Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

شکار آتا ہے قدموں میں بیٹھ جاتا ہے،



شکار آتا ہے قدموں میں بیٹھ جاتا ہے،
ہمارے پاس کوئی جال وال تھوڑی ہے! 



کہیں جانا نہیں ہے

کہیں جانا نہیں ہے
بس یُونہی سڑکوں پہ گُھومیں گے کہیں پہ سگنل توڑیں گے کِسی کی راہ روکیں گے
کوئی چِلّا کے گالی دے گا کوئی ھارن بجائے گا ذرا احساس تو ھو گا کہ زندہ ھیں
ہماری کوئی ہستی ہے..



اللہ ہمارے انتظار کے لمحات کبھی ضائع نہیں کرتا..

اللہ ہمارے انتظار کے لمحات کبھی ضائع نہیں کرتا.. 
ہم لوگوں کے ہمیں بیچ راہ میں اپنا بنا کر چھوڑنے پر تو اللہ کے آگے رو سکتے ہیں.. 
مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے کتنی ہی نمازیں, دعائیں انہی لوگوں کے لئے اپنے رب کی بارگاہ میں ادھوری اور کبھی کبھی مکمل چھوڑ دی تھیں..
لوگوں کا کیا ہے انہوں نے کسی نا کسی بہانے میں آ کر چھوڑ ہی جانا ہے.. 
اللہ ہے نا.. 
وہ کبھی نہیں چھوڑتا.. 
نہ درد میں..
نہ تکلیف میں.. 
وہ تھام لیتا ہے.. 
وہ کافی ہے نا....



ام الیقین

''تم کیا کرنا چاہتی ہو دبیسا؟تمہاری باتوں پر یقین کر لینے پر بھی ہمارا نصیب نہیں بدلے گا۔''
    ''ہمیں نصیب نہیں بدلنا، ہمیں اپنے یقین کو ام الیقین کرناہے۔''
    ''ام الیقین....''
    ''یقین سے بڑھ کر یقین۔نفرت کی سب نشانیاں ملنے کے باوجود، خدا کی ''محبت'' پر یقین۔قہر کی سب علامتیں دکھائی دینے کے باوجود اس کے رحم پر''یقین''۔ہماری بیماری کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی ، ساری دنیا کے کہنے کے باوجود'' اس کی شفاء'' پر یقین۔''جو زمین پر نہیں ہوتا، وہ آسمان سے ہوتاہے، صرف رب کے حکم سے ہوتاہے۔اس شہادت پر ''یقین''۔''

-ام الیقین



ایک دھاگے نما 5cm کی کسی چیز کو اگر ایک مائیکرو سکوپک چیز کے اندر ڈالنے کا کہا جاۓ تو یقیناً آپ کو مشکل پیش آۓ گی ۔

ایک دھاگے نما 5cm کی کسی چیز کو اگر ایک مائیکرو سکوپک چیز کے اندر ڈالنے کا کہا جاۓ تو یقیناً آپ کو مشکل پیش آۓ گی ۔


   لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے سیلز میں جو نیوکلییس موجود ہے اس کے اندر ایک دھاگا نما چیز جو کہ 5cm کا ہے موجود ہے جس کو ہم DNA کہتے ہیں جو کہ ہمارے مکمل جسم کی معلومات اپنے اندر رکھے ہوۓ ہوتا ہے۔ 
آپ کو یہ جان کر ذیادہ حیرانگی ہو گی کہ یہ کس خوبصورتی اور طریقے سے اس میں موجود ہے۔


قدرت نے اس کو ایک چھوٹے سے  سیل جو کہ انسانی آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا اس میں رکھنے کے لیے جو نظام بنایا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کئ طرح سے ایک دوسرے کے اوپر لپٹا ہوتا ہے یعنی کے coiling ہوئی ہوتی ہے ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کون سی چیز ہے جو اسے اتنی مضبوطی سے کوائل کر کے رکھتی ہے؟


          تو وہ چیز اس میں موجود histone protein ہے ۔ DNA بڑی خوبصورتی سے اس کے اوپر کوائل ہوا ہوتا ہے اور ہر آٹھ histone protein کے اوپر DNA دو بار کوائل ہوا ہوتا ہے۔ اب یہاں یہ بات آتی ہے کہ DNA اور histone protein آپس میں کیسے اتنی مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹے سے سیل میں بھی آ جاتا ہے ۔ تو یہاں پھر ہمیں کچھ فورسز دیکھنے کو ملتی ہے جو انکو تھام کے رکھتی ہے ۔جیسے کے آپ جانتے ہیں کہ 
"opposite charges attract each other"
تو ان میں  بھی کچھ ایسے ہی چارجز موجود ہوتے ہیں DNA پر Negative اور پروٹین پر Positive جو ان کے اتنی مضبوطی سے تھام کے رکھتے ہیں۔

یقیناً اللّٰہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں اللّٰہ کے ایک "کن" پر وہ سب کچھ ہو جاتا ہے جو ہمارے وہم و گماں میں بھی نہیں ہوتا۔ 

ذرہ سوچے کے جس نے ہمارے جسم کے اندر اس ایک چھوٹی سی چیز کو اتنی خوبصورتی سے رکھا ہے اس نے ہماری زندگی کتنی خوبصورت لکھی ہو گی پر ہم اسے بس بےبسی اور ناامیدی کی اندھی کھائیوں میں دھکیل رہے ہے ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس رب نے ہمیں بنایا ہے اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ وہ تو بس ہمیں آزماتا ہے تا کہ ہم اسے پہچانے اور اس کے قریب ہو اور اس کی ان بے پناہ نعمتوں کا شکر کرے۔
    پر ہم ناشکری کے ایسے عالم میں ہے کہ اگر وہ نواز دے تو اسے بھول جاتے ہیں اور اگر نا دے تو گلے شکوے کرتے ہیں۔ 



Every soul has a healing process .Everyone has a power to heal no matter how many difficulties they have faced

Every soul has a healing process .Everyone has a power to heal no matter how many difficulties they have faced. Healing is a slow and steady process it demands patience .If you get an injury ,your cells heal slowly after months, new cells forms but left a mark in your skin that takes time to merge with skin same as with mental health .If you have faced a tragedy that killed you , left nothing behind you and things are not working at all.Lost yourself .Lost yourself in ungratefulness , tears and in blaming others for your own faults.
Then , a process of healing touched your soul .You start correcting your faults.Your  ungratefulness converted into thankfulness when you learned from this time .Your mind take time to accept what happened to you. Then a time comes you start getting close to Allah , because He is the healer of broken hearts and souls.He will heal you.He will give you the chance to see life with different aspects. He will not judge you.He will not count what you have done .He just heal you as the why you wanted to be ,because He is the most merciful .


In the end, your body ,mind and soul heals and you get what you desire for , which lost you , break you,but He gives you in the right time and He knows better. Your life getting better after all. You lost in the colourful life but never forget Him, never forget the one who heals you inside out.
Remember Him, Never lost the connection that you have built-in this time .It's a treasure for you. You never want to lose your life line; because You will never live without it.So, Allah is your life line.Keep Him very close. He will guide you the right path.The path of trueness. This time of life will be best for you when you find Him, when you are lost, broken and your path was unknown.


As Quran said:
" There is no God but you, glory be to you , i am wrong .( 21: 87)



بس اپنے پیارے اللہ تعالی جی پر کامل یقین رکھیں وہ دینگے وہ ہی عطا کرینگے

تو بس اپنے پیارے اللہ تعالی جی پر کامل یقین رکھیں وہ دینگے وہ ہی عطا کرینگے کیونکہ انکے علاوہ نہیں کوئی ذات اس قابل جو آپکی دعا,  التجا اور فریاد نا صرف سنے بلکے اسے بہت چاہت , مان اور آپکے غرور اور یقین کے ساتھ آپکی جھولی میں وہ تمام چیزیں عطا کر دیتے ہیں جو آپنے تھک کر مایوس ہو کر مانگنا بھی چھوڑ دی تھی اور تب آپ حیران رہ جائینگے کہ اللہ تعالی جی یہ تو میں نے مانگنا بھی چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالی فرمائینگے میرے بندے میں تو تیرا صبر آزما رہا تھا اور اب تیرا امتحان ختم اور صلہ ملنے کا وقت شروع اب دیکھ میں تجھے کیا کیا کس کس وسائل سے عطا کرتا ہوں کہ تو حیران رہ جائیگا اور جب کن فیکون کی ہوا میں نے چلا دی تو تیرا  سر سجدے سے نہیں اٹھےگا.. 

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو یقین اور امید کے ساتھ اپنے اللہ تعالی سے ملاقات کرتے ہیں اور عطا ہو جانے پر بھی خوشیوں میں مگن ہو کر اللہ تعالی کو نہیں بھولتے...اور اگر خوشیاں ملنے پر اور زندگی سے مطمئن ہونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتے تو پھر مالک کے ساتھ بےوفائی ہے. اللہ تعالی ہم سب کو یقین اور صبر کی طاقت عطا فرمائے اور ہمارے معاملات آسان فرمادیں آمین ثم آمین یا رب العالمین. 




رات کا آخری پہر تھا..رات بھی پہلی نہیں نا جانے اس رات کی طرح کتنی راتیں جاگ کر گزاری تھیں اس نے..

رات کا آخری پہر تھا..رات بھی پہلی نہیں نا جانے اس رات کی طرح کتنی راتیں جاگ کر گزاری تھیں اس نے..ایسی ہی تھی وہ خود الجھتی تھی.. خود ہی اس ڈور کو سلجھا لیا کرتی تھی..یہ پہلی بار تھا.. ایک سرے کو پکڑتی تھی تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا تھا.. سوچوں کا ایک لا محدود سمندر.. کہانیوں میں ہوتی ہیں ایسی لڑکیاں..جو آج بھی محبت کو نفس کا بہکاوا سمجھ کر صحیح،غلط..جائز،ناجائز ..گناہ اور جزا کے بیچ ایک دلدل میں پھنسی رہتی ہیں.. مگر وہ تو حقیقی زندگی کا ایک اصل کردار تھی..جس کو یہی خوف کتنی راتیں بے چین رکھتا تھا کہ وجود کی محبت میں ایک قدم آگے بڑھے گی تو ذات کی محبت کے سمندر سے جانے کتنا دور چلی جائے گی..اور اسے یہ خوف جائز لگتا تھا..نانی ہی تو تھیں جن سے وہ بلا جھجک کچھ بھی پوچھ لیتی تھی..انکے بعد سے اس نے دل میں آنا والی ہر الجھن صرف اپنی ڈارئری میں راز کی طرح محفوظ کر لی تھی.. اور اب ایک انسان کا خیال جس کے خواہش بننے کا خوف اسے راز بنا کر دل میں دفن کرنے سے بھی ڈراتا تھا..اسے وہ ڈائری میں کیسے اتارتی.. ! ذات کی محبت کے حصار سے نکل جانے کاخوف اسے وجود کی محبت کی دلدل میں اترنے سے روک لیتا تھا..اس زمانے میں جہاں ہر کوئ محبت کو فرض سمجھتا تھا،اس کا فلسفہ الگ تھا.."محبت تو پارساوءں کا کام ہے..ہم گناہگار تو روز ناجانے کتنوں کا دل توڑتے ہیں.." نانی کی یہ بات ذہن پہ مہمان بن کر بیٹھ گئ تھی..جواب چاہتی تھی وہ..دعا کرتی تھی کہ وجود کی محبت کے بہکاوے میں نہ آ جائے.. ایک رات جواب مل گیا اسے.. کسی الہام کی طرح شاید... *محبت تو ذات اور وجود کی قید سے بالاتر ایک جذبہ ہے..جس پہ کوئ پہرہ نہیں دے سکتا..وجود سے محبت کرنا گناہ نہیں..بس اس دلدل میں اتنا نہ دھنسنا کہ ذات کی محبت کا سمندر ساحل پر دے مارے۔



All I crave now a days is Faith like my mother

All I crave now a days is Faith like my mother

She is the one who can stand firm in a strom by having endless belief that it'll end soon even if there'snt any way.

She always says "Allah py chor diya h to fikr kesi wo rasta bna dy ga" 
Yes this is what all i want!.


شکر اور اطمینان قلب


شکر اور اطمینان قلب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں    یہ ہو ہی نہیں سکتا   کہ آپ دل سے اللہ کی  دی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار ہوں اور بے چین بھی ہو ں۔  جب آپ دل سے اس بات کو مان لیتے ہیں   کہ جو کچھ میرے پاس ہے میں اس کا حقدار نہیں تھا   لیکن پھر بھی اللہ تعالی نے مجھے ان نعمتوں سے نوازا ہے تو پھر آپ فورا اللہ کے سامنے سجدہ میں گر جاتے ہیں  ہیں اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس شکر ادا کرنے سے دل کو جو سکون ملتا ہے وہ سکون دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں مل سکتا 


  آپ بے چین تب ہی  ہوتے ہیں جب آپ سوچتے ہیں کہ مجھے میرے حق سے کم ملا ہے حلانکہ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے اس کے حق سے کم ملا ہو ہر انسان ہر چیز کو اس کے حق سے زیادہ ہی ملا ہے تو پھر کیوں ہم اللہ کا شکر ادا کر کے اطمینان قلب حاصل کرنے کے مقام پر اعتراضات کر کے بے چینیاں سمیٹ رہےہیں