے ہیں ہم شکل سات لوگ اَگر
تمہاری شکل کے چھ اور پر بھی لعنت ہو
کوشش کریں ہمیشہ زندگی میں بد گمانی سے بچیں
کوشش کریں ہمیشہ زندگی میں بد گمانی سے بچیں،کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے ایک دفعہ لازمی تحقیق کر لیں کبھی کبھی انسان کا خود اپنی آنکھوں دیکھا بھی غلط ھو سکتا ہے
یاد رکھیں
بد گمانی ایک دیمک کی طرح ہوتی جو آپ کے تعلق کو"کھا جاتی"خوش رہیں اچھے گمان کے ساتھ .
لوگوں کو سوچنے سمجھنے کا وقت دیجیے ۔
لوگوں کو سوچنے سمجھنے کا وقت دیجیے ۔
انہیں آزادی دیجیے۔ انہیں خود سے دور جانے دیجیے
۔کسی سے یہ مت کہیے کہ خدارا میرے پاس رہو ۔
آپ بھکاری نہیں ہیں۔ انہیں بھٹکنے دیجیے
گھوم پھر لینے دیجیے ۔زندگی کے میلے میں
خود سے بچھڑ جانے دیجیے ۔ جو آپ کا ہے وہ لوٹ کے آپ کے پاس ہی آئے گا۔
لیکن لوٹنے کا فیصلہ خود اسے اس کی آزادی سے کرنے دیجیے ۔ جو آپ کے کہنے پر آپ پر احسان جتا کر یامجبور ہو کر رکا اس کا دل ہمیشہ باہر کی فضاوں میں بھٹکتا پھرے گا ۔ پس فیصلے کے چوراہے پر کھڑے راہی کو آواز دے کر مت روکو ۔ وہ نیم دلی سے آیا بھی تو تمہارا نہیں ہو گا ۔ اسے جانے دو تاوقتیکہ وہ پورے دل سے تمہارا ہونے کا یقین لے کر واپس لوٹے ۔
اس فیصلے تک پہنچنے میں گر اس نے دیر بھی کر دی تب بھی یہی بہتر ہو گا ۔ جسے قدر کرنا نہ آتا ہو اس کا کبھی نہ آنا ، بدیر پلٹنے سے بہتر ہے .
Subscribe to:
Posts (Atom)









