اور تم کہتے تھے میں اچھی ہوں تو بری زیادہ ہوں تو سنو میرے شیطان اور خدا دونوں سے اچھے مراسم ہیں
با وقت ضرورت دونوں میرے کام آتے ہیں
ہاں میں ایسی ہوں
بلکل زہر جیسی ہوں
🔥
Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.
Looking for something?
اور تم کہتے تھے میں اچھی ہوں تو بری زیادہ ہوں تو سنو میرے شیطان اور خدا دونوں سے اچھے مراسم ہیں
با وقت ضرورت دونوں میرے کام آتے ہیں
ہاں میں ایسی ہوں
بلکل زہر جیسی ہوں
🔥
میں اپنی ساری غلطیاں اور کوتاہیاں بس ایک پانی کے گلاس سے پہچانتی ہوں۔۔ آپ سوچ رہے ہونگے وہ کیسے؟؟؟ پانی کا گلاس بولتا تھوڑی ہے؟؟؟ تو اصل میں جب ہم سب بہت چھوٹے تھے ناں تو بابا بولتے تھے کہ جب بھی پانی پیو شہدائے کربلا ع کو ضرور یاد کرنا ایک بار چھ ماہ کے سہ روزہ پیاسے ع کو ضرور یاد کرنا اور اس چار سالہ پیاسی بچی ع کو بھی جو اپنے چھے ماہ کے بھائی کے لیئے چھوٹا سا کٹوارا ہاتھ میں اٹھائے خیموں کے چکر لگاتی رہیں کہ کہیں سے گھونٹ پانی مل جائے تو جو پانی پیتے وقت کربلا کہ پیاس یاد ائے تو مطلب دل مومن ہے ابھی ❤️ اور اگر نہ یاد ائے تو مطلب گناہ کی کالک نے دل داغدار کر دیا 🖤 میرے لیئے اللہ جی نے سب کچھ بہت آسان کر کے بھیجا مجھے ٹھوکر کے بعد احساس ہونے سے پہلے ہی ادراک ہوجاتا ہے اپنے گناہوں کا غلطیوں کا اور زیادتیوں کا۔۔۔۔۔ اللہ جی جانتے ہیں ناں میں بہت کم ہمت ہوں چھوٹے سے دل کی ہوں بڑی بڑی باتیں سمجھ نہیں آتیں تو میرے خیال کو بس ایک پانی کے گلاس تک محدود کردیا
الحمد للّہ ❤️❤️❤️اللہ جی آپ کا ہر حال میں شکر ہے
خدایا! آج کے دن میرے حصہ کو زیادہ قرار دینا اور نیکیوں کے لیے میرے راستہ کو آسان بنا دینا, مجھے ان کی قبولیت سے محروم نہ رکھنا اے نمایاں حق کی طرف ہدایت کرنے والے
...!!! 💕
ٹھہرے پانیوں کا دکھ جانتے ہو کیا ہوتا ہے؟؟
وہ خود کو آلودہ ہونے سے بچا نہیں پاتے
اندر ہی اندر کٸ کثافتیں اسکو گدلا کرنے میں
سرگرم رہتی ہیں
دکھ کی بات ہے ناں
کوٸ وجود خود کو آہستہ آہستہ ختم ہوتا دیکھتا رہے
اندر ہی اندر دیمک لگی لکڑی کی طرح گلتا سڑتا رہے
وہ فقط اپاہج کی طرح تماشاٸ بنا دور سے دیکھتا رہے
دکھ تو ٹھہرے پانی کو بھی گزرتا ہو گا
جب کاٸ کی موٹی تہہ اسکو بد رنگ اور بدصورت
بنا چھوڑتی ہوگی
جب سورج کی کرنوں کا داخلہ رفتہ رفتہ ممنوع
ہوا چاہتا ہوگا ۔
جب آبی حیات وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور
ہوجاتی ہوگی
یا اس گھٹن میں ہی دم ٹوٹ جاتا ہوگا اور اس وجود کا
مدفن بھی وہی پانی ٹھہرتا ہوگا
اندر کے حبس اور گھٹن زدہ ماحول کے ساتھ اسے
اپنی بقا کے لیے لڑتے لڑتے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہوں گے
کاٸ کی رنگار تہیں (algal blooms) دیکھنے والوں کوایک لمحے کے لیے خوشنما ضرور لگتی ہوںگی مگر قفط بعید
ظاہری دیکھنے پر پرسکون یاسیت سے بھرا
مگر غور کرنے پر ایک داستان لیے ہوۓ
کون اس پانی کے قریب بھٹکتا ہے پھر
کوٸ بھی نہیں
غور کرنے کی بات ہے ناں
ہاں تضاد ہوا ناں پھر ٹھہرے پانیوں کے دکھ میں
اور آنکھوں میں ٹھہرے دکھ لیے لوگوں میں
مگر کون سمجھے ۔
وہ جانتا ہے تم تکلیف میں ہو
اسے معلوم ہے لوگوں کی باتوں سے تمہیں ازیت ہوتی ہے
تمہاری انکہی باتیں تمہاری ادھوری دعائیں وہ سب سن رہا ہے دیکھ رہا ہے. ممکن ہے اب کے رمضان تمہاری ادھوری دعاوں پر وہ کن کہہ دے. ممکن ہے تمہاری آزمائش کا وقت اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہو بس کامل یقین رکھو
اگر تم اللہ کی محبت کی لاج رکھو گے تو وہ تمہاری زندگی میں وہی لوگ داخل کرے گا جو تمہاری محبت کے قابل ہوں گے۔۔
تمھاری پرچھاٸ کے تعاقب میں
میں نے وہ گلیاں چن لیں جو بھول بھلیوں
کی جانب گامزن تھیں
تمھارے تعاقب میں نے رستوں کے کانٹوں کو
اپنی ایڑیوں کی نوک پر رکھا
جو میرے تلوٶں میں پیوست ہوگۓ
میں اک بھنور میں ہی گھومتی رہی جس کا کوٸ
مرکز ہی نہ تھا
تمھاری حسرت مجھے پنکھ لگا کر جانے کہاں سے کہاں
لے گٸ ۔
میں نے ہر اس شے میں تمہیں کھوجا جس پر مجھے
ذرا سا بھی گمان گزرا ہو کہ
تمھارے نقش ۔۔تمھاری پرچھاٸ شاید ہی وہاں
پڑی ہو ۔
اور میں ہاتھ بڑھا کر تھام لوں اسے
مگر وہ
محض مدار تھا کہیں ختم ہی نہیں ہو پایا
ان راستوں کی ویرانیوں نے مجھے دور کہیں
اندھیروں میں لا پٹخا۔
تم کہیں نہیں ملی فقط رستے کی دھول سے چہرے کی
رنگت مزید ذرد پڑ گٸ۔
قصوروار ہرگز تم نہیں اے زندگی !!
وہ لڑکی ہی اک" سیارہ "ٹھہری
جس کی قسمت میں مدار کے گرد گردش کرنا تھا
ہاں وہ ایک سیارہ ہے ۔۔
زرد ۔۔ دھول سے اٹا۔۔۔۔اک بےنور سا ہالہ۔۔
وہ شب کے گہرے لباس میں تھی ۔۔۔
تمام لمحوں کے سب روَئیوں کو جانتی ھے ۔۔۔
وہ سوچتی تو بہت سلیقے سے ساری اُلجھن سُلجھ سی جاتی ۔۔۔
وہ میرے ماتھے پے اپنی اُنگلی سے موت لکھتی ۔۔۔
میں مر سا جاتا ۔۔۔
وہ میرے ماتھے پے اپنی اُنگلیوں سے زندگی کو کُھرچنے لگتی ۔۔۔
میں جی سا جاتا ۔۔۔
وہ بات کرتی تو اُس کے اُونچے لفظ ۔۔۔
تِتلیوں کی طرح اُڑنے لگتے ۔۔۔
میں تِتلیوں کو پکڑنے لگتا۔۔۔
وہ اپنے اندر ھزار موسم ھزار رنگ ھزار خوشبو لئے ھوئے ھے ۔۔۔۔
مگر بظاھر وہ اپنے لہجے کو اپنے چہرے کو ۔۔۔
اپنی آنکھوں کو اپنے ھاتھوں کو عام لوگوں کی طرح سے رکھتی ۔۔۔
وہ شب زدہ سی عجیب لڑکی۔۔۔
وہ جب شرارت میں مجھ سے کوئی مذاق کرتی ۔۔۔
میں اپنے اندر خوبصورت سا ھونے لگتا ۔۔۔
وہ اپنی چھوٹی سے عمر میں بھی ۔۔۔
بہت سلیقے سے جی رھی ھے ۔۔۔
بہت تسلی سے جی رھی ھے ۔۔۔
کبھی وہ باتوں کو خود بڑھاتی ۔۔۔
کبھی وہ چہرہ دراز کر کے ۔۔۔
مجھے یہ کہتی پڑھو نا مجھ کو ۔۔۔
عجیب لڑکی ۔۔۔۔
کبھی تو اتنی عجیب ھوتی۔۔۔۔
ذرا سی باتوں پے روٹھ جاتی ۔۔۔
کبھی وہ مجھ کو اپنی دراز فہرست سے کاٹ دیتی ۔۔۔
کبھی وہ مجھ پے نثار ہو کر برسنے لگتی .... برستی رہتی ۔۔۔۔
میری جُدائی میں ناخنوں کو کُترنے لگتی ۔۔۔۔
کُترتی رھتی ۔۔۔۔
یہ ساری باتیں بَجا ہیں لیکن۔۔۔۔
وہ شب زدہ سی عجیب لڑکی۔۔۔۔
کبھی جو ڈرتی تو اتنا ڈرتی ۔۔۔۔
کہ اپنے سائے سے ڈر کے گِرتی ۔۔۔۔
پھر اُسکی آنکھوں سے گِرتے آنسو ۔۔۔۔
اُسے یہ کہتے کہ ڈوب جاؤ ۔۔۔۔
وہ ڈوب جاتی ۔۔۔۔۔
پھر اپنی عادت پے ہنسنے لگتی ۔۔۔۔
عجیب لڑکی ۔۔۔
نجانے اب وہ کہاں پے ھو گی ۔۔۔۔
وہ شب زدہ سی عجیب لڑکی ۔۔۔۔