Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

آنکھوں میں دیکھ کر بھی وہ انجاں بن گئے

آنکھوں میں دیکھ کر بھی وہ انجاں بن گئے
ناآشنائی  میں  فقط  مانندِ  طفلاں  بن  گئے

میں پڑھتا رہا تمھیں اور پڑھتا چلا گیا
جو لکھنا شروع کیا  تم داستاں بن گئے

تیرے   جاتے  ہی  گلشن   سارا  ویراں  ہوا
تیرے آنے سے سبھی دشت گلستاں بن گئے

مخاطب  کیا  ہمیں  اس انداز  سے تم  نے
کہ شامِ اَلم میں بھی وجہ مسکاں بن گئے

دیکھ کر سرِ شام چراغوں کے سائے میں
کتنے  ہی  لوگ  میرے  رقیباں  بن   گئے

پوچھا جب بھی تمھارے گھر کا پتا ہم نے
پھر اپنے  ہی شہر میں  تم مہماں  بن گئے

ہمیں تو کہتے رہے تم ہمارے ہو طرف دار
آج  سب کے  سامنے ہی  حریفاں  بن گئے

ہم تو محفلِ یار سے چُپ چاپ نکلے تھے
پھر کیوں ہر کہانی  کا ہم عنواں بن گئے

اس آرزو میں کہ تیرے آستانے آیا کریں
تیری بستی کے  ہم پیغام رساں  بن گئے

مے خانے سے نکلے تم جو جام اُٹھائے ہوئے
تیری خوشبو کے پیچھے کئی کارواں بن گئے

ہوئے ہیں انجامِ اُلفت کچھ یوں بھی حماد
جو ساتھی نہ بن سکے  وہ سائباں بن گئے


پچھتاوے، پچھتاوے اور پچھتاوے


انسان ساری زندگی Guilt سے نہیں نکلتا کاش میں یہ کر لیتا تو یہ نہ ہوتا ۔۔ حسرتوں میں گھرا رہتا ہے
یاد رکھ لیں 
حدیث میں آتا ہے :
تم ان کاموں کی حرص کرو جو تمہارے لیے مفید ہیں (یعنی آخرت میں کام دیں) اور ﷲ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو اور جو تجھ پر کوئی مصیبت آئے تو یوں مت کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو یہ مصیبت نہ آتی، لیکن یوں کہو کہ ﷲ کی تقدیر میں ایسا ہی تھا جو اس بے چاہا، کیا
 اور اگر مگر کہنا شیطان کے لیے راہ کھولتا ہے۔ صحیح مسلم (6774)

تو پھر جو پیش آئے کیا کہنا ہے؟
جو کچھ بھی پیش آیا سب ﷲ کی تقدیر سے ہے۔

✨ جو بھی آج تک ہوا اسی میں خیر تھی بس ہم اسے figure out نہیں کر سکے۔۔
جنھوں نے کر لیا وہ سکون میں ہیں انکا تعلق ﷲ سے اور بڑھ گیا اور جو نہیں کر پائے وہ ابھی تک اس کی رحمت کو Taste نہیں کر سکے ۔
کیسی محرومی ہے یہ؟؟
 * بے سکونی کے ساتھ بھی ہم جی سکتے ہیں مگر * 
 _مطمئن رہ کر جینا سیکھیں_ 
 *یہی سکھانا مقصود ہے ۔*
 

ہر گُھومنے والے کو ایک گُھمانے والا ضرور ہوتا ہے

ہر گُھومنے والے کو ایک گُھمانے والا ضرور ہوتا ہے 
کچھ بھی خود با خود نہیں ہوتا
میں پاگل ہوں تو تم وہ وجہ ہو جس وجہ سے میں پاگل ہوں …
کچھ بھی بے وجہ نہیں ہوتا
کم سونا کم کھانا زیادہ سوچنا کم بولنا، 
میرے ہی ساتھ ہوتا ہے؟
کیا تمہارے ساتھ نہیں ہوتا؟
 ⁦♡ 

In Quran, Allah mention Hazrat Khizar as "His Slave" because this is the lowest rank in the eyes of the people and highest in front of Allah.

In Quran, Allah mention Hazrat Khizar as "His Slave" because this is the lowest rank in the eyes of the people and highest in front of Allah. 
Hazrat khizar broke the boat of poor people whom he had sought help, took life of a little boy and renew an old wall in a village where people were bashing them.  
For Hazrat Musa, these three are unusual activites done by his teacher. He was shocked and it was difficult for him to be patient. Hazrat Musa thought that he did injustice with all these people. He lost his patience and ask for answers. 
1. Hazrat Khizar broke the boat because it belongs to the poor people. He actually saved those people from the mighty king. 
-2. He killed the little child because he might turn into the wrost person of that time. But through his death, he will go to jannah without accountability and also became the source of Jannah for his parents. 
-3. He renew the wall because inside the wall there is a treasure of two little boys. 
Allah mentioned this particular story of Hazrat Musa so that we can learn something from it. 
1. Everything happens to us is the will of Allah and is beneficial for us. It may gives us pain and tears but we will be thankful to Our Lord on the day of judgement when He opens everything to us.
2. It's okay to loose patience sometimes. It's okay to ask questions from Allah. Being patient is difficult. We are simple human beings. Hazrat Musa is also curious about those unusual things. He also ask questions. It is also difficult for him to see the unjust behaviour of his master. But that unjust behaviour was full of blessings for those people. 
3. Do good to the people who needs it whether you know them or not, do good when they are doing bad to you. Do good even when they are not understanding your pure intentions. Hazrat Khizar broke the boat of people after taking help from them, and renew wall in the village where people are bashing them, killed the child of parents he even dont know (neutral case). 
4.Sometimes people are so close to Allah and still facing calamities but this is for their own good. Those calmities become the reason of their ranks in jannah. 
5. Name, ranks and education of this worls doesn't matter in front of Allah. Infact, it is the mercy of Allah. No matter, how much well educated we are, in this world, we are slaves of Allah. If we utilize the mercy of Allah in true and good manner, we can reach highest ranks in front of Allah.
P.S. This story in Quran is one of my favourites. I learned a number of lessons from this passage and i am literally short of words for some of them.


گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State)



سائنس میں ہم ایٹم کی ساخت کے حوالے سے اکثر یہ کہتے اور سنتے ہیں کہ ایٹم کی سب سے مستحکم حالت (Stable State) اسکی گراؤنڈ اسٹیٹ ہوتی ہے، جتنا یہ اپنے مرکز یعنی نیوکلیئر (Nucleus) سے نزدیک ہوگا، اور جتنا انرجی لیول کم ہوگا یہ اتنا ہی سٹیبل ہوگا، اسے مرکز سے توڑنے کے لیے اتنی ہی زیادہ انرجی دینی پڑے گی، باہر کے الیکٹرک اور میگنیٹک فیلڈ کا اس پر اثر نہ ہونے کے برابر ہوگا، مگر جونہی یہ کسی دوسرے الیکٹرون، نیوٹران یا روشنی کے ٹکرانے سے انرجی حاصل کرے گا تو یہ ایکسائٹڈ اسٹیٹ ( Excited State) میں چلا جائے گا، وہاں اس کے پاس انرجی تو زیادہ ہوگی مگر یہ اپنا استحکام (Stability) کھو دے گا، اور اگر یہ اپنے مرکز سے ٹوٹ گیا تو کوئی بھی الیکٹرک یا میگنیٹک فیلڈ اسے اپنی مرضی سے حرکت کرنے پر مجبور کر دے گا.


ایٹم کی طرح "ابن آدم" کا بھی یہی حال ہے، اس کی بھی سب سے سٹیبل سٹیٹ عاجزی اور انکساری ہے، اس کا سکون اسی میں چھپا ہے، جتنا یہ اپنے مرکز یعنی رب سے قریب ہوگا، اسے توڑنا اتنا ہی مشکل ہوگا، یہ دنیا کی شہوات اور فتنوں سے بچا رہے گا، اور اگر اپنے نفس کی خواہشات پر چلے گا، دنیا کی لذتوں میں الجھے گا، کسی کا حق مار کر اپنی دولت اور شان و شوکت بڑھائے گا تو بظاہر تو اسکو آزادی ملے گی مگر حقیقت میں وہ خواہشات کا غلام بن جائے گا اور دنیا اسے اپنے حساب سے چلائے گی.


لہٰذا عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے مرکز سے جڑے رہیے، حقیقی سکون اسی میں چھپا ہے.


اندھا آئینہ ⁦♡


"سنو تم اتنی خوبصورت ہو کہ اگر آئینہ تمہیں نظر بھر کے دیکھ لے تو تمہارے حسن کی تاب نہ لا کر اندھا ہو جائے"

وہ یہ سن  کر مسکراتے  ہوئے بولی!
 
"تمہاری آنکھوں میں محبت اتر آئی ہے۔ 
آنکھوں میں محبت کا موتیا اترے آئے تو اکثر آئینے اندھے ہو جاتے ہیں" ⁦♡ 


سونے سے پہلے،

سونے سے پہلے،
 اپنے پاس میسر خوبصورت چیزیں پہنیں،
 خوشبو لگائیں،
 اور اپنے کمرے کا ماحول اچھا کر لیں، 
کیوں کہ
 خواب میں آنے والے کچھ لوگ 
حقیقت میں ملنے والے لوگوں سے زیادہ مہمان نوازی کے مستحق ہیں۔🥀


میں دنیا کی تنہا ترین جگہ پر خوشی تلاش کرنے آیا تھا -

میں دنیا کی تنہا ترین جگہ پر خوشی تلاش کرنے آیا تھا -

کیا وہ مجھے مل گئی؟
اگر خوشی مجھے کسی ایک جگہ پر مل جاتی تو میں اتنا دربدر کیوں ہوتا؟
اتنا خوار کیوں ہوتا؟
اس ایک جگہ پر دائمی خوشی میں ہمیشہ کے لیے قیام کیوں نہ کر لیتا؟
اس لیے........ کہ خوشی کبھی نہیں ملتی _
وادی شمشال میں بھی نہیں _
دنیا کی تنہا ترین جگہ پر بھی نہیں _

تو پھر یہ کہاں ملتی ہے؟

اگر مجھے علم ہوتا تو اس مقام پر ٹھہر نہ جاتا..... یوں دربدر کیوں ہوتا؟
 "خوشی کی تلاش ہی دراصل خوشی ہے _ "
اور
 *یہ تلاش سانس کے آخری تار تک جاری رہتی ہے _
بس یہی خوشی ہے_* 🥀


Tomorrow isn't promised to Anyone so love and cherish people

🥀 Tomorrow isn't promised to Anyone so love and cherish people when they are alive because once they are gone there's nothing left except to regret.

 Go mend your friendships don't just say sorry make efforts to fix things. If you want end things don't do it on a hurtful note. Appreciate your loved ones. Compliment everyone because sometimes your words can be a motivation for someone. Don't just say, I am there for you prove it. 

Any moment can be a last minute of your life so live in a way that you live forever 🥀


* سوچو، تولو پھر بولو *


کہتے ہیں زبان سے نکلا ہوا لفظ کبھی واپس نہیں آتا خواہ وہ میٹھا ہو یا کڑوا۔ سننے میں یہ جملہ محض کچھ الفاظ پر مبنی ہے لیکن اگر ان لفظوں کی گہرائی کو تولا جائے تو یہ الفاظ بےحد بھاری اور اہمیت کے حامل ہیں ۔

 کبھی کبھار ہمارے کہے ہوئے الفاظ کس طرح کسی کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں ہم یہ  اندازہ لگانے سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ ہمارا مقصد محض لفظوں  کی تیراندازی رہ جاتا ہے۔ اکثر  لوگوں سے کہتے ہوئے سنا ہے کہ   جو ہمارے دل میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں، لیکن کیا  ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے الفاظ  کس طرح   تیر کی مانند جاکر کسی کے دل کو اس  قدر زخمی کررہے  ہیں ۔

 اگرچہ ہم صرف یہی سوچ لیں کہ اگر کوئی اس طرح کے الفاظ ہم پر استعمال کرے تو  اس کا اثر ہم پر کیا ہوگا تو ہم سخت الفاظ کہنے سے  باز رہیں ۔ 

ہوسکتا ہے ان بے جا جملوں کے بجائے کچھ نرم االفاظ استعمال کرلیئے جائیں تو کسی کا دن بن جائے یا اس کو امید کی کرن نظر آجائے  اگر  ہم لفظوں کا چناؤ بہترین  کریں تو شاید ہم میں سے بہت سے لوگ 'ڈپریشن اور اینگزائٹی' جیسی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ 

فقط کچھ لفظوں ہی کی تو بات ہے کسی کا حوصلہ پست کرنے کے بجائے حوصلہ افزائی کردی جائے تو کیا ہی بات ہے  ۔