Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

میں نے اس دُنیا و جہاں میں گویا اِک ایک دل کھنگالا تھا۔۔۔

میں نے اس دُنیا و جہاں میں گویا اِک ایک دل کھنگالا تھا۔۔۔ لیکن کسی بھی دل میں مجهے اپنی مُحبت نہیں ملی۔ 


کہہ دوں گا پروردگار سے کہ اب بِن مُحبت میں کیا جیتا؟ کہہ دوں گا کہ پروردگارا سُن۔۔۔ میری یہ خودکشی حلال تھی۔


وہ پوچھ بیٹھا تھا کیا لائے ہو مری خاطر

وہ پوچھ بیٹھا تھا کیا لائے ہو مری خاطر
تو جھٹ سے ساری محبت نکال لی میں نے.. 


اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا
یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارا، تو میں تمہارا
غرور پرور، انا کا مالک، کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا ، تو میں تمہارا
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو، میں جیسے چاہے لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے، اگر میں ہارا ، تو میں تمہارا
تمہارا عاشق، تمہارا مخلص، تمہارا ساتھی، تمہارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا ، تو میں تمہارا
تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا کوئی ٹوٹاکبھی ستارا تو میں تمہارا
یہ کس پہ تعویز کر رہے ہو؟یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے؟
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ ، تو میں تمہارا

حالات۔۔ زندگی۔۔ انسان۔۔

حالات۔۔
زندگی۔۔
انسان۔۔
دنیامجھےکبھی بھی پرسکون نہیں لگی۔۔
عجیب سی بےچینی ہے۔۔
اس دنیا میں۔۔
وہ ملا نہیں۔۔
وہ ہوا نہیں۔۔
وہ رہا نہیں۔۔
وہ پلٹا نہیں۔۔!!!
ہر محبت ہر رشتہ توڑ کر رکھ دیتا ہے۔۔
سب کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں اور یوں انداز بدل بدل کر ہمیں مارا جاتا ہے۔۔
عجیب سی تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔۔
ذہنی تھکاوٹ۔۔
بس ایک اللہ کی محبت ہے❤
جس میں سکون ہے۔۔
میری ہر امید کا آخری دروازہ وہ ہے۔۔
یہ سارا عالم تھکاوٹ ہے...
میرے سکون کا ذریعہ بس ایک وہ ہے..!


وہ واحد شخص تھا جس کے لیے

وہ واحد شخص تھا جس کے لیے
ہم نے خود کو سنوارا بھی اور بگاڑا بھی


زندگی! تُو اپنا پتہ تو بتا!

زندگی!
تُو اپنا پتہ تو بتا!
ہم بنفشی پھولوں کے ہمراہ
ایک خط تِرے نام ارسال کریں گے

تِری رعنائی بحال کریں گے!💜



لکھو کہ شہزادی تاشہ بنت مراد ملاکہ کی سب سے حسین شہزادی تھی۔

"لکھو کہ شہزادی تاشہ بنت مراد ملاکہ کی سب سے حسین شہزادی تھی۔۔ اتنی حسین کہ لوگ دیکھتے رہ جاتے، آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔ شہر کے سارے رئیس اس پہ جان دیتے۔۔اور۔۔"

"اللہ کو جان دینی ہے میں نے چے تالیہ۔" ایڈم نے دونوں کان چھوۓ۔
"اتنا جھوٹ؟
یا اللہ ایسی کوئی حسین بھی نہیں ہیں آپ اتنا زیور اور کامدار کپڑے کسی کو بھی پہنا دیں تو وہ خوبصورت لگے۔"

"اچھا تم بھی پہن لو تو خوبصورت لگو گے؟؟"



ارے کہا نا صاحبو !

ارے کہا نا صاحبو !

وہ اک عام لڑکی نہیں ہے
وہ خود میں اک الگ دنیا ہے
وہ " حرف متضاد " ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺟﺐ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ

ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺟﺐ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﭘﮕﮉﻧﮉﯼ ﭘﺮ ﭘﯿﻠﮯ ﭘﺘﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﭘﯿﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﮯ، ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﺑﮭﯿﻨﯽ ﺑﮭﯿﻨﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻢ ﮐﻮ، ﮨﺮ ﺍﮎ ﮔﺎﻡ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﮔﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﻮ، ﺑﺮﻑ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ ﺳﺪﮬﺎﺭﮮ ﮔﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﺻﺪﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﮑﮯ
ﺟﺐ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻨﮑﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺑﺎﺭﺵ، ﻣﺴﮑﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺗﯽ، ﭘﺘﮭﺮ ﭘﺮ ﺟﺐ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺑﻮﻧﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﮬﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﮬﺎﺭﮮ ﺟﻮﮌﮮ ﮔﯽ ﮔﺮﻡ ﮔﺮﻡ، ﺍﻧﮕﺎﺭﻭﮞ ﺟﯿﺴﮯ، ﺁﻧﺴﻮ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺍﺑﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﺭﻣﺎﮞ، ﺍﮎ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺐ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ، ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ ﭼﮭﻨﮑﯿﮟ ﮔﮯ ﺻﺮﻑ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﮔﻮﻧﺠﮯ ﮔﯽ ﺗﺐ؟
ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ
ﮐﮭﮍﮐﯽ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﯾﻠﯽ ﺭﻡ ﺟﮭﻢ ﮐﯽ
ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ
ﻋﮑﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺟﮭﻮﻟﮯ ﮔﺎ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﻟﻤﺲ ﭨﭩﻮﻟﮯ ﮔﺎ
ﮔﮭﻮﺭ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﭼُﮭﻮ ﻟﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ، ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮔﯿﺖ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ، ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ، ﺑﻮﺭ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﭘﻞ ﺷﺐ ﮐﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺷﺎﺩ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺑﻮﻟﻮ۔۔۔۔۔ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭ گے


میں زیادہ دُکھی نہیں ہوں

میں زیادہ دُکھی نہیں ہوں

میں نے دیکھا
نم کی کمی 
اور جوان ہونے کی بے چینی میں مبتلا
ننھے پودے کا غم
جو مجھ سے زیادہ دُکھی تھا
ایک غم نے میری بساط پہ جگہ بنا لی

میں نے دیکھے
غیر یقینی کے پرندے ہمہ وقت 
تمہارے کاندھوں پہ بیٹھے ہوۓ
تمہارے چہرے پہ 
پھڑپھڑاتے ہوۓ گمان کو
اور یقین کو پچھلے دروازے سے
باہر جھانکتے ہوۓ 
میں سہم گیا یہ دیکھ کر
ایک غم سرکتے ہوۓ
میرے قریب آ گیا

میں نے تمہارے آنسوؤں کے ذائقے کو یاد کیا 
برف پہ بکھرے نمک پہ 
ننگے پاؤں چلتے ہوۓ
تو میرا دکھ فٹ پاتھ کی برف پہ 
دراز ہو گیا
میں اس مرتبہ 
زیادہ دُکھی ہونے سے بچ گیا

میں دُکھی ہو گیا 
اس پھول کو دیکھ کر
جو باغ کے آخری کونے میں کھلا 
اور جس پہ کسی کا دھیان ہی نہیں گیا
آخر آج صبح احتجاجاً اس نے
اپنی پتیاں گرا دیں

مگر میں زیادہ دُکھی نہیں ہوا 
قلم پکڑنے والے ہاتھوں میں
لرزش دیکھ کر
سواۓ اس وقت کے
جب میرے قرطاسِ دل پہ 
یقین کی انمٹ سرخی سےلکھ دیا گیا
"یہ داغ مستقل ہے"
اور فائل ہمیشہ کے لئے بند کر دی گئی❤️