Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Pages

اپنے آپ پر اکتفاء کرنا سیکھیں ، تاکہ نہ ہی آپکو کسی کا ساتھ نقصان پہنچاۓ اور نہ


تعلّموا الإكتفاء بأنفسكم .. كي لا ينقصكم قرب أحد أو يؤلمكم بعدہ

 ♥️

( اپنے آپ پر اکتفاء کرنا سیکھیں ، تاکہ نہ ہی آپکو کسی کا ساتھ نقصان پہنچاۓ اور نہ ہی کسی کی جدائ آپ کو تکلیف میں مبتلا کرے 

❤️



بنا پروں کے تو تتلی بھی مر سکتی ہے


 بنا پروں کے تو تتلی بھی مر سکتی ہے 

پنچھی اڑنا بھول جاتے ہیں 

تم کیسے امید لگا سکتے ہو کہ میں بنا پر 

ہواٶں میں اڑتی پھروں۔

مگر ہاں میں اڑنے لگتی ہوں میرے اردگرد بادلوں 

کا ہجوم لگا ہوتا ہے ۔ہواٸیں مجھے آسمان کا باسی 

بنا دیتی ہیں ۔اور میں ہواٶں کے ساتھ رقصاں ہوتی ہوں۔

تم میرے وہ خوش رنگ" پر" ہو جو مجھے

پل میں کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتے ہیں ۔زمین سے آسمان تک رساٸ ہونے لگتی ہیں ۔آسمان سے اٹکیلیاں کرنے بادلوں کو چھونے لگتی ہوں ۔

دھنک کے رنگوں میں اترنے لگتی ہوں۔

پنچھیوں کے گیت سننے لگتی ہوں ۔

مگر یہ" پر" میرے وجود کا حصہ نہ رہیں تو شاید

بن پر تتلی کی مانند کوٸ وجود باقی نہ رہ 

پاۓ گا ۔

ہاں میری اڑان کے لیے تمھارا ساتھ ہونا ہی اٹل ہے ۔



وہ نظم جو تمھارے وجود سے جڑی



 وہ نظم جو تمھارے وجود سے جڑی 

تکمیل کے مراحل میں تھی 

اب کے لگتا ہے کہ ادھوری ہی رہ جاۓ گی 

کہ اسکو میرا بخت لے ڈوبا 

وہ بھی وقت کے پنوں میں کسی کباڑ خانے 

کے کسی سیلن زدہ حصے میں دھری 

اپنی آخری سانسیں بھرتی کتابوں کے ملبے میں 

بے سدھ پڑی ملے گی 

دیکھو نا اب کے تمھاری خواہش بھی ادھوری رہ گٸ کہ میری لکھی نظمیں کسی کتب خانے میں شیشے کے اس پار خوبصورتی سے 

سجاٸ کتابوں کے بیچ شان سے دھری ہوٸی ملیں  

اور جب کبھی تمھارا گزر ہو ، گلاس ونڈو کے اس پار تمھاری غیرارادی نظر پڑتے ہی 

میرے نام کے وہ  مختصر حروف تھمارے لبوں 

پر انمول سی مسکان کو بکھیر چھوڑیں 

مگر کیا کی جۓ 

کچھ چیزیں نامکمل ہی بھلی لگتی ہیں 

اور ان میں سرِفہرست میری تمھارے لیے لکھی گٸیں وہ چند " نظمیں " ہیں 



اور پتا ہے خوبصورتی کی معیاد کتنی ہوتی ہے؟



 اور پتا ہے خوبصورتی  کی معیاد کتنی ہوتی ہے؟

گنتی کے محض  چند برس 

وہ مدت جس میں کوٸ حسین چہرہ اپنی پوری آب و تاب سے

عروج کی بلندیوں پر اڑتا پھرتا ہے ۔

 نزاکتوں کا پیکر

حسرت بھری نگاہوں کا اسیر 

دیکھنے والے نظر بھر کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

جسے دیکھ کر وقت تھم جاۓ  نگاہیں پلٹنا بھول جاٸیں

مگر۔۔۔  ۔۔آخر کب تک ؟؟

جب چہرے پر گزرتے وقت کی کڑی چھاپ درج 

ہوتی چلی  جاتی ہے تو  بدنما جھریوں کی صورت دکھنے لگتی ہے ۔

تو رونق رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگتی ہے 

وجود کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے 

اور وہی حُسن کا وقتِ زوال  شروع ہوتا ہے 

پھر نہ   کوٸ آب و تاب باقی رہتی ہے  نہ اٹھتی نگاہیں

نہ کشش ۔نہ ہجوم ۔نہ عروج ۔ نہ ہی وقت

تو یہ طے ہوا کہ حسن اتنی بڑی دلیل نہیں 

جس کے تاقب میں اک عمر لٹا دی  جاۓ



روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے



روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ھے
زندگی کے رستے میں
بچھنے والے کانٹوں کو
راہ سے ہٹانے میں
ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں
خوشبوئیں پکڑنے میں
گلستاں سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ھیں


اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ھیں
کیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ھیں
درگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ھیں
صبر کے سمندر میں
کشتیاں چلاتے ھیں


یہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی خواہش کا
کچھ صلہ نہیں ملتا
مرنے والی آسوں کا
خون بہا نہیں ملتا


زندگی کے دامن میں
جس قدر بھی خوشیاں ھیں
سب ھی ھاتھ آتی ھیں
سب ھی مل بھی جاتی ھیں
وقت پر نہیں ملتیں


یعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ھے
لیکن اس طرح جیسے
قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے
اصل جو عبارت ھو
پسِ نوشت ھو جائے


فصلِ گُل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ھیں
ان کے صحنوں میں سورج
دیر سے نکلتے ھیں!







I was cleaning my drawer earlier today & I realized something…I have very few things left now which are really important for me


 I was cleaning my drawer earlier today & I realized something…I have very few things left now which are really important for me.I have got rid of all the cluster of things which are of no use for me.🤷



May be these are Side effects of the Growing Age.We start becoming somehow organized once we hit maturity.We start giving values to the Things that really Meant for us and not the things that are expensive ones.We try to get rid of the useless cluster and keep only the most Needed and the close to our heart things.And






it’s the fact that the things which are close to our heart are not necessarily expensive.Mostly these are the very much cheaply costed but the emotions and the memories attached with them make them The Most Valuables.🌟


That’s how we all grow up…💫✨
That’s how we get rid of all the useless cluster and keep Only the Real Ones…✨💫



Thoughts have no control they can take you anywhere and to anyone.

 



Thoughts have no control

 they can take you anywhere and to anyone. Drowned in her escape world she talks to her a better and perfect version of herself.  Sharing every whisper, comment, argument, and insecurity she escapes from her world. She was not always like that something happened to change her world upside down. She was a young beautiful and independent one. Perhaps this trial made her caged and grumpy She was deprived of something which was god_ gifted and lies outside of man’s power. ‘Nature decides whom to bless and whom to deprive. These are only trials to find the best. These do not mark superiority over the rest and will be questionable on a great day.  The deprived one can do only to be submissive and content. The god has surely planned something better and worthy', she murmured. 


She was the deprived one and she could not buy this gift. She was powerless and timid. She kept on asking for this in her prayers and was patiently waiting for a miracle. She tried everything and every effort. She was not responsible for this. how could she be? She bore every condemnation and evil and these kept on rewinding in her mind.  
She often thinks about Zakariya AS when his lord blessed him with a son while he was in extreme old age and his wife was barren… 


she has a firm belief in miracles and was hoping for one in her life. She wished her husband and relatives could understand and pray patiently. But this was not happening. She was held responsible for not conceiving a child and forced to cage in her boundary…


she always thinks and often escapes her present and dwells in thoughts where she talks to herself each and every time.



ہم کبھی کبھی کسی کو اسقدر میسر آ جاتے ہیں



 ہم کبھی کبھی کسی کو اسقدر میسر آ جاتے ہیں

 کہ خود کو بھول جاتے ہیں 
خود مر جاتے ہیں انکا خیال کرتے کرتے
 جینا بھول جاتے ہیں
 انکا مداوا کرتے کرتے انکو میسر آتے آتے خود فنا ہو جاتے ہیں  اور
 آپکے لمحے کو بھی وہ میسر نہ ہوں آنکھیں انتظار میں پتھر ہو جاتی ہیں امید کے جگنو ڈوبنے کو ہوں...
 اس اذیت کا کیسے اندازہ ہو سکتا ہے؟؟؟
 کے جس پہ اندھا  اعتماد کیا جاتا ہے وہ  واقعی آپکو اندھا ثابت کر دے..  
   بیچ راہ پہ لا کے چھوڑ جائے
 دل سے جینے کی رمق بھی ختم ہو جاتی ہے ..اور پھر بس ہم دوائیوں کے سہارے سانس لے رہے ہوتے ہیں...
انکی خوشی اور سکون کا تاوان خود کو قربان کر کے ادا کر جاتے  ہیں.


اندھیرے میں سمت کا پتا نہیں چلتا مگر آسمان اور زمین کا پتا ضرور چل جاتا ہے۔



اندھیرے میں سمت کا پتا نہیں چلتا مگر آسمان اور زمین کا پتا ضرور چل جاتا ہے۔ بلکہ ہر حال میں چلتا ہے۔ سر اُٹھانے پر آسمان ہی ہوتا ہے نظر آئے نہ آئے۔ سر جُھکانے پر زمین ہی ہوتی ہے دکھائی دے نہ دے مگر زندگی میں سفر کرنے کے لیئے صرف چار سمتوں ہی کی ضرورت پڑتی ہے۔  دائیں, بائیں, آگے, پیچھے, پانچویں سمت پاؤں کے نیچے ہوتی ہے وہاں زمین نہ ہو تو پاتال آ جاتا ہے۔ پاتال میں پہنچنے کے بعد کسی سمت کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔

چھٹی سمت سر سے اوپر ہوتی ہے وہاں جایا ہی نہیں جا سکتا۔ وہاں اللہ ہوتا ہے۔ آنکھوں سے نظر نہ آنے والا مگر دل کی ہر دھڑکن, خون کی ہر گردش, ہر آنے جانے والے سانس, حلق سے اُترتے ہر نوالے کے ساتھ محسوس ہونے والا____💙




میں زیادہ دُکھی نہیں ہوں


میں زیادہ دُکھی نہیں ہوں

میں نے دیکھا
نم کی کمی 
اور جوان ہونے کی بے چینی میں مبتلا
ننھے پودے کا غم
جو مجھ سے زیادہ دُکھی تھا
ایک غم نے میری بساط پہ جگہ بنا لی

میں نے دیکھے
غیر یقینی کے پرندے ہمہ وقت 
تمہارے کاندھوں پہ بیٹھے ہوۓ
تمہارے چہرے پہ 
پھڑپھڑاتے ہوۓ گمان کو
اور یقین کو پچھلے دروازے سے
باہر جھانکتے ہوۓ 
میں سہم گیا یہ دیکھ کر
ایک غم سرکتے ہوۓ
میرے قریب آ گیا

میں نے تمہارے آنسوؤں کے ذائقے کو یاد کیا 
برف پہ بکھرے نمک پہ 
ننگے پاؤں چلتے ہوۓ
تو میرا دکھ فٹ پاتھ کی برف پہ 
دراز ہو گیا
میں اس مرتبہ 
زیادہ دُکھی ہونے سے بچ گیا

میں دُکھی ہو گیا 
اس پھول کو دیکھ کر
جو باغ کے آخری کونے میں کھلا 
اور جس پہ کسی کا دھیان ہی نہیں گیا
آخر آج صبح احتجاجاً اس نے
اپنی پتیاں گرا دیں

مگر میں زیادہ دُکھی نہیں ہوا 
قلم پکڑنے والے ہاتھوں میں
لرزش دیکھ کر
سواۓ اس وقت کے
جب میرے قرطاسِ دل پہ 
یقین کی انمٹ سرخی سےلکھ دیا گیا
“یہ داغ مستقل ہے”
اور فائل ہمیشہ کے لئے بند کر دی گئی❤️