Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

لوگ رزق کے لئے وظیفہ پوچھتے ہیں اور رزق کا سب سے بڑا وظیفہ تو قرآن میں اللہ نے خود بتا دیا ہے

ہماری معلمہ کہہ رہی تھیں کہ بہت سے لوگ رزق کے لئے وظیفہ پوچھتے ہیں اور رزق کا سب سے بڑا وظیفہ تو قرآن میں اللہ نے خود بتا دیا ہے 

لئن شکرتم  لازیدنکم 
سورہ ابراہیم آیت 7
اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمھیں اور زیادہ دوں گا 

اور ہم کیا کرتے ہیں کہ تقابل کرنے لگتے ہیں،  جو ہمارے پاس موجود یے اس پر شکر کی بجائے،  جو موجود نہیں اس کی حسرت میں مبتلا ہونے لگتے ہیں،  خود ترسی کا شکار ہونے لگتے ہیں 

بھلے وہ رشتے ہوں ، روپیہ پیسہ ہو ، صلاحیت ہو یا محبتیں ۔۔۔۔۔

ہم خود سے بہتر کو دیکھتے رہتے ہیں ، دوسروں کی خوش قسمتی پر رشک کرتے رہتے ہیں  اور جانے انجانے میں ناشکری کر جاتے ہیں ۔۔۔۔

برکت کا وظیفہ شکر گزاری یے 

مفتی صاحب کا بیان سن رہی تھی کہ لوگ پوچھتے ہیں آپ اتنا خوش کیسے رہتے ہیں ، کیا آپ کی زندگی میں  کوئی پریشانی نہیں ہے 
انھوں نے جواب دیا کہ ایسا بھی کوئی انسان ہو سکتا یے جس کی زندگی میں کوئی پریشانی نہ ہو
بس جو کچھ میسر ہے ، اس پر شاکر ہو جائیں تو خوش رہنے کا ہنر سیکھ لیں گے
جیسے کسی منزل ہر جانے کے لئے ہم کسی سواری پر سوار ہیں،  کسی کو بہترین جگہ ملی ہے  ، سب سے اگے ساز و سامان کے ساتھ من چاہی جگہ پر موجود یے ، کسی کو درمیانی جگہ ملی ہے اور کچھ کھڑے ہیں ، سیٹ تک نہیں ملی ۔۔۔۔
اترنا سب نے یے 
منزل ایک ہی یے 
بس مختصر سا سفر ہے 

جو  ہلکے پھلکے ہیں ، وہ  تو آرام سے اتر جائیں گے بلکہ خوشی سے اتریں گے کہ تکلیف میں کھڑے تھے ، آگے  شاید راحت ہو ،  سامان والے کا دل ساز و سامان میں اٹکا ہوا یے ، اس کے لیے اترنا مزید مشکل یے اور  اترنے کے لئے اسے سواری خالی ہونے تک کا انتظار بھی کرنا یے

اگر اپنی محدود عقل سے انسان کو ملی نعمتوں/رزق کی فہرست ترتیب دوں ۔۔۔ 

ایمان 
ھدایت
عافیت 
دل کا سکون ، مطمئن ضمیر 
صحت مند جسم 
نماز و دیگر فرائض کی پابندی 
رزق کریم 
سعادت مند اولاد 
دین کی محنت 
عمدہ اخلاق
محبت کرنے والے پرخلوص رشتے

ایسا تو نہیں ہوتا کہ کسی کو کچھ بھی حصہ نہ مل پایا ہو ، کچھ نہ کچھ نعمتیں سب کے پاس موجود ہیں،  ہمیں بس شکر ادا کر کے ان کو محفوظ کرنا یے اور شکر کے ذریعے برکات حاصل کرنی ہیں .

لوگ کہتے ہیں کہ جب انسان کو بہت زیادہ ٹھیس لگتی ہے تو وہ بے ساختہ کسی کےبھی سامنے رو پڑتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ جب انسان کو بہت زیادہ ٹھیس لگتی ہے تو وہ بے ساختہ کسی کےبھی سامنے رو پڑتا ہے یہاں تک کہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی لیکن میرا ماننا ہے کہ جب انسان حدسے زیادہ ٹوٹ کر کرچیوں میں بکھر جاۓ تو وہ خاموشی کا شکار ہو جاتا ہے یہ بات نہیں کہ وہ انسان منفی ہوجاتا ہے یا اپنے آس پاس کے لوگوں سے نفرت کرنے لگتا ہے بس وہ کچھ بولنا ہی نہیں چاہتا شاید اسکی وہ اذیت الفاظوں میں ڈھالی  ہی نہیں جا سکتی یا پھر یہ کہہ لیں کہ اسکی تکلیف اتنی زیادہ ہے کہ وہ بتانے سے قاصر ہے ہاں شاید وہ لوگوں سے امید لگا لیتا ہے پھر ٹوٹ جاتی ہے یا شاید اسکی کئ خواہشات ادھوری رہ جاتی ہیں لیکن نہیں وہ شاید اس سے بھی بھر کر کوئی تکلیف ہوتی ہے 


جب انسان پر چپ کا سایہ ہوجاۓ اور تو اور وہ انسان اللّٰہ کی رحمتوں سے مایوس بھی نہیں ہوتا دل لگا کر رکوع و سجود میں دن بسر کر دیتا ہے اب وہ اگلے انسان کو جتنا مرضی یقین دلا دے لیکن سب اسکی خاموشیوں کا مقصد مایوس ہو جانا سمجھیں گے انہیں کوئی سمجھاؤ کہ وہ اپنے آپ میں ایک بہت واضح جنگ لڑتے ہیں وہ بھی ایک گہری چپ کے ساتھ  اور ان کے وہ سارے اندر کے شور  صرف ایک ذات جانتی ہے بلکہ کچھ کہنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی وہ سب خود ہی سارا ماجرہ سمجھ جاتا ہے کیونکہ یہ  کیفیات صرف اسی کو سنائی جاتی ہیں  جب زمین والے اعتبار کے قابل نہ رہیں لیکن اب یہ بات ان سے کہہ دی جائے تب بھی مسئلہ ہے  کیا ایسا ہی ہے ؟ میرا مطلب آپ کبھی گزرے ایسی کیفیت سے ؟



ذات حق نے جب یہ دنیا بنائی تو اس میں لا تعداد قسم کی مخلوق پیدا کیں۔ اور ہر مخلوق کو کسی نہ کسی صلاحیت سے نوازا۔۔۔

ذات حق نے جب یہ دنیا بنائی تو اس میں لا تعداد قسم کی مخلوق پیدا کیں۔ اور ہر مخلوق کو کسی نہ کسی صلاحیت سے نوازا۔۔۔
ہم انسان اس کی بنائی ہوئی 'اشرف المخلوقات' ہیں۔ اور کیا جانتے ہو اس ذات نے ہمیں کس صلاحیت سے نوازا ہے؟ کس بنا پر ہمیں تمام مخلوقات پر برتری دی ہے ؟


'عقل'
آ پ کے اندر کا شعور ہی آپ کو انسان بناتا ہے ۔  کبھی تصور کیا ہے اگر ہم میں عقل نہ ہوتی تو ہم کیا ہوتے...؟ جانوروں کو اپنے سامنے چلتے پھرتےدیکھتے ہو؟ ان کی زندگی کا مقصد صرف کھانا، پینا اور مر جانا ہے ۔ اگر ہمارے پاس عقل نہ ہوتی تو ہم جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارتے۔ نہ ہم اچھا دوڑ سکتے ہیں ، نہ اڑ سکتے ہیں ایسے میں ہم چند سالوں میں ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے 

جبکہ وہ انسان جس کے پاس عقل ہے ، شعور ہے ۔۔۔ اس نے اپنی عقل کی وجہ سے کتنی ترقی کر لی ہے ۔ صرف عقل کی وجہ سے انسان اڑنا بھی سیکھ گیا، تیز دوڑنا بھی سیکھ گیا اور بھی کیا سے کیا ایجاد کر لیا انسان نے!آج دنیا نے کتنی ترقی کر لی ہے ۔۔۔
اس سے ثابت ہوا کہ عقل کتنا بڑا ہتھیار ہے !!!

کبھی اس بات پر بھی غور کیا ہے کیا ذات حق نے ہمیں عقل کیوں دی ہے ؟ کس وجہ سے اس نے ہمیں سب سے بہترین ہتھیار دے کر ہمیں اشرف المخلوقات کے عہدے پر فائز کیا ؟ پوری کائنات کی اتنی مخلوقات میں سے سب سے بر تر ہمیں کس لیے بنایا ?
الله نے انسان کو شعور دے کے اس دنیا میں چھوڑ دیا اور اس دنیا میں جو بھی چیز الله نے تخلیق کی اس میں اپنی قدرت کی نشانی رکھی کہ انسان اپنی عقل سے اس نشانی کو پہچانے، اس پر غوروفکر کرے اور اس کے ذریعے وہ اپنے رب تک پہنچ جائیں۔

کیا تم نے کبھی چاند ، ستاروں سے پوچھا ہے ؟کہ وہ صدیوں سے اس قدر نظم وضبط کے ساتھ کیسے چل رہے ہیں؟ 

کیا تم نے کبھی دن کو رات کی چادر اوڑھتے ہوئے غور سے دیکھا ہے ؟اتنی روشنی ہوتے ہوئے اندھیرا کیسے چھانے لگتا ہے دن کیسے رات میں بدل جاتا ہے ،؟

کیا تم نے کبھی رنگ برنگی پھولوں اور تتلیوں کی ساخت پر غور کیا ہے ؟ ان میں کس قدر مہارت سے رنگ بھرے گئے ہیں ۔۔۔

کیا کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ زمین میں صرف پانی ڈالنے سے پھل اتنا میٹھا اور زائقہ دار کیسے ہو جاتا ہے ؟ جبکہ پانی تو بلکل بے زائقہ ہوتا ہے
کیا کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ایک چھوٹے سے بیج سے اتنا بڑا درخت کیسے بن جاتا ہے ؟ اور وہ سالوں وسال پھل دیتا رہتا ہے
کیا کبھی کسی بے جان چیز میں زندگی کو مسکراتے دیکھا ہے ؟ وہ جان کیسے آ جاتی ہے اس چوٹھے سے گوشت کے لوتھڑے میں ؟
سب سے بڑھ کر اپنے آپ پر متوجہ ہوئے ہو کبھی؟ اپنی تخلیق پر غور کیا ہے ؟ کیسے ان چھوٹی سی، بلکل چھوٹی سی آنکھوں سے آپ پوری کی پوری دنیا دیکھ سکتے ہو ۔ زرا اپنے جسم کی تخلیق پر غور کرو ہر چیز کیسے اپنی جگہ پر بہترین طریقے سے فٹ ہے 
اپنے آپ میں کہیں پر بھی کوئی عیب نظر آتا ہے ؟ کہ یہ چیز اس جگہ نہ ہوتی اس جگہ پر ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا... ملتی ہے کوئی کمی؟ 

غرض کہ اس کی پیدا کردہ ہر چیز میں کوئی نقص نظر آتا ہے ؟ دوبارہ دیکھ لو، آتا ہے۔۔۔؟
نہیں نا! کیوں کہ وہ خود فرماتا ہے کہ ایسا کرو گے تمہاری نظر تھک ہار کر تمہاری طرف ہی لوٹ آئے گی مگر تم کوئی نقص تلاش نہیں کر سکو گے۔۔

تو کائنات اوراس میں چھپی ہر چیزکی گواہی سنو!  سنو ان کا شور جس میں وہ چلا چلا کر کہ رہی ہیں کہ ان کو اس قدر مہارت اور خوبصورتی سے بنانے والا کتنا اعلیٰ مصور ہے۔
ہر اس چیز کی گواہی کی وجہ سے ہی تو اس کا نام ' الظاہر' ہے۔ جسے چاہے دیکھنے کی حس دے دے!ورنہ تو وہ 'الباطن' ہے۔۔۔ چھپا ہوا! جسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔



Came alone in this world and would go alone. This life, more appropriately is like a train journey,

Came alone in this world and would go alone. This life, more appropriately is like  a train journey, where many people gives you temporary company but everyone leaves when their destiny comes
 Only you are left there for yourself till the end.. This journey of life Full of ups and downs and hardships which is destined for you, only you are responsible for them.
So why fear Hardships? 
The Support you look around for yourself when you are in need is there within you..
Yeah ,
"That powerful human Is dwelling Inside Us"
All we need to do is just give it wake up call by letting yourself face the unfavorable conditions, the Miseries of this life, the hardest tasks. Test your patience to its fullest and let your potential grow
Yeah that's the way to bring out that fear free, courageous Version of yourself.
Then why fear being alone when you know ALLAH ALMIGHTY Is there to help you but only then when you yourself wanna come out of that difficulty strongly and patiently 💫
Be thankful for the hard times, as they make you
Reveal your stronger side.
Be grateful to it as it bring out the better version outta you
Don't fear Hardships, they test your potential, Increase your threshold level of bearing pain.
And for those who remain patient during the harsh times and have faith in ALMIGHTY ALLAH and find it as opportunity, It definitely bring out the best in them.


G R E Y. ☘

R E Y.  ☘
Smudge. All around you , you carried. My lungs choked out soot. I tried to help you to get you out of it. But it was contagious. It turned me grey. Your ashy world did no good to me.

R E D. 🌹

Intensity. Your Lips. Secobarbital. A drug i had never known. A sedative that soothes the burgundy marks on my soul , wounds your love has given , secured forever in the beats of my heart.

B L U E.🌀

Depth. Your loyalty. I'm still trying to figure beneath your multiple layers. And your eyes , refreshing blue , tranquilizing the crimson rage within me. Lulling my demons back to sleep. 

P I N K. 🌺

Romance. A tint I'm alien to. A shade you never colored me with. Affection , i wonder how it stays for long. 60 seconds  of your affection coequal to 60 years in my world.

O R A N G E.🍁

Endurance. You said , autumn leaves were weak and unwanted. Hence , trees threw them to wind. Orange was never weak. It spoke of strength and power. It screamed independence.I'm grateful you painted me the most.



میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا
اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی
اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا
اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اُس کا رخ ماہتاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا
بولتا تھا زباں خوشبو کی
لوگ سُنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے
سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ
سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا
ایک دریا نما سراب تھا وہ
خواب یہ ہے ، وہ حقیقت تھا
یہ حقیقت ہے ، کوئی خواب تھا وہ
دِل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح
صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ
اپنی نیندیں اُس کی نذر ہوئیں
میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا
دِل کے خیمے میں رات کرتا تھا
رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
یہ مگر دیر کی کہانی ہے
یہ مگر دُور کا فسانہ ہے
اُس کے ، میرے ملاپ میں حائل
اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے
اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی
دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے
کیا خبر ، اِن دنوں وہ کیسا ہے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا۔ ۔ 🥀🥀
محسن نقوی


میں کس پے لکھوں اور کس کے لیے لکھوں اور کیا کیا لکھوں میں اگر چو طرف نظر گھماؤ تو مجھے اپنے معاشرے میں ہر ایک مسئلہ دوسرے مسئلے سے بڑا نظر آتا ہے

میں کس پے لکھوں اور کس کے لیے لکھوں اور کیا کیا لکھوں میں اگر چو طرف نظر گھماؤ تو مجھے اپنے معاشرے میں ہر ایک مسئلہ دوسرے مسئلے سے بڑا نظر آتا ہے,, پھر ہزاروں سوال اٹھائے جاتے ہیں, یہاں عورت کیوں محفوظ نہیں یہاں ہماری چھوٹی بچیاں کیوں محفوظ نہیں ؟؟؟ اور 

کبھی عورت کی اچھلتی ہوئی عزت ہے تو کبھی مذہب کے نام پے لڑتے ہوئے لوگ تو کبھی ایک کرسی کے پیچھے بھاگتے ہوئی لوگ نظر آتے ہیں 
تو کبھی رشتے داریوں میں خون کرنے والے مل جاتے ہیں اگر آپ بھی دیکھیں تو آپ کو بھی یے مسئلے نظر آئیں گے اور اس سے کئی زیادہ ہونگے آپ لوگ مجھے بتائے وہ کونسے قسم کے لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے میں نہیں پائے جاتے. ؟؟

یہاں درندگی عام ہے, یہاں عزتیں نیلام کرنا عام ہے, یہاں لڑنا جھگڑنا عام ہے کیا ہے وہ جو نہیں ہے یہاں...!! پر ہم رائٹرز کیا کیا لکھ سکتے ہیں! کس کس مسئلے پے لکھیں لکھنے کو تو ہم ہزاروں کتاب لکھ سکتے اس معاشرے پے پر کیا فائدہ 

کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ یہاں نہ کل کسی کی سوچ بدلی تھی اور نہ آج اور نہ کبھی بدلے گی ہم جیسے ہزاروں مصنف آئیں گے لکھیں گے اور چلے جائے گے اس قوم کا تو کچھ ہونا ہی نہیں ہے

 پاکستان اسلامی ملک ہے ناں, اسلام کے نام پے بنا تھا ناں, اور ہمیں اسلام کیا سکھاتا ہے یے تو سبھی جانتے ہونگے, کسی کی عزت ناں اچھالو, ایک دوسرے کے ساتھی بنو ایک دوسرے کا حق نا کھاؤ سب کو اپنے حق دو ہر ایک کے ساتھ انصاف کرو یہی ہے ناں
تو٬ ہم کیا کر رہے!!؟؟ 

سرے عام لڑ رہے, لوگوں کے حق مار رہے, رشوت الگ سے, عزتوں کو پامال کر رہے ہیں ہم کیا کر رہے ہیں  اور ہمارے حکمران ؟؟ وہ کیا کر رہے ہیں 

ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں یے کرسی میری ہے, میری ہے

اپنی قوم کو دیکھ رہے!؟ کہ انہیں کونسی ضرورت ہے یا کسی کے ساتھ انصاف ہو بھی رہا ہے یا نہیں بس لگے پڑے کرسی کے پیچھے غریب عوام خاموشی سے مر رہی ہے, یہاں ہمارے حکمرانوں کو ذرہ برابر پرواہ نہیں 
آخر کونسے دؤر میں جی رہے ہم
کوئی مجھے بتائے گا 

یا ہم میں خوف خدا رہا ہی نہیں بے حس بن گئے ہیں ہم انسان صرف اپنے نفس کے غلام بن کے رہ گئے ہیں  ہم لوگ اس دنیا میں اتنے گم ہوگئے ہیں کے ہم یے بھول ہی گئے ہیں کہ ہمیں روز محشر اس پروردگار کو جواب بھی دینا ہے پر نہیں 

کبھی خود سے ہٹ کے کچھ سوچا ہی نہیں کسی کے لیے کبھی سوچا ہے نہیں ناں یے وہ دؤر ہی نہیں جہاں اپنے سے پہلے دوسروں کا سوچنا پڑے یہاں بس پہلے ہم بھاڑ میں جائے سب ۔



I've always been listening Quran that it is the best book, the KAlAAM OF ALLAH and the inspiration of all ummah

I've always been listening Quran that it is the best book, the KAlAAM OF ALLAH and the inspiration of all ummah. We believe on it without questioning it because it's a part of our faith. It is said that 'Quran is a Miracle'. Because when you are reciting the Holy Quran just for the sake of virtue, it enhances one's faith on itself. Such incidents happen with me as well. Whenever I have any kind of difficulty in my life, Quran helps me like a friend. It listens to me, understands me and suggest me the best solution. 


         About 2 years ago, I was confused whether I should start doing Veil or not. All of my friends used to do veil (they do veil now as well). Whenever I used to look at them, I used to feel proud that I have a good company. But when it comes about me, I never had experienced veil. I wondered about the veil that why should I start veil. I used to think that I can't breath under the veil. I had a lame excuse 'Muje garmi lagti hai bhae.' Then I came across the Verse about veil (Surah Noor; Ayat number 31). Then I think that if Quran is the KAlAAM OF ALLAH and Allah has to pass/fail me on the day of judgement, I should do what He is saying to me. That time I decided to start doing veil. It doesn't matter what others are saying about my veil. I'm going to start it. I made a decision and stuck to it. It's not easy to stuck to your words. Sometimes, I think to stop doing veil. But when I recall the Quranic verses or the day of judgement (as described in Quran), it gives me courage to go with the confidence. Quran gives me the assurance that on the day of judgement, I will not be empty handed. Maybe, doing veil in this world will cover my sins (being done intensionally or unintentionally) on the day of judgement.


     I believe that Quran is actually a miracle. It changes life and it makes you think that it is all about you, about your story and advise you the best thing. That's the most beautiful thing about Quran.  



اکثر پڑھتے سنتے ہیں کہ لوگ دعا دیتے ہیں کہ اللہ آپ کو عمر خضر عطا فرمائیں یا لمبی زندگی دیں یا تا قیامت سلامت رکھیں ۔

اکثر پڑھتے سنتے ہیں کہ لوگ دعا دیتے ہیں کہ اللہ آپ کو عمر خضر عطا فرمائیں یا لمبی زندگی دیں یا تا قیامت سلامت رکھیں ۔۔۔۔


اس کی بجائے ہہ کہنا چاہیے کہ اللہ آپ کو عافیت و برکت والی لمبی عمر عطا فرمائیں،  زندگی میں صحت ، عافیت اور برکت نہ ہو تو ایسی طویل عمر کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتی 


اپنے والدین اور پیاروں کے لئے بھی ہمیشہ یہی دعا کیجئے کہ اللہ عافیت و برکت والی طویل عمر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔


چھوٹی بیٹی کا محبت کرنے کا انداز تھوڑا جذباتی ہے ، ایک دن کہنے لگی میں جب سکول سے آ رہی ہوتی ہوں تو سوچتی ہوں میرے ماں ابو کو کبھی کچھ نہ ہو تو میں سارا رستہ دعا کرتی ہوں یا اللہ ماں ابو کو infinity years لائف دیں ۔۔۔
پھر اسے درست طریقہ سمجھایا - 



 لمبی عمر میں عافیت اور برکت نہ ہو تو جینے والوں کے لئے بھی آزمائش بنتی ہے اور اکثر دعا مانگنے والوں کے لئے بھی کہ جس کی طویل عمر کہ وہ دعا مانگتے رہے ، اسے کسی آزمائش ہا بڑھاپے کی تکلیف میں دیکھنا بذات خود کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا !!


استخارہ کیسے کریں۔

کوئی لاڈ اور ناز کے انداز میں اللہ سے مانگتا ہے ۔۔۔۔
کوئی چھوٹے بچے کی طرح  ضد کر کے  مانگتا ہے ۔۔۔۔
کوئی ادب اور بہت عاجزی کے ساتھ مانگتا ہے ۔۔۔
اور کوئی مکمل خود سپردگی کے ساتھ ۔۔۔۔

اللہ سے محبت کرنے کا ، مانگنے کا انداز ہر ایک کا جدا جدا ہے 
اللہ کو سب پر پیار آتا ہے ۔۔۔۔

اللہ سب مانگنے والوں سے ، ان کے انداز سے محبت کرتے ہیں 
جس چیز کو اللہ ناپسند فرماتے ہیں وہ ہے نہ مانگنا ، یا اگر مانگیں بھی تو  مایوسی اور ناامیدی کے ساتھ ۔۔۔۔

کوئی اس خالق دو جہاں سے بھی مایوس ہو سکتا ہے ۔۔۔

اسی  سے مایوس ہو گئے تو کدھر جانا ہے  ؟ 

جس کے دینے میں بھی حکمت 
اور نہ دینے میں بھی حکمت ۔۔۔ 
جس کے بروقت عطا کرنے میں بھی محبت 
موافق وقت تک انتظار کروانے میں بھی محبت 
ہمارا کام تو بس مانگنا ہے ۔۔۔۔۔

کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے میں بھی لاڈ سے ، ضد کر کے اللہ سے مانگوں لیکن کیا کروں کہ میں بہت بزدل ہوں ، سب مانگ لیتی ہوں، عافیت،  آخرت ، ایمان پر خاتمہ ، برکت ، خیر ، اللہ کی رضا و محبت،  آسانیاں 

لیکن جب دنیا کی کوئی خاص چیز مانگنے لگتی ہوں تو خواہش کرتے ہوئے  ڈر لگتا ہے، نجانے اس میں میرے لئے خیر چھپی ہے یا شر ۔۔۔۔

 اللہ مجھے وہ دیجئے گا جو میرے لئے اچھا یے ، دعائے استخارہ مجھے بہت پیاری لگتی ہے ، اسی کے ذریعے مانگ لیتی ہوں 

آپ جانتے ہیں،  میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔۔
جو اچھا ہے وہ مجھے دے دیجئے ، برکت کے ساتھ ۔۔۔۔۔
جو میرے حق میں اچھا نہیں اسے دور کر دیجئے،  دل سے اس کا  خیال تک بھی نکال دیجئے اور مجھے جو دیا اس سے میرے دل کو  راضی کر دیجئے ۔۔۔۔۔

بس پھر مجھے سکون مل جاتا ہے،  خواہش کو دبا کر ، خود کو مکمل اللہ کے سپرد کر کے جو طمانیت ملتی ہے ،  وہ مجھے ضد کر کے کچھ مانگنے سے نہیں مل سکتی ۔۔۔۔

ہر ایک کی اپنی طبیعت اور انداز ہوتا ہے ۔۔۔۔ کچھ لاڈ سے اپنی عرضی پیش کرتے رہتے ہیں اور پیچھے پڑ کر ،  منوا  کر ہی دم لیتے ہیں ، ان کو اس میں لطف آتا ہے - 

ہاجرہ کی پیدائش پر میری  والدہ کی عمر کی آپا جو مجھے بہت عزیز ہیں،  ساری عمر انھوں نے  دین کی خدمت میں گزار دی ، کچھ دوسری خواتین  کے ساتھ ہاجرہ کو دیکھنے آئیں،  کسی خاتون  نے کہا عائشہ کا بھائی آتا تو دو بھائی  ہو جاتے ، چلو اب دو بہنیں ہو گئیں ، یہ بھی اچھا ہے ۔۔۔۔۔

میں نے تو کبھی بیٹے یا بیٹی کی دعا نہیں کی ، بس یہ کہتی ہوں کہ اللہ جو میرے حق میں زیادہ بہتر ہے،  وہ مجھے عطا کر دیجئے ، آپ جانتے ہیں اور میں نہیں جانتی ۔۔۔۔

آپا کہنے لگیں اولاد نرینہ بھی مانگنی چاہئے ،  ہمیں سکھایا گیا ہے ، اللہ سے بہترین مانگنا چاہئے ، اللہ کے سب خزانے ہیں ، خوب مانگو 

جانتی ہوں آپا ، لیکن مجھے اس طرح زیادہ  سکون ملتا ہے ، سب کچھ اللہ کے سپرد کر کے ۔۔۔۔

ویسے تو دعائے استخارہ کسی اہم فیصلے کے وقت مسنون طریقے کے مطابق پڑھی جاتی ہے اور اس کی برکت سے  دل خیر کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور خیر کا راستہ آسان ہو جاتا ہے لیکن اس کا ایک اور فائدہ بھی ملا ،  قرآن کلاس میں ایک بار ہماری ٹیچر نے ہمیں مفتی تقی عثمانی صاحب کے حوالے سے بتایا کہ اگر ہر نماز کے بعد دعا ئے استخارہ پڑھ لی جائے اور دو نمازوں کے درمیانی تمام کام اللہ کے حوالے کر دئیے جائیں تو  تو اللہ ہاتھ پکڑ کر ہر کام کروا  دیتے ہیں 

تب سے الحمدللہ یہی معمول ہے ، ہر نماز کے بعد 
یا صبح شام تو ضرور 

ھذاالامر پڑھتے ہوئے سارے کام تصور کر لیتی ہوں کہ جو بھی کام شام تک مجھے پیش آئیں ، ان سب میں مجھے کافی ہو جائیں،  بہترین کی طرف میری رہنمائی فرما دیں ۔۔۔۔۔

بھانجا آئی ایس ایس بی کا ٹیسٹ دینے گیا ، خالہ دعا کیجئے گا سیلیکٹ ہو جاوں 
میں یہ دعا کروں گی کہ اگر آپ کے حق میں بہتر ہے تو آپ سیلیکٹ ہوں 
بولا آپ یہ بھی تو کہہ سکتی ہیں کہ سیلیکٹ ہو جاوں اور یہ سیلیکشن میرے حق میں اچھی ثابت ہو - 
ایسا نہیں مانگ سکتی نا ۔۔۔
ایمان کی کمزوری ہے ، اس نے مذاق سے کہا 
جو بھی سمجھو ۔۔۔ بزدلی کہہ لو ، وہم ہوتا ہے کہ پتہ نہیں جو دل کی خواہش ہے اس میں میرے لئے  خیر ہے یا شر ، ایسے اطمینان حاصل یو جاتا یے 

دعا جیسے بھی مانگی جائے ، خوب مانگی جائے ، دعائے استخارہ کو زندگی میں شامل۔کرنے سے اللہ بہترین کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں،  دل بھی پرسکون ہو جاتا ہے ، مجھے اس دعا سے  الحمدللہ بہت فائدے ملے ، ہر جگہ الحمدللہ  بہترین لوگ ملے ، دین میں معاون اور پھر بچوں کے ٹیچرز ، فرینڈز یہاں تک کہ گھر کے ہیلپرز تک بہت اچھے ملے ،کئی بار بظاہر لگتا ہے فلاں چیز ہمارے لیے شائد اچھی ثابت نہیں ہوئی  لیکن اس میں سے بھی  بعد میں الحمدللہ خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔